رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 17

آخر کوئی بات تو حضرت پیغمبرﷺ اور حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ میں ایسی تھی جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں نہ تھی کہ کفار ان کے خون کے پیاسے تھے اور حضرت علیؓ کو موقع ملنے کے باوجود بھی کچھ نہ کہتے تھے حلانکہ یہ حضرات مکہ کے ضعفاء میں سے نہ تھے بلکہ معزز خاندانوں کے اصحابِ ثروت اور سردار و رئیس تھے در حقیقت ان حضرات کا تمام منافع دنیوی اور عیش و سکون کی زندگی کو چھوڑ کر مکہ کے درِ یتیم محمد بن عبدالله و رسول اللہﷺ کی اتباع کرلینا اپنی جان و مال آپ پر نثار کرنا اور آپ کی دعوت کا مبلغ بن جانا ہے جہاں حضورﷺ کے دل میں ان کی قدر و منزلت کو سب سے افضل بنا رہا تھا وہاں کفار کے بغیظ و غضب کو بھی تیز کرتا تھا اور وہ بھی حضورﷺ کے بعد اسلام کے اہم ستون حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ ہی کو جانتے تھے یہی وجہ ہے کہ جنگِ احد کے خاتمہ پر حضرت ابو سفیانؓ سے قتل حضورﷺ کی افواہ کی بنا پر اپنی جے میں حضورِ اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام لیا تھا جیسے صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 579 میں بھی ہے حضرت ابو سفیانؓ اونچی جگہ چڑھ کر مسلمانوں کو آواز دینے لگا کیا مسلمانوں میں محمدﷺ زندہ ہوں حضورﷺ نے فرمایا مت جواب دو پھر کہا کیا ابنِ ابی قحافہؓ ہیں حضورﷺ نے فرمایا جواب نہ دو پھر پوچھا گیا حضرت عمرؓ بن الخطاب ہیں؟ جب جواب نہ ملا پھر کہنے لگا یہ سب قتل ہوگئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ضبط نہ کر سکے فرمایا اللہ کے دشمن تو نے جھوٹ کہ۔ اللہ نے تجھے رسوا کرنے کا سامان باقی رکھا ہے پھر اس نے اعل ہبل آج کل شیعی نعرہ یا علی مدد بھی اسی نعرہ کا چربہ ہے جب حضورﷺ نے اسے مٹا کر اللہ مولانا ولا مولی لکم ہمارا مددگار اللہ ہے تمہارا کوئی مددگار نہیں سکھایا ہے تو ہم شیعہ نعرہ کے جواب میں یا اللہ مدد اور اللہ اکبر کا نعرہ لگانا چاہیے جو مسلمان جنگوں میں لگاتے تھے اے ہبل تو بلند ہو کا نعرہ لگایا تو حضورﷺ نے فرمایا کہو اللہ اعلیٰ واجل اللہ بزرگ و برتر ہے پھر اس نے کہا ہمارا عزیٰ مشکل کشا ہے تمہارا عزیٰ نہیں تب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضورﷺ کے حکم سے جواب دیا اللہ ہمارا مولا ناصر و مددگار ہے اور تمہارا مولیٰ کوئی نہیں حضرت علی المرتضیٰؓ نے بلاشبہ مدنی زندگی میں شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے مگر اس وجہ سے کبھی اپنے کو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ سے افضل نہیں بتایا نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا جانا نہ حضورﷺ نے اپنے قول و عمل سے اس کی تعلیم دی۔

دوم کثیر الہدایت ہونا:

ہدایت کی کثرت اور فیضان کی بہتات اور خیر کی اشاعت یقیناً ہادی و مبلغ کو بلند مرتبہ بنا دیتی ہے کیونکہ یہ ایسی متعدی نیکی ہے جس کی انتہا معلوم نہیں ہوسکتی حدیث شریف میں آیا ہے کہ آدمی کے مرنے پر اس کے سارے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین اعمال کا ثواب اسے بدستور ملتا رہتا ہے اولادِ صالح جو والدین کی تربیت سے اچھے کام کرے اور والدین کے لیے دعائے رحمت کرتی رہے۔

