رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 17

گویا وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞ ہم ہی قرآن کے محافظ ہیں کا جو وعدہ اللہ نے فرمایا حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے ہاتھ پر پورا فرما دیا آج 1400 سال سے شرق وغرب کے تمام مسلمان صرف ایک ہی کتاب اللہ کے عالم حافظ اور قاری ہیں جس کے ایک حرف و شوشہ میں بھی تبدیلی نہیں کی گئی پھر اسی قرآن کی نقلیں مزید کروا کر سیدنا عثمانؓ نے اطرافِ اسلامیہ میں پھیلا دیں اور وحدت کتاب اللہ انہی حضرات کی مساعی کا نتیجہ ہے امت نہ ان کے بار احسان سے سبکدوش ہوتی ہے اور نہ ان کے درجات و ثواب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے خود سیدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں:

کہ قرآنِ پاک کی اشاعت کے سلسلے میں سب سے بڑا درجہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو ملے گا کیونکہ سب سے پہلے آپ ہی نے دو گتوں کے درمیان قرآن کو جمع فرمایا۔

(رواہ ابو یعلیٰ بحوالہ تاریخ الخلفاء: صفحہ، 64)

سنت و فقہ کی اشاعت:

علم کا یہ شعبہ اور شجرِ طیبہ بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اقطارِ عالم میں پھیلا آپ تمام مفتوحہ ممالک میں علماء اور حفاظ و قراء کو بھیجتے تھے جو وہاں کے لوگوں کو تبلیغ کرتے اور قرآن و سنت کی تعلیم دیتے تھے کوفہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم بنا کر بھیجا تو فرمایا۔

بعثت اليكم ابن ام عبد و اثرتکم علی نفسی۔

ترجمہ: میں نے تمہاری طرف حضرت ابنِ مسعودؓ کو بھیجا ہے اور تمہیں اپنی ذات پر ترجیح دی ہے۔

اور ان کی کار کردگی کا یہ عالم تھا کہ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کوفہ میں وارد ہوئے تو چار ہزار کوفہ کے علماء تابعین نے آپ کا استقبال کیا جو سب حضرت عبداللہؓ کے شاگرد اور تربیت یافتہ تھے شام میں حضرت ابو الدردارؓ کو بھیجا بصرہ میں حضرت انس بن مالکؓ کی ڈیوٹی لگائی بڑے بڑے فاصل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ منعقد کر دی تھی جس میں کثرتِ فتوحات اور حادثات نو کے پیشِ نظر ہر مسئلہ زیرِ بحث آتا اور صائب فیصلہ سے مشرف ہوتا تھا یہی قضایا احکام سنت و فقہ کا وہ بہترین خزانہ ہیں جن پر فقہی مذاہب کا دارو مدار ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا علم میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے میں سب لوگوں کا تو سیدنا عمرؓ کا علم زیادہ ہوگا ہادی نے جب یہ قول حضرت ابراہیم نخعی کے سامنے ذکر کیا تو کہنے لگے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی زیادہ آپ کی تعریف کی ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کی وفات پر فرمایا تھا۔

ذهبت تسعة اعشار العلم۔

(اسد الغابہ: جلد، 4 صفحہ، 60)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سے علم کے 9/10 حصے رخصت ہوگئے کتاب الاموال لابی عبید اور مسعودی وغیرہ میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تمام موذنین مدرسین مبلغین خطباء اور قاریوں کے بیتُ المال سے وظائف مقرر تھے اگر کسی شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ مذہب اور انتظامی طور پر حضورِ اکرمﷺ جن لوگوں کو مختلف کاموں پر لگاتے تھے ان کے حسنِ اعمال کا ثواب حضورِ اکرمﷺ کو بھی پہنچا تھا تو اس کے نزدیک حضورﷺ کے علمی و عملی جانشین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ کو بھی ان سب امور کا ثواب ملنا چاہیئے چونکہ روایت احادیث کے سلسلے میں حضراتِ شیخین بڑی احتیاط کرتے۔ قصہ گو واعظوں کی تو درہ سے تربیت کرتے تھے اور بسا اوقات حدیث پر شاہد بھی طلب کرتے تھے اور ان کے مختصر عہد میں تابعین کی روایت حدیث درجہ فروغ کو پہنچی تھی اور امورِ خلافت و فتوحات میں بہت مصروفیت رہتی تھی لہٰذا ان کے علم کی بہ نسبت روایتِ حدیث کم ہوئی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے 142 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے 539 اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کچھ زاںٔد 586 احادیث مروی ہیں سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ بھی احادیثِ نبوی کے ممتاز حافظ تھے وروی جملة كثيرة من العلم۔ 

(تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 18) 

علم کا ایک کثیر حصہ روایت کیا ہے لیکن کلامِ رسول میں تغیر و تبدل کے خوف سے روایت بہت کم کرتے تھے اس لیے مرفوع روایات کی تعداد آپ سے کم مروی ہے فقہ و استنباط میں اگرچہ آپؓ کا پایہ حضرت عمرؓ و حضرت علیؓ کے برابر نہ تھا لیکن آپ بھی مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم آپ کے اجتہاد سے استناد کرتے تھے۔

(بخاری کتاب الغسل و مسند احمد وغیره)

علمِ فرائض میں آپ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں ممتاز تھے حضرت زید بن ثابتؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ انہی دونوں بزرگوں نے اس فن کو باقاعدہ مرتب کیا حضراتِ شیخینؓ کے عہد میں وراثت کے جھگڑوں کا فیصلہ اور اس کی مشکلات کو یہی دونوں حل کرتے تھے اس عہد کے بزرگوں کا خیال تھا کہ اگر یہ دونوں اٹھ گئے علمِ فرائض کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 

(کنز العمال: جلد، 6 صفحہ، 72 بحوالہ تاریخ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 241) 

فتوحات تبلیغ اسلام کے لیے تھیں

حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ کے زمانے میں باقاعدہ تبلیغی وفود بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے جاتے تھے موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے کہ ہشام بن عاص اور نعیم بن عبد اللہ اور ایک اور صحابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں بادشاہِ روم کے پاس بھیجے گئے تھے حضرت ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جبلہ بن ایہم کے پاس دمشق پہنچے وہ کالے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور ہر شے اس کے دربار کی سیاہی سے رنگی ہوئی تھی اس نے کہا اے ہشام کہو ہشام نے اس سے گفتگو کی اور اللہ کے دین کی دعوت دی۔ 

(ابو نعیم فی الدلائل: صفحہ، 9)

علامہ شبلیؒ الفاروق صفحہ 399 پر صیغہ مذہبی کے عنوان سے رقم طراز ہیں:

صفحہ 7 از 17