رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 17

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا اور اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اپنی تربیت اور ارشادات سے تمام مسلمانوں کو اسلام کا اصلی نمونہ بنا دیا تھا اسلامی فوجیں جس ملک میں جاتی تھیں لوگوں کو خواہ مخواہ ان کے دیکھنے کا شوق ہوتا تھا کیونکہ چند ہادیہ نشینوں کا دنیا کی تسخیر کو اٹھنا حیرت اور استعجاب سے خالی نہ تھا تو ایک ایک مسلمان سچائی سادگی پاکیزگی جوش اور اخلاص کی تصویر نظر آتا تھا یہ چیزیں خود بخود لوگوں کے دلوں کو کھنچتی تھیں اور اسلام ان میں گھر کر جاتا تھا مثلاً شطا مصر کا رئیس مسلمانوں کے حالات ہی سن کر اسلام کا گرویدہ ہوا اور آخر دو ہزارہ آدمیوں کے ساتھ مسلمان ہوگیا۔

 حدود اسلام کی وسعت:

تکثیر ہدایت اور فیضان جاری کی تیسری قسم خلفائے ثلاثہؓ کی وہ عظیم فتوحات ہیں جن کی بدولت اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر تمام اقطارِ ارضی پر پھیل گیا اس وقت موجود دنیا کی سب سے بڑی حکومتیں کسریٰ و قیصر اسلام کی قلمرو میں آگئیں تاریخی طور پر وہ پیغمبرِ اسلامﷺ کی متواتر پیشینگوئیاں پوری ہوئیں جو آپﷺ نے مسلم و کافر اور اپنے اور بیگانے کے سامنے اپنی صداقت پر بطورِ دلیل متعدد مرتبہ ارشاد فرمائیں مثلاً عدیؓ بن حاتم طائی کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا تھا بخدا مسلمان اس قدر مالدار ہوں گے کہ لینے والا کوئی نہ ہوگا اس قدر ان کی تعداد اور قوت و افر ہوگی کہ ایک عورت تنہا قادسیہ سے حج کرنے آئے گی اور بخیریت واپس ہوگی خلافت اور حکومت ان کو ایسی حاصل ہوگی کہ ارضِ بابل کے سفید محلات بھی ان کے ہاتھ پر فتح ہوجائیں گے عدی کہتے تھے میں نے دو باتیں تو دیکھ لیں فراوانی دولت بھی دیکھ لوں گا۔ 

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 715 مختصراً)

فتح کا نام لینا آسان نہیں ایک مربع میل کا رقبہ بھی کوئی نہیں دیتا اور اس پر کتنے قضیے کرنے پڑتے ہیں لیکن بالکل غیر متمدن اونٹوں اور بکریوں کے چرواہوں نے معلمِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تعلیم و تربیت سے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا یہ اسلام کی صداقت پیغمبرﷺ کے اعجاز اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان پر ایسی زبردست دلیل ہے جس کا کوئی سلیم الفطرت انسان انکار نہیں کر سکتا آج کا ایران اور ان کے ہم نوا اعداء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت فاروقِ اعظمؓ و فاتحینِ اسلام کو مطعون کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیدنا فاروقِ اعظمؓ وغیرہ کا ممنون احسان ہونا چاہیئے کہ ان کو کفر سے نجات دلا کر اسلام میں داخل کیا فاتحینِ ایران صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ان کا غضبناک ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ توحید و رسالت کے کلمہ اسلام کی آمد پر نہ خوش ہیں نہ ایمان رکھتے ہیں اور نہ سابقہ کفار کی رسوم اور یادگاروں کو بھلا سکتے ہیں ورنہ وہ سہ ہزار سالہ قدیم کافرانہ تہذیب کے جشن پر کروڑوں ڈالر خرچ نہ کرتے جیسے 72ء میں منایا گیا۔

الغرض حضرت عمرؓ کے مفتوحہ ممالک کا کل رقبہ 2251030 مربع میل تھا یعنی مکہ معظمہ سے شمال کی جانب 1036 مشرق کی جانب 1087 جنوب کی جانب 483 میل تھا اس میں شام مصر عراق جزیرہ خوزستان عراق عجم آرمینہ آذر بائیجان فارس کرمان خراسان اور مکران جس میں بلوچستان کا بھی کچھ حصہ آجاتا ہے شامل تھا۔ 

(الفاروق: صفحہ، 270) 

حضرت عثمانؓ کے عہد میں مغربی ممالک شمالی افریقہ روم قوقاز جزیرہ قبرص اور رؤوس کی فتوحات کا اضافہ ہوا اور ان ممالک میں لا الہ الا اللہ کا جھنڈا ایسے لہرایا کہ آج تک سرنگوں نہیں ہوا ظاہر ہے کہ ان فتوحات سے کروڑہا انسانوں کے حلقہ بگوش ہدایت ہونے کا ثواب حغ عمرؓ و حضرت عثمانؓ کے نامہ اعمال ہی میں لکھا جائے گا جیسے حضرت علیؓ کو یمن بھیجتے وقت حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا تھا۔

لان يهدى الله بك رجلا خير لك من حمر النعم۔ (صحيحين)

اگر اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

ہدایت کے ان تین شعبوں میں اول و ثالث میں تو حضرت علیؓ کی شرکت ہی نہیں نہ آپ جمع و تدوینِ قرآن میں شریک تھے نہ بقول شیعہ آپ کا جمع کردہ صحیفہ کسی مسلمان کو دیکھنا نصیب ہوا نہ آپ کے عہد میں کوئی علاقہ یا گاؤں فتح ہوا۔ آپس کی خانہ جنگی کی وجہ سے سرکاری سطح پر سابقہ تبلیغی سرگرمیاں بھی رک گئیں ہاں سنت و فقہ کی انفرادی اشاعت میں حضرت علیؓ کا حصہ یقینی ہے اور آپ سے ہزاروں انسانوں نے فیضِ ہدایت پایا اور آج تک اس کے اثرات موجود ہیں لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں یہ وصف بھی تاریخ و حدیث کے عام مروج سنی ذخیرہ پر اعتماد کی بدولت تسلیم کیا جا سکتا ہے اور سیدنا علیؓ کو چہارم پیشوائے دین ماننے کا سہرا فقط اہلِ سنت کے سر پر باندھا جائے گا ورنہ شیعی مخصوص لٹریچر میں عمر بھر سیدنا علیؓ تقیہ کے پابند رہے تھے اسلام کی واقعی بات کا اظہار ایک وصیت کی وجہ سے ممنوع تھا آپ کے مخلص شاگرد اور قابلِ اعتماد مؤمن چند نضر ہی تھے آپ کے علم کا سمندر اندر ہی اندر خشک ہوگیا حتیٰ کہ شیعہ کو اپنا مذہب رسول اور وصی رسول کے بجائے دوسری صدی کے ایک تابعی بزرگ سے روایت کرنا پڑا حد یہ ہے کہ ان کو یہ بھی کہنا پڑا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت برائے نام سے زیادہ نہ تھی ہمیشہ خلفائے ثلاثہؓ کے معتقدین میں گھرے رہتے اور بدستور قدرت کے فقدان اور ساتھیوں کی غداری اور بے وفائی کی شکایت کرتے رہتے تھے الخ۔ (مجالس المؤمنین: صفحہ، 54)

 معرکہ جنگ میں تبلیغی فراںٔض

صفحہ 8 از 17