صدقہ جاریہ جیسے رفاہی کاموں پر خرچ کرنا جب تک وہ مدرسہ یا مسجد باقی رہے گی بنانے والے کو ثواب ملتا رہے گا۔

علم کی اشاعت یا تصنیف و تالیف کہ جب تک اس علم یا کتاب کا وجود رہے گا عالم و مصنف کو ثواب ملتا رہے گا۔

انبیاء علیہم السلام اسی بناث پر سب خلاںٔق سے افضل ہوتے ہیں کہ وہ منبع علم و ہدایت ہوتے ہیں بنی نوع انسان میں علم کی حد وہی ہیں کوئی امتی جس قدر بنیاد کے علم و ہدایت کے مطابق اعمال بجا لائے گا یقیناً اس کا ثواب اپنے پیغمبر کو پہنچتا رہے گا۔ من سن سنة حسنة فله اجرھا۔

ہمارے پیغمبرِ اکرمﷺ کو جو اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء علیہم السلام پر فضیلت بخشی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آپﷺ کی ہدایت تمام اقوام اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے اور اربوں انسانوں نے آپ ہی کے چشمہ ہدایت قرآن و سنت سے اپنی پیاس بجھائی ہے یہ مقام کسی اور نبی کو نہیں مل سکا حالانکہ ان میں ہزار برس تبلیغ کرنے والے حضرت نوح علیہ السلام بھی ہیں فرعون کو شکست دینے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی مقامِ خلت سے سرفراز حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اور زہد و توکل کا سر چشمہ حضرت عیسیٰ روح اللہ بھی علیہم الصلوۃ والسلام اسی لیے آپ کے حق میں سراجاً منیرا ہادیا و داعیا الی اللہ، اور و لکل قوم ہاد کے القابات قرآن حکیم نے صادر فرمائے۔ 

 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بعد از پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہادی ہیں:

یہ حقیقت اظہر من الشمس اور نا قابلِ انکار ہے کہ فیضان و ہدایت اور اس کی اشاعت میں حضورِ اکرمﷺ کے واقعی جانشین اور سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں حدیث بالا کے موجب تینوں قسم کے جاری و متعدی کام تا یوم قیام یادگار چھوڑے ہیں۔

قرآن حکیم کی اشاعت:

قرآنِ کریم حسب ضرورت جس ترتیب سے اترا حضورﷺ نے اس سے جدا ترتیب پر جو لوح محفوظ میں مقرر ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پڑھایا لیکن مستقل مکمل کتابی شکل میں جمع کرنے کی ضرورت نہ سمجھی عہدِ صدیقی میں مرتدین اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگوں میں کافی قراء و حفاظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے تو مفکرِ امت وملہم من اللہ سیدنا عمرؓ کو خدشہ ہوا اور دربارِ صدیقی میں آکر عرض کی کہ قرآنِ پاک کو کتابی شکل میں جمع کیا جائے اور تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے توقف کیا کہ جو کام حضورﷺ نے نہیں کیا میں کیسے کروں پھر زمانے کا تقاضا بھانپ گئے تو حضرت زیدؓ بن ثابت جو مشہور قاری حافظ اور کاتبِ وحی تھے ان کی سرکردگی میں ایک جماعت کی جمع قرآن پر ڈیوٹی لگا دی وہ فرماتے ہیں۔

فتبعت القرآن اجمع من الرقاع و الاکتاف و العشب و صدور الرجال۔ (بخاری)

ترجمہ: چنانچہ میں نے کاغذ و کپڑے کے ٹکڑوں کندھے کی ہڈیوں، درختوں کے پتوں اور حفاظ کے سینوں سے قرآن جمع کیا۔ الخ

صفحہ 6 از 17