عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 15

سوال: کیا کوئی روایت بخاری مسلم ترمذی ابن امیہ ابن داؤد نسائی ان کے علاوہ مشکوٰۃ اور مؤطا امام مالک یعنی ان آٹھ کتابوں میں مل سکتی ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت علی زین العابدین رحمۃ اللہ سیدنا محمد باقر رحمۃ اللہ سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ سیدنا موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ سیدنا علی الرضا رحمۃ اللہ سیدنا محمد تقی رحمۃ اللہ سیدنا علی نقی رحمۃ اللہ سیدنا حسن عسکری رحمۃ اللہ سیدنا مہدی العصر والزمان رحمہم اللہ علیھم اجمعین اہل سنت و الجماعت کے بارہ امام ہیں اگر نہیں تو اپنے بارہ اماموں کے نام بتائیں جب کہ حضورﷺ نے فرمایا:

عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول اللهﷺ يقول لا يزال الاسلام عزيز إلى اثنی عشر خليفه كلهم من قریش (مشکوٰۃ) 

کیا آپ کے بارہ امام وہی تو نہیں جن کا تذکرہ تاریخ الخلفاء: صفحہ، 18 اور شرح فقہ اکبر: صفحہ، 76 پر درج ہے ارے ان میں تو چھٹا یزید بن معاویہ ہے اس فرمان رسولﷺ من مات ولم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة جاهلية۔ (منصب امامت: صفحہ، 74) غور سے پڑھ اور سمجھ کر فیصلہ دیں۔

جواب: ابنِ داؤد کسی کتاب کا نام نہیں ابو داؤد نام ہے جو صحاحِ ستہ اہلِ سنت میں شامل ہے افسوس کہ جو شخص اہلِ سنت کی صحاح ستہ کے نام نہیں جانتا وہ اھلِ سنت پر اعتراضات کرتا ہے بلکہ سابق سنی عالم ہونے کا مدعی ہے اس کے جھوٹے اور پر قریب دعویٰ کی حقیقت اسی سے نمایاں ہے۔

اہل سنت کا معیار امامت:

اس حدیث کا مفہوم اور 12خلفاء کی تعیین سے قبل ہم اس حقیقت کو الم نشرح کرتے ہیں کہ ان کی خلافت پر مشتمل اس حدیث کو معترض اپنے فاسد مذہب اور عقیدہ امامت پر کیسے منطبق کرنے کی جرات کر رہا ہے حالانکہ سنی نقطہِ نظر سے خلافت اور عند الشیعہ تصور امامت میں زمین و آسمان کا فرق ہے اہلسنت کے ہاں خلافت و امامت ایک انتظامی عہدہ ہوتا ہے جو پیغمبرِ اکرمﷺ کی پیروی سے آپ کی جانشینی و حکمرانی کا نام ہے خلیفہ نہ نبی سے افضل یا اس کے مساوی ہوتا ہے نہ وہ مستقل مطاع اور نبی کی طرح مفترض الطاعہ ہوتا ہے نہ وہ حلال و حرام کرنے میں خود مختار ہوتا ہے نہ اس پر وحی آتی ہے نہ وہ قرآنِ پاک اور سنتِ نبوی کے علاوہ کسی تیسری وحی یا آسمانی کتاب و ہدایت کا حامل ہوتا ہے نہ اس کے لیے عصمت شرط ہے نہ اس سے اختلاف کفر ہے نہ اس کے نام کا کلمہ ہے نہ اس کی تعلیم تعلیمِ نبوی کے متوازی ہے نہ اس کے نام کی الگ امت بنامِ شیعہ فلاں ہوتی ہے نہ اس کا نام بطورِ ورد و استعانت استعمال کرنے کی اجازت ہے بلکہ امام و خلیفہ کا منصب صرف اس قدر ہے کہ وہ شرائطِ خاصہ کے تحت اس کا اہل ہو اشارۃ النص استخلافِ نبوی یا انتخابِ عامہ کے تحت اس عہدہ کو سنبھالے اور حکومت و طاقت کے ذریعے قرآن و سنت کو نافذ کرے اور انتظامِ مملکت کو سر انجام دے تمام جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے اور مخالفت و انکار حرام ہے اھلسنت کے ہاں ایسے منتظم شرعی خلیفہ مقتدر کے لیے یہ 8 شرائط ہیں:

