رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 16 از 17

14: حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ جیش عسرہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے سات سو اوقیہ سونا دیا ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے سواریوں سے کے متعلق حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ نے ایک ہزار سواریاں دی تھیں جس میں پچاس گھوڑے تھے باقی اونٹ حسن کی روایت ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے ساٹھ سے نو صد اونٹ اور پچاس گھوڑے دیئے یا راوی نے اس طرح کہا 570 اونٹ اور تیس گھوڑے غزوہِ تبوک میں دیئے۔ (کذا فی المنتخب: جلد، 5 صفحہ، 13)

15: حیات الصحابہ: جلد، 2 صفحہ، 186 پر ہے کہ حضرت عثمانؓ نے لشکر 30 ہزار کے تہائی سامان کا غزوہِ تبوک میں خرچ برداشت کیا تھا یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ لشکر والوں کی کوئی حاجت باقی نہ رہی جو انہوں نے پوری نہ کر دی ہو اسی صفحہ پر حضرت حذیفہ بن یمانؓ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے 10 ہزار دینار آپﷺ کی خدمت میں بھیجے حضورﷺ ان کو ہاتھ سے الٹتے پلٹتے تھے کبھی دونوں ہاتھوں کی پشت ظاہر ہوتی اور کبھی ہتھیلیاں اور آپ دعا دے رہے تھے اے عثمانؓ اللہ تیرے ہر اس گناہ کو جو تو نے چھپ کر یا علانیہ یا باطن میں کیے ہیں اور جو کچھ کہ قیامت تک ہونے والے ہیں اللہ مغفرت فرما دے عثمانؓ کو کوئی پرواہ نہیں اگر اس کے بعد کوئی عمل نہ کرے۔ (منتخب: جلد، 5 صفحہ، 12)

16: سیدنا عثمانِ غنیؓ کو چھ مرتبہ آپ نے جنت کی بشارت دی تھی:

1:جب جیش عسرۃ کو تیار کیا۔ 

2: جب مسجدِ نبوی کی تعمیر و توسیع کرائی۔

3: جب بیر رومہ یہودی سے خرید کر مسلمانوں پر وقف کر دیا۔ 

4: جب اپنے عہدِ خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع کرنی چاہی تو فرمایا میں نے حضورﷺ سے سنا ہے جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایسا ہی گھر بنائے گا۔ 

5: جب آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ پر بلوے اور شہادت کا ذکر کیا تو فرمایا انہیں جنت کی بشارت ہو۔ 

6: حضورِ اکرمﷺ نے متعدد مرتبہ اصحاب عشرہ مبشرہ بالجنہ میں تیسرے نمبر پر آپؓ کا نام لیا۔ (صحاح ستہ)

7: سیدنا علی رضی اللہ عنہ بلاشبہ طبعاً فیاض تھے اور ناداری کے باوجود صدقہ کرنے اور غرباء کو کھانا کھلانے کے کئی واقعات ملتے ہیں لیکن خلفائے ثلاثہؓ ان مشترکہ اوصاف کے علاوہ گذشتہ بالا واقعات میں منفرد ہیں خدا داد کثیر مال سے جو خدمت اسلام اور اعانت پیغمبر ان کے مقدر میں آئی اور تحریک اسلام کو زبردست کامیابی ہوئی اس کا جواب نہیں بےشک ایک غریب یا مزدور کا دن بھر کی کمائی ساری یا کچھ اللہ کی راہ میں دینا کامل فیاضی ہے لیکن ایک امیر کا سالوں کی سب کمائی یا نصف و ملت کو اللہ کی راہ میں دینے کا حوصلہ کرنا اور رأس المال بھی نہ چھوڑنا اس سے زیادہ فیاضی اور جگر گردے کا کام ہے حضرت علیؓ شروع سے نادار تھے آپ کے ذاتی و خانگی اخراجات بھی خود حضورِ اقدسﷺ اٹھاتے تھے ظاہر ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے سے افضل ہوتا ہے۔

نوشت است بر گور بہرام گور

کہ دست کریم بہ ز باز وی زور

 امانت:

بلاشبہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ امین تھے اور کفار کی امانتیں خواہ وہ متاعِ دنیوی کفار کی حلال امانت یا حرام کی حضورِ اقدسﷺ آپ کے سپرد کر گئے تھے اور آپ نے اس کو پہنچائیں لیکن سیدنا ابوبکرؓ سے مقابلہ کی کیا نسبت آپ کے پاس اللہ کی وہ عظیم ترین امانت تھی اور اس کی حفاظت فرما رہے تھے جس کے قدموں پر ساری دنیا و مافیہا قربان کی جاسکتی ہے اور وہ امانت انصار مؤمنین کے سپرد کی گئی جن سے محبت کرنا عین ایمان ہے اور نفرت رکھنا نفاق و کفر ہے صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 629 پر قصد اہلِ نجران میں ہے انہوں نے آپ سے کہا ہمارے ساتھ اپنا امین نمائندہ بھیجیں حضورﷺ نے فرمایا میں ایسا امین بھیجوں گا جو امانت کا حق ادا کرے گا حق ادا کرے گا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منتظر ہونے لگے تو آپﷺ نے ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو کھڑا کر کے فرمایا هذا امين هذه الامۃ یہ اس امت کے امین ہیں کفار عہدِ جاہلیت میں خلفائے ثلاثہؓ کے پاس امانتیں رکھا کرتے تھا ابنِ دغنہ نے حضرت ابوبکرؓ کو مکہ واپس لاتے ہوئے کہا تھا حضرت ابوبکرؓ تیرے جیسا آدمی نہ نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے کیونکہ آپ نادار کو کم کر دیتے ہیں صلہ رحمی کرتے ہیں مہمان نواز ہیں مصائب آنے پر لوگوں کی امداد کرتے ہیں واپس جائیں میں آپ کو پناہ دیتا ہوں الخ۔ 

(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 542) 

سیدہ خدیجہؓ نے پہلی وحی کے دن حضورِ اکرمﷺ کے بھی یہی اوصاف بیان کیے تھے۔ (بخاری)

قارئین کرام! ہم نے قدرے بسط سے معترض کے ذکر کردہ اوصاف حسنہ میں نہایت احتیاط سے موازنہ کر دیا اگر کسی سے متعلق فروگزاشت ہوئی تو اللہ معاف فرمائے دراصل اس موازنہ کے ہم اہل ہی نہیں یہ صرف اللہ و رسولﷺ کا کام تھا انہوں نے جس کام اور منصب کا جسے مستحق جانا وہ کام لیا اور خدا کی طرف سے ایمان اخلاص صداقت اور جنت و کامیابی کی سندیں پانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بالترتیب ان کے درجات پر اتفاق کیا اور وہ حضرات خلفائے راشدینؓ کو ہم سے بہت بہتر جانتے تھے تو انہی کا فیصلہ برحق ہوا فماذا بعد الحق الا الضلال۔

ہم اس بحث کا خاتمہ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے اس اقتباس پر کرتے ہیں۔

صفحہ 16 از 17