رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 17

حضرت عمرؓ نے عمداً جمیل بن معمر الحجمی کو اپنے اسلام کی خبر دی وہ قریش کی طرف چل دیا آپؓ اس کے پیچھے ہوگئے اس نے اعلان کیا کہ اے گروہ قریش عمرؓ بےدین ہوگیا حضرت عمرؓ اس کے پیچھے کہتے جاتے تھے اس نے جھوٹ کہا بلکہ میں نے اسلام اختیار کیا ہے اور گواہی دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ان لوگوں نے آپ پر حملہ کر دیا آپ بھی ان سے جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ آفتاب ان کے سروں پہ آگیا آپؓ تھک کر بیٹھ گئے اور قریش آپؓ کے سر پر کھڑے رہے آپؓ نے فرمایا تم جو چاہو کر میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم مسلمان تین سو مرد ہو جائیں تو پھر ہم باقاعدہ لڑیں پھر یا ہم مکہ کو تمہارے لیے چھوڑ دیں گے یا تم ہمارے لیے چھوڑ دو گے

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 350 والبدایہ: جلد، 3 صفحہ، 82 و قال ہذا اسناد و جید قوی)

آخر وہ وقت بھی آ گیا کہ سب شہر آپ کے قتل پر تل آیا اور آپ کو گھر میں غار ثور کی طرح پناہ لینی پڑی آپ کے پاس ابو عمرو عاص بن وائل سہمی آیا اور یہ زمانہ جاہلیت میں آپ کا حلیف تھا اس نے سیدنا عمرؓ سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ سیدنا عمرؓ نے فرمایا میں اسلام لے آیا اور تمہاری کافر قوم مجھ کو قتل کرتی ہے عاص نے کہا جاؤ میں نے تم کو امان دی وہ ایسا نہیں کر سکتی عاص چل دیا اور لوگوں سے ملا جن سے جنگل بھر گیا تھا پوچھا کہ تم لوگ کہاں جا رہے ہو لوگوں نے کہا ابنِ خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کہ وہ بے دین ہوگیا ہے عاص نے کہا اب تمہارے لیے سبیل نہیں کیونکہ میں پناہ دے چکا ہوں اور لوگوں کو لوٹا دیا۔

(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 545) 

یہ سیدنا عمرؓ کے ایمان مضبوط کا رد عمل تھا کہ کفار قریش کہنے لگے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے وہ اور حضرت حمزہؓ بن عبد المطلب رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہوگئے ہیں اور اسلام قبیلوں میں پھیلنے لگا ہے تو وہ لوگ جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ ایک کاغذ پر بنو ہاشم بن عبدالمطلب کے خلاف بائیکاٹ کا معاہدہ لکھیں۔ (ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 351)

یہی حال حضرت عثمانؓ کا بھی تھا آپ کو اپنا چچا حکم بن ابو العاص ایک بڑی چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا کرتا تھا محمد بن ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے تو ان کے چچا حکم بن ابو العاص نے ان کو کپڑا اور رسیوں میں باندھ دیا اور کہا کہ تو اپنے باپ دادا کے دین سے ایک نئے دین کی طرف پھر گیا خدا کی قسم میں تجھ کو بندھا رہنے دوں گا کھولوں گا نہیں جب تک کہ تو اس دین کو نہ چھوڑے گا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں کبھی بھی اس دین کو نہ چھوڑوں گا جب ہم نے دیکھا کہ یہ اپنے دین کے بارے میں انتہائی سخت ہیں تو ان کو چھوڑ دیا۔

(ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 37)

لیکن ہمیں تلاش کے باوجود سیرت و تاریخ کی کسی کتاب میں ایسا نہیں ملتا کہ حضرت علیؓ کے اسلام سے بھی کفار مشتعل ہوئے ہوں یا آپ کو کسی قسم کی تکلیف دی ہو یا آپ کے قتل کا محور بنایا ہو یا آپ کو گرفتار کیا ہو یا حضورﷺ سے متعلق آپ سے باز پرس کی ہو جب کہ ہجرت کے موقعہ پر حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ سے ابو جہل لعین وغیرہ نے حضورﷺ اور حضرت صدیقِ اکبرؓ کا پتہ پوچھا جب اس نے نہ بتایا تو اس زور سے منہ پر طمانچہ مارا کہ کان کی بالی گرگئی۔ 

(سیرت ابنِ ہشام: صفحہ، 419) 

حتیٰ کہ باقر علی مجلسی جیسے شدید متعصب شیعہ بھی جلاء العیون اور حیات القلوب میں ایک واقعہ بھی تخلیق و استانہا کے ہنر کے باوجود ذکر نہ کر سکے بجز اس بات کے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ کو کفار نے زد و کوب کیا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو گھر میں پتہ چلا تو رونے لگے ہو سکتا ہے اس کا سبب صغر سنی ہی ہو لیکن سن 6 نبوت کے بعد تو سیدنا علیؓ کی عمر 14، 16، 18 سال کی علی اختلاف الروایات ہوگی ان مواقع پر آپ کا ذکر ملنا چاہیئے۔

یہ نکتہ غور کرنے کے قابل ہے کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو ہجرت کرنا پڑی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قتل کا منصوبہ بنا ہجرت کی رات حضرت نبی کریمﷺ اور یارِ غار حضرت صدیقِ اکبرؓ کی تلاش میں 100، 100اونٹ انعام مقر کیا گیا تھا مگر سیدنا علیؓ کو بلا خطر حضورﷺ نے اپنے بستر پر سلا دیا اور ی تسلی بھی دی مجھے کفار ہرگز کچھ نہ کہیں گے۔

پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کی ہجرت کے بعد تین دن مکہ میں ٹھہرا ایک دن بھی نہ چھپا اور اسی طرح پر پھرتا رہتا تھا امانتوں کے ادا کرنے کے بعد میں نے حضورﷺ کے پاس پہنچنے کا راستہ اختیار کیا۔

(کنز العمال: جلد، 8 صفحہ، 335) 

صفحہ 5 از 17