رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 14 از 17

8: حضرت اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب جب تک اللہ چاہتا کہ وہ نماز پڑھیں وہ نماز پڑھتے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوتی تو اپنے اہل کو نماز کے لیے بیدار کرتے پھر ان سے کہتے الصلوٰة اور یہ آیت پڑھتے۔ وامر اهلك بالصلوٰۃ والعاقبة للتقوى تك (اخرجه مالك والبیہقی)

9: حضرت عبداللہ بن شداد نے فرمایا۔ میں نے صبح کی نماز میں حضرت عمرؓ کے رونے کی آواز سنی میں آخری صف میں تھا۔ آپ سورہ یوسف پڑھتے تھے اور اس آیت پر پہنچے انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ۔ میں تو صرف اللہ سے اپنے حزن و غم کی شکایت کرتا ہوں۔ (عبد الرزاق و ابن ابی شیبه)

10- حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمرؓ کے بچھے نماز پڑھی تو میں نے ان کے رونے کی آواز تین صفوں کے پیچھے سے سن لی۔ (ابو نعیم فی الحلیہ)

11: حضرت عثمانؓ تو گویا رئیس العابدین تھے بروایت ابنِ عمرؓ آیت امن هو قانت اناء الليل ساجد وقائما الخ کیا وہ شخص جو رات کے اوقات میں سجدے اور قیام میں عبادت کرتا ہے کا نزول سیدنا عثمانؓ کی شان میں بیان ہو چکا ہے۔ 

(وکذا فی حلیة الاولیاء: جلد، 1 صفحہ، 56)

12: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ ان لوگوں میں سے تھے جو ایمان لائے اور اچھے اعمال بجا لائے پھر متقی رہے اور مؤمن رہے پھر تقویٰ اختیار کیا اور نیکی کی اللہ کی کرنے والو کو پسند کرتا ہے۔

(حلیۃ الاولیاء: صفحہ، 56)

13: حضرت ابنِ عمرؓ حضورﷺ سے راوی ہیں کہ حضرت عثمانؓ میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار اور شریف ہیں۔ (ایضاً)

14: نیز حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کے تین آدمی سب سے زیادہ حسین سب سے زیادہ خوش اخلاق اور سب سے بڑے حیا دار ہیں اگر آپ سے بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں گے اگر آپ ان سے بات کریں تو آپ کو نہیں جھٹلائیں گے حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیده بن الجراحؓ۔ (ایضاً)

15: زہیمہ کہتی ہیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے عمر بھر روزے رکھتے تھے اور معمولی نیند کے سوا سب رات عبادت میں کھڑے رہتے۔

16: عبد الرحمٰن تیمی کا بیان ہے میں نے ارادہ کیا کہ آج میں مقامِ ابراہیم پر قابض ہو کر عبادت کروں گا جب میں عشاء کی نماز پڑھ کر مقامِ ابراہیم پر گیا تو ایک شخص نے میرے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے فاتحہ شروع کی اور پڑھتے ہی پڑھتے سارا قرآن ختم کر دیا پھر رکوع اور سجدہ کر کے دو رکعت پوری کیں اور جوتا لے کر چلے گئے مجھے معلوم نہیں اس سے پہلے کچھ پڑھایا نہیں۔

17: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور نائلہ زوجہ عثمانؓ بلوائیوں سے فرماتی تھیں اگر تم ان کو قتل کر دیا چھوڑو بہرحال یہ ایک رکعت میں سارا قرآن پڑھتے اور پوری رات لگاتے ہیں۔ 

(حلیۃ الاولیاء: صفحہ، 56)

18: مسروق نے اشتر نخعی سے کہا تھا کیا تم نے حضرت عثمانؓ کو قتل کیا؟ ظالمو تم نے صائم الدہر اور قائم اللیل کو قتل کیا۔ (ایضاً)

19: تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 9 میں حافظ ذہبیؒ نے لکھا ہے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے تھے جو علم عمل روزہ تہجد استقامت جہاد فی سبیل اللہ اور صلہ رحمی کے جامع ہوتے ہیں اللہ روافض کا ستیا ناس کرے۔

20: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں کی شکایت کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا لوگو علیؓ کی شکایت نہ کرو بخدا وہ اللہ کی ذات میں خوب ڈرنے والے ہیں۔ 

(حلیۃ الاولیاء: صفحہ، 68)

21: امام زہری رحمۃ اللہ سیدنا زین العابدینؓ سے بروایت حضرت حسینؓ راوی ہیں میں نے سیدنا علیؓ سے سنا ہے فرماتے تھے میں اور حضرت فاطمہؓ سحری کے وقت سوئے ہوئے تھے تو حضورﷺ ہمارے پاس آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر کہا کی تم نماز تہجد نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ! ہماری جان اللہ کے قبضے میں ہے جب وہ اٹھانا چاہے تو اٹھا دیتا ہے حضورﷺ واپس ہوگئے اور جواب نہ دیا میں نے سنا کہ جاتے وقت فرماتے تھے اور ہاتھ ران پر مارتے تھے کہ انسان بڑا جھگڑالو ہے۔ 

(حلیتہ الاولیاء: صفحہ، 68)

22: حکایاتِ صحابہ: صفحہ، 69 پر ہے کہ حضرت علیؓ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب نماز کا وقت آ جاتا تو بدن میں کیکپی آجاتی اور چہرہ زرد ہو جاتا کسی نے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ فرمایا کہ اس امانت کا وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور پہاڑوں پر اتارا تو وہ اس کے تحمل سے عاجز آ گئے اور میں نے اس کا تحمل کیا ہے۔

23: ابو اسحاق ہمدانی نے بیان کیا ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب رمضان کی پہلی رات میں عبادت کے لیے نکلے قندیلیں روشن تھیں کتاب اللہ کی تلاوت کی جا رہی تھی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابنِ خطاب اللہ تیری قبر کو منور کر دے جس طرح پر کہ تو نے اللہ کی مسجدوں کو قرآن سے منور کر دیا ہے۔ 

(کذا فی الکنز: جلد، 4 صفحہ، 284)

 سخاوت میں موازنہ:

اس وصف میں بھی ہم بجا طور کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کی سخاوت و فیاضی اور ایثار مالی نہیں ہے حاتم طائی کے قصے ان کے مقابلے میں لاتے ہیں ان کی فیاضی اور زہد وہ قناعت پر ایک شیعہ عالم محقق جیلانی نے کیا خوب شہادت دی ہے۔

آنہا نفوس خود را از اموال باز داشتند وشیوه زہد در دنیا پیش گرفتند و رغبت بدنیا و زینت آنرا ترک کردند و قناعت با قلیل اکل خشن و لباس کر پاس ملک خود ساختند در حالتی کہ اموال برائے ایشا حاصل و دنیا رو کرده بود و آن را در میان قوم خود قسمت میکروند خود را بان اصلا آلود نمی کردند۔ 

(فتح السبل بحوالہ تفسیر آیات قرآنی: صفحہ، 138)

ترجمہ: تینوں خلفاء نے اپنے آپ کو مال دنیا سے علیحدہ رکھا اور دنیا میں زہد کا طریقہ اختیار کیا اور دنیا کی طرف رغبت اور اس کی زینت کو ترک کر دیا اور تھوڑی چیز پر قناعت کرنا اور موٹا کھانا اور ٹاٹ پہنا اختیار کیا جس وقت کہ مال ان کے لیے موجود تھے اور ان لوگوں پر تقسیم کر دیتے تھے اور اپنے کو اس کے ساتھ آلودہ نہ کرتے تھے۔ 

صفحہ 14 از 17