رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 17

یہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قدیم الاسلام عشرہ مبشرہ جیسے مشاہیر ہوئے ہیں اس کے برعکس مکی زندگی میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر یا آپ کی ترغیب سے کسی کا مسلمان ہونا کتبِ سیرت و تاریخ میں ہمیں نہیں ملا ہاں حضرت ابو ذر غفاریؓ کو جو از خود اسلام اور پیغمبرﷺ کی تلاش میں آئے تھے آپﷺ نے مہمانی کھلا کر اور آمد کا مقصد پوچھ کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا دیا تھا۔

6: قوتِ ایمانی سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کفار سے بڑی تکلیفیں بھی دیکھیں باوجود یکہ آپ نہایت اونچے خاندان کے معزز اور رںٔیسں تھے چند واقعات ملاحظہ ہوں:

ا: ایک دن سیدنا ابوبکر صدیقؓ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے اسلام میں یہ وہ پہلے خطیب ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی مشرکین چاروں طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مار بھی اور روندا بھی عتبہ بن ربیہ فاسق ان کے قریب آیا اور اپنے کئی تلے والے جوتے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مارنا شروع کیا چہرے پر مارتا تھا اور آپؓ کے پیٹ پر بھی کودا حتیٰ کہ آپ کا چہرہ اور ناک نہ پہچانی جاتی تھی خاندان بو تمیم کے لوگ بھاگ کر آئے اور آپ کو چھڑا لے گئے اور ان لوگوں کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت میں شک نہ تھا مگر جب ہوش میں آئے تو سب سے پہلے حضورﷺ کا حال پوچھا الخ۔

(حیاۃ الصحابہ: جلد، 2 صفحہ، 290)

ب: حضرت اسماء بنتِ ابوبکر رضی اللہ عنہا سے لوگوں نے پوچھا کہ حضورﷺ کی تکالیف میں سے سب سے زیادہ سخت تکلیف تم نے کون سی دکھی فرمایا کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں کفار اپنے معبودوں کا تذکرہ کر رہے تھے اتنے میں حضورﷺ آگئے تو وہ سب آپ پر جھپٹ پڑے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک ان کے شور و غوغا کی آواز پہنچی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کے پاس سے اٹھے اور ان کے سر پر چار زلفیں تھیں اور فرماتے تھے تمہارا ناس ہو کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے مشرکین نے حضورﷺ کو تو چھوڑا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب گھر واپس آ گئے اور شدت زد و کوب سے یہ حال تھا کہ سر کی جس مینڈھی کو ہاتھ لگاتے وہ بال ہاتھ لگاتے ہی جھڑ جاتے اور سیدنا ابوبکرؓ کہہ رہے تھے تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔ (اخرجہ ابولیلی)

ج: ابنِ دغنہ کو جب آپ امان واپس کر چکے تو ایک کافر نے بیت اللہ شریف کو جاتے ہوئے آپ کے سر پر مٹی ڈال دی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے مغیرہ یا عاص بن وائل گزرا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم نے دیکھا اس جاہل نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ تم نے خود اپنے ساتھ یہ کام کیا ہے سیدنا ابوبکرؓ کہنے لگے اے رب تو کتنا بردبار ہے کتنا بردبار ہے۔ (بدایہ: صفحہ، 935) 

د: ایک دفعہ عقبہ بن ابی معیط نے حضورﷺ کے گلے میں چادر ڈالی اور مروڑی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چھڑایا اور روتے ہوئے کہا اتقتلون رجلا ان يقول ربی اللہ کیا تم اس آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔

(کشف الغمہ: صفحہ، 245 پر ہے کہ نوفل بن خویلد حضورﷺ کا سخت ترین دشمن تھا اسی شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ کو ہجرت سے قبل رسی میں جکڑ دیا اور دن بھر رات تک عذاب دیتا رہا حتیٰ کہ لوگوں کو ان کی تلاش کرنی پڑی۔

بجرم توام میکشند چہ غو غائیت

تو نیز بر سر بام آنچہ خوش تماشائیست۔

ایمان لانے اور قوت ایمانی کی بنا پر یہ شدائد برداشت کرنے کی یہ صدیقی جھلک تھی۔ 

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایمان:

اب سیدنا عمر فاروقؓ کی ایمانی قوت کا حال بھی سن لو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گو کچھ بعد میں سن 5 یا 6 نبوت میں اسلام لائے مگر آپ حضورﷺ کی دعا کا مقصود اور مراد ہیں آپ نے دعا مانگی تھی اے میرے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعہ قوت عطا کر اللہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کی یہ دعا قبول کر لی چنانچہ ان کے اسلام لاتے ہی بت پرستی کی دیواریں منہدم اور اسلام کی بنیادیں قوی ہوگئیں۔ 

(طبرانی حیات الصحابہؓ: صفحہ، 57)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ حضورﷺ نے میری قمیص پکڑ کر کہا خطاب کے بیٹے اسلام لے آ اور ساتھ ہی یہ دعا کی اے اللہ اسے ہدایت دے فوراً میرے منہ سے نکلا اشهد ان لا الہ الا الله و اشهد انک رسول اللہ میرے اسلام لاتے ہی مسلمانوں نے اتنی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ مکے کی ہر گلی میں اس کی آواز گونج اٹھی۔

(ابونعیم فی الحلبیہ: جلد، 1 صفحہ، 41) 

حضرت عبد الله بن مسعودؓ فرماتے ہیں جب سے حضرت عمرؓ اسلام لائے ہم غالب ہوتے گئے سیدنا عمرؓ کا اسلام مسلمانوں کی قوت تھی ہجرت اسلام کی فتح تھی اور خلافت اللہ کی رحمت و برکت تھی۔(بخاری)

سیدنا عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد ہی مسلمانوں نے علی الاعلان کعبہ میں جا کر نماز پڑھی حضرت عمرؓ جس رات اسلام لائے تو سوچا کہ جو شخص اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے اسے بھی بتا آؤں صبح ابو جہل کا دروازہ کھٹکھٹا کر بلایا اس نے کہا اے میرے بھانجے سیدنا عمرؓ ابوجہل کی بہن حنتمہ بنتِ ہشام بن المغیرہ کے فرزند تھے تو سزاوار مقام پہ آیا ہے کیوں آنا ہوا؟ آپؓ نے فرمایا یہ بتانے آیا ہوں کہ میں اللہ پر اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر ایمان لا چکا ہوں اور ان کی لائی ہوئی ہر چیز کی تصدیق کی ہے فرمایا کہ پھر تو ابو جہل نے وہ دروازہ میرے منہ پر مارا اور کہا اللہ تجھے اور اس چیز کو جو تو لایا ہے برباد کرے۔ 

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 351)

صفحہ 4 از 17