1: مسلمان ہو۔ 2: عاقل و بالغ ہو۔ 3: مرد ہو۔ 4: متکلم اور سمیع و بصیر ہو۔ 5: مجتہد ہو۔ 6: بہادر اور صاحب الرائے ہو۔ 7: عادل و منصف ہو۔ 8: قریشی النسب ہو۔ 9: على قول الاصح کتابت بھی شرط ہے۔ (ازالہ الخفاء)

مذکورہ بالا سنی حدیث اس قسم کے خلفاء کی پیشینگوئی پر مبنی ہے۔

شیعہ کے 12 امام ہر گز مراد نہیں:

اس حدیث کا شیعہ کے 12 ائمہ کے ساتھ نہ کوئی تعلق ہے نہ ہی امامت کے تصور کی قرآن و سنت میں کوئی گنجائش ہے کیونکہ وہ منصبِ رسالت کے متوازی اور ختمِ نبوت کے عین برعکس ہے امامیہ حضرات کے اس عقیدہ کا حاصل یہی ہے کہ کوئی شخص قرآن و سنت کی شریعت سے آزادی حاصل کر کے امامی خود ساختہ شریعت پر عمل کا دعویدار بن جائے اگرچہ وہ عملاً اس کا تارک اور ہویٰ نفس کا پیروکار ہو ہم یہاں شیعہ کی سب سے مستند اور عظیم مذہبی کتاب اصولِ کافی کے کتاب الحجۃ سے شیعی امامت کا تعارف کراتے ہیں تاکہ ان کے ختمِ نبوت کے منکر ہونے پر شک و شبہ نہ رہے۔

1: امام بھی نبی کی طرح مرسل من اللہ ہوتا ہے:

باب الفرق بین الرسول والنبی و المحدث میں ہے راوی نے پوچھا کہ امام کا مقام کیا ہے؟ تو سیدنا باقرؒ نے فرمایا: يسمع الصوت ولا يرى ولا يعاين الملك ثم تلا هذه الاية وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا بنی ولا محدث۔ (کافی: صفحہ، 176)

امام فرشتے سے وحی کی آواز سنتا ہے مگر مشاہدہ اور معاینہ نہیں کرتا پھر یہ آیت پڑھی کہ ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نبی اور محدث امام نہیں بھیجا ۔

اس باب میں تین اور ایسی حدیثیں بھی ہیں جن میں محدث کے عنوان سے امام کو بھی مرسل من اللہ اور مہبطِ فرشتہ تسلیم کیا ہے اور سورت حج کی آیت محولہ میں ولا محدث کا اضافہ کر کے تحریف کی ہے

اہلِ حق شیعہ کے بر خلاف ان احادیث سے یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ امامت نبوت سے کم تر رتبہ ہے۔ کیونکہ نبی و رسول فرشتہ وحی کو دیکھنا بھی ہے اور امامت کو نبوت سے افضل کہنا قرآن کریم اور احادیث ائمہ کی کھلی خلاف ورزی ہے ارشاد ربانی ہے:

وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞(سورہ الانعام: آیت 86)

ترجمہ: ہر ایک پیغمبر کو ہم نے سب جہانوں پر فضیلت دی۔

2: امام بھی پیغمبر کی طرح حجۃ اللہ ہے:

باب ان الارض لا تخلوا من حجة میں ہے امام علی رضاؒ فرماتے ہیں:

ان الحجة لا تقوم لله على خلقه الا بامام حتیٰ یعرف۔ (کافی: صفحہ، 177)

ترجمہ: امام کے بغیر اللہ کی حجت مخلوق پر نہیں ہوسکتی حتی کہ اس کا پہچاننا ضروری ہے۔

حدیثِ ہذا میں حصر کے ساتھ حجتہ اللہ کو امام میں محدود کر دیا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں کیا حالانکہ اللہ پاک یہ منصب صرف پیغمبروں کو عنایت فرماتے ہیں:

رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ بَعۡدَ الرُّسُلِ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 165)

ترجمہ: ایسے رسول جو خوشخبری دینے والے بھی تھے اور ڈرانے والے بھی تاکہ ان کے آنے کے بعد کوئی حجت باقی نہ رہے۔ (ترجمه مقبول)

3: امام پر ایمان اور تمام دینی امور اس کی طرف لوٹانا ضروری ہے:

باب معرفة الامام اولاد والرد الیہ میں ہے

صفحہ 1 از 15