رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 17

حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ کی فتوحات ملک گیری کے تحت نہ تھیں محض تبلیغ اسلام کی خاطر تھیں اپنے امراء اور کمانداروں کو تاکیدی وصایا کے ساتھ بھیجتے تھے مثلاً سیدنا ابوبکر صدیقؓ جب شام کی طرف لشکر روانہ فرمائے جن پر امیر حضرت یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص اور شرحبیل بن حسنہؓ تھے۔ آپ وداعہ تک ان کے ساتھ پیدل چلے کہ ان قدموں سے اپنی خطاؤں کو بخشواؤں پھر وصیت کرتے ہوئے فرمایا اللہ پاک سے ڈرتے رہنا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا جن لوگوں نے اللہ کے دین سے انکار کیا ہے ان سے جہاد کرنا اللہ اپنے دین کا مدد گار ہے غداری نہ کرنا امانت میں خیانت نہ کرنا بزدلی نہ برتنا زمین میں فساد نہ پھیلانا اور جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اس کے خلاف نہ کرنا تمہارا اگر تقدیر الہٰی مشرک قوموں سے سامنا ہو جائے تو انہیں تین باتوں کی دعوت دینا اگر مان لیں تو جنگ سے رک جانا۔

اولاً: ان کو اسلام کی دعوت دینا اگر اسلام اختیار کرلیں تو ان کے اسلام کو قبول کرنا الخ۔

(حياة الصحابہ: جلد، 1 صفحہ، 219 از بیہقی و ابنِ عساکر: جلد، 9 صفحہ، 80)

سیدنا عمر بن خطابؓ نے فاتحِ ایران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو لکھا کہ لوگوں کو تین دن تک اسلام کی دعوت دینا جو شخص مسلمان ہوجائے اس کے لیے وہ تمام منافع ہیں جو دیگر مسلمانوں کے لیے ہیں اور اسلام میں ان کا حصہ ہے اور جس نے تمہارا کہا لڑنے کے بعد یا شکت کھانے کے بعد مانا اس کے لیے مسلمانوں جیسا فے نہیں ہے یہی میرا حکم ہے اور خط لکھنے سے غرض۔ 

(حیاتِ الصحابہؓ: صفحہ، 224)

خلفائے اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذاتی خوبیوں میں تقابل:

 شجاعت:

بلاشبہ حضرت علیؓ شجاع تھے اور روایات مغازی کی روشنی میں عہدِ نبوی کی سب جنگوں میں ڈیڑھ درجن کے قریب آپ کے ہاتھوں کفار مقتول ہوئے جو حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے مقتولوں سے زیادہ ہیں اپنی جگہ جہاد میں قتلِ کفار واقعی ثواب کا کام ہے لیکن ایک کافر کو کلمہ پڑھوا دینا اس سے زیادہ کارِ ثواب اور اسلام کی مفید خدمت ہے کیا سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا کلمہ پڑھتے ہی سیدنا عثمانؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ سیدنا طلحہٰؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ سیدنا عثمان بن مظعونؓ سیدنا ابوسلمہ ارقم بن ارقمؓ جیسے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حلقہ بگوش اسلام کرا دینا اور مسلمانوں کی جماعت بنا دینا اس سے زیادہ افضل نہ تھا؟ بقول سعدی: 

و گر خفیہ ده دل بدست آوری ازاں بہ کہ صدره پیشخوی بری۔ 

مدارِ فضیلت تو جنگوں میں شرکت ثابت قدمی اور جرات ہے بالفعل قتل کرنا تو اتفاقی ہے حضرت ابو ذر غفاریؓ حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابو الدرداءؓ جیسے عند الشیعہ کاملُ الایمان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی اس کا ثبوت مشکل ہے اور اشجع الناس حضورِ اکرمﷺ سے صرف ایک شخص نیزہ نبوی سے خراش کی وجہ سے بطورِ معجزہ قتل ہوا۔

