رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 15 از 17

1: ایک مرتبہ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تم میں سے آج کون روزہ سے ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا میں ہوں فرمایا کہ تم میں سے کسی نے جنازہ کو الوداع کیا ہے حضرت ابوبکرؓ نے کہا میں ہوں نے جنازہ پڑھا ہے پھر آپﷺ نے دریافت کیا کیا تم میں سے کسی نے صدقہ دیا ہے سیدنا ابوبکرؓ نے کہا میں نے صدقہ دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ سب باتیں جمع ہو جائیں وہ جنتی شخص ہے۔

2: سرورِ کائناتﷺ نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے جس قدر مجھے نفع پہنچا دوسرے کسی کے مال سے نہیں پہنچا۔ (صحیحین)

3: بخاری و مسلم میں روایت کیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا صحبت اور رفاقت اور اتفاق مال کے اعتبار سے حضرت ابوبکرؓ میرے سب سے بڑے محسن ہیں اور اگر میں کسی کو سوائے اللہ کے مقام خلت سے نوازتا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بتاتا لیکن اسلامی اخوت و ثبت قائم ہے مسجدِ نبوی کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں بند کر دی جائیں مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کھلی رہے۔ (صفحہ، 653)

4: ترمذی و ابو داؤد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا میرے پاس ان دنوں مال کافی تھا میں نے کہا آج میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا چنانچہ میں نے آدھا مال لاکر حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا حضورﷺ نے پوچھا بال بچوں کے لیے کیا باقی چھوڑا میں نے کہا اس کے برابر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھر کا تمام اثاثہ لے آئے آپﷺ نے ان سے پوچھا گھر میں کیا باقی چھوڑا؟ عرض کیا خدا اور رسول کا نام۔

پروانے کو شمع ہے بلبل کو پھول ہیں

صدیق کے لیے ہے خدا اور رسول بس

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے بعد میں کبھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقابلہ نہیں کروں گا۔ 

5: ابنِ عساکر حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ جس دن ایمان لائے تو 40 ہزار دینار یا دراہم کے مالک تھا وہ سب رسول اللہﷺ پر اور غلاموں کے آزاد کرانے پر خروج کر دیئے سیدنا ابنِ عمرؓ بھی کہتے ہیں کہ اسلام کے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے جب ہجرت الی المدینہ کی تو صرف پانچ ہزار تھے جو سب ساتھ لے لیے تھے اور یہ سب مال غلاموں کو آزاد کرانے اور خدمتِ اسلام میں صرف کیے۔ 

6: ابنِ عساکر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ نے سات وہ غلام آزاد کرائے جو سب اللہ کے راستے میں عذاب پاتے تھے۔ 

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 38) 

حضرت بلالؓ وغیرہ کی آزادی کا ذکر حیات القلوب، کشف الغمہ وغیرہ کتب شیعہ میں بھی ہے۔

7: ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہمارے ذمہ کسی کا احسان نہیں ہے مگر ہم اس کا بدلہ اتار چکے ہیں سوائے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ان کا ہم پر احسان ایسا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن دیں گے مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہ دیا جتنا صدیقِ اکبرؓ کے مال نے۔ (ایضاً صفحہ 38)

8: حضرت اسماءؓ کا بیان ہے کہ ہجرت کی رات 5، 6 ہزار درہم کا تمام مال آپ لے کر مدینہ چلے گئے میں نے اس کی جگہ پتھر رکھ دیا اور دادا جان کا ہاتھ لگوا کر تسلی دی وہ خوش ہوئے کہ تمہارے لیے خرچ چھوڑ گئے حالانکہ آپ سب کچھ ساتھ لے لے گئے تھے۔ 

(حیات الصحابہ: صفحہ، 184 از ابنِ اسحاق)

9: فتح مکہ سے پہلے بھی ایک دفعہ 4 ہزارہ کا سب مال حضورﷺ پر خرچ کر دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بواسطہ پیغمبرﷺ آپؓ کو اللہ کا سلام پہنچایا اور یہ کہ آپ اس فقر پر راضی ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں راضی ہوں۔ 

(ابو نعیم فی حلیہ: جلد، 7 صفحہ، 105)

10: عمیر بن سلمہ ددںٔلی کا بیان ہے کہ حضرت فاروقِ اعظمؓ کے پاس ایک دیہاتی عورت آئی اپنی مسکنت اور بچوں کا اظہار کیا آپؓ نے آٹا سے بھری ہوئی بوری اور تیل اس کو دیا پھر فرمایا ہم سے خیبر میں ملنا چنانچہ وہ خیبر میں ملی تو آپؓ نے دو بوری اور منگوا کر دیں۔

(حیات الصحابه: جلد، 2 صفحہ، 190)

11: اسلم مولیٰ عمرؓ فرماتے ہیں بازار میں سیدنا عمرؓ کو ایک نوجوان چھوٹے بچوں والی بیوہ عورت ملی کچھ دیر گفتگو کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر گئے اپنے مضبوط پیٹھ والے اونٹ پر دو بڑے بڑے تھیلے غلے کے بھر کر لادے اور ان کے بیچ میں اور سامانِ خرچ اور کپڑا رکھا پھر اس کی نکیل عورت کے ہاتھ میں پکڑا کر فرمایا اس کھینچ لے جا ختم نہ ہو پائے گا کہ اللہ تعالیٰ اور بھیج دے گا زیادہ دینے پر ایک شخص نے تعجب کا اظہار کیا تو فرمایا اس کا باپ حدیبیہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا خدا کی قسم میں نے اس عورت کے بھائی اور باپ کو دیکھا جنہوں نے ایک قلعہ کا عرصہ تک محاصرہ کیا پھر ہم لوگوں نے اس قلعہ کو فتح کیا۔ 

(حیاۃ الصحابہ: جلد، 2 صفحہ، 191 بخاری و بہیقی)

12: حضرت اسلم مولیٰ عمرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد زیادہ پختہ کار اور فیاض و سخی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر نہیں پایا۔ (بخاری: صفحہ، 521)

13: امیر المومنینؓ ایک دفعہ رات کو شہر کی چوکیداری کر رہے تھے ایک جگہ معلوم ہوا کہ ایک عورت حالت زچگی میں کراہ رہی ہے فوراً گھر آئے اپنی اہلیہ حضرت امِ کلثوم بنتِ فاطمہ و علی رضی اللہ عنہم کو ساتھ لیا اور تیل گڑ گھی غلہ وغیرہ بھی ساتھ لے لیا سیدہ امِ کلثومؓ نے زچہ و بچہ کو سنبھالا اور آپ نے ہانڈی میں کھانا تیار کیا جب حضرت امِ کلثومؓ سے بچہ پیدا ہونے کی بشارت سنی تو بہت خوش ہوئے سب کو کھلا پلا کر گھر واپس ہوئے تو مالکِ خانہ سے فرمایا کل آنا تمہارے لیے مستقل وظیفہ کا بندوبست کیا جائے گا۔ 

(حکایات صحابہ' صفحہ، 85)

صفحہ 15 از 17