قزمان نامی ایک شخص نے احد میں بروایت ابنِ ہشام 9 آدمیوں کو قتل کیا مگر بالآخر خود کشی کر لی حسبِ روایت بخاری: جلد، 2 صفحہ، 611 مرفوعاً حضرت خالد بن ولیدؓ سیف اللہ کے ہاتھ سے غزوہِ مؤتہ میں فتح ہوئی اور مورخین کے بیان کے مطابق آپ کے ہاتھ میں تلواریں مؤتہ میں ٹوٹیں اور بلاشبہ ان کے ہاتھوں کفار زیادہ قتل ہوئے۔ 

(نخوہ ازابی عامرؓ در طبقات بن سعد: جلد، 2 صفحہ 130)

معلوم ہوا کہ مقتولوں کی کثرت مدار افضلیت نہیں بلکہ مجموعی طور پر اوصافِ خاصہ ہیں جرأتِ صدیقی کے متعلق سیدنا علیؓ فرماتے ہیں لوگو میں تم سے بیان کروں کہ ہم سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں جب غزوہ بدر ہوا تو ہم لوگوں نے رسول اللہﷺ کے لیے ایک جھونپڑا بنایا اور ہم نے کہا کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ کون رہے گا؟ ایسا نہ ہو کہ مشرکین میں سے کوئی آپ کی طرف آئے پس خدا کی قسم اس کام کے لیے آپ کے قریب کوئی نہ آیا سوائے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے کہ یہ تلوار سونت کر آپﷺ کے سرہانے کھڑے ہوگئے جب کوئی آپﷺ کی طرف آنے کا قصد کرتا یہ اس کی طرف جھپٹ کر جاتے یہ تمام لوگوں میں سے زیادہ بہادر تھے اس کے بعد سیدنا علیؓ نے بدر کا پورا واقعہ بیان کیا۔ 

(کذا فی المنتخب: جلد، 5 صفحہ، 240)

احد کے موقعہ پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کو قتل کرنا چاہا مگر حضورﷺ نے فرمایا تلوار میان میں کر کے اپنی جگہ واپس آجاؤ اور اپنی ذات سے ہمیں نفع پہنچاؤ۔ 

(کشف الغمہ: صفحہ، 253) 

مکی زندگی میں تنہا کفار کے نرغے سے حضورِ اکرمﷺ کو چھڑانا اور تکالیف سہنا پہلے مذکور ہوچکا ہے جو جرأت کا اعلیٰ شاہکار ہے ہجرت کے موقعہ پر بحکمِ خداوندی حضورﷺ کا سیدنا ابوبکرؓ کو ساتھ لینا اور رفاقتِ غار کے علاؤہ سب سفر میں تنہا آپ کی حفاظت فرمانا صدیقی جرأت ہی کا خاصہ ہے مولانا غلام رسول مہر "رسولِ رحمتﷺ" میں رقم طراز ہیں:

کاشانہ مبارک سے نکل کر رسول کریمﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ جن کا مکان مکہ مکرمہ کے جنوبی حصے میں تھا شہر سے جنوبی سمت میں چل پڑے چھ میل کے فاصلے پر ثور نامی پہاڑ تھا جس کے اندر بہت اونچائی پر ایک بڑا غار تھا راستہ سخت پتھریلا اور کٹھن تھا سیدنا ابوبکرؓ نے رسولِ انورﷺ کو تکلیف سے بچانے کیلیے تھوڑی دور تک کندھوں پر بٹھا لیا چلتے وقت وہ کبھی سرورِ دو عالمﷺ کے آگے کبھی بچھے کبھی دائیں اور کبھی بائیں ہو جاتے گویا چاہتے تھے کہ ہر سمت سے حضورﷺ کی حفاظت میں اپنی جان قربان کر دیں غار کے دہانے پر پہنچ کر سیدنا ابوبکرؓ پہلے خود داخل ہوئے اور غار کو خوب صاف کیا اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر تمام سوراخ بند کیے پھر رسولِ خداﷺ اندر تشریف لے گئے اس غار میں رسول کریمﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ نے تین دن اور تین راتیں گزاریں۔

صفحہ 9 از 17