عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 15

دیگر آنکه چون حضرت امیر در ایام خلافت خود دید کہ اکثر مردم حسن سیرت ابو بکرؓ و عمرؓ را معتقد اندو ایشاں را برحق میدانند قدرت برآں نداشت کہ کار سے کند کہ دلالت بر فساد خلافت ایشاں داشتہ باشدتا آنکہ حضرت بنا بر مصلحت وقت ایشاں بحال خود (در نماز تراویح) داشت حاصل کلام آنکہ ایشاں رادراں ایام نام خلافت بیش نبود۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ جب سیدنا امیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایام خلافت میں دیکھا کہ اکثر لوگ بلکہ سب حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کہ حسنِ سیرت کے معتقد ہیں اور ان کو برحق جانتے ہیں تو قدرت اس بات پر نہ پائی کہ آپ ایسا کام کریں جو ان کی خلافت کے فساد پر دال ہو حتیٰ کہ سیدنا امیرؓ نے مصلحت وقت کی خاطر ان کو (نماز تراویح میں) بہر حال خود رکھا خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ کی خلافت ان دنوں بھی برائے نام سے زیادہ نہ تھی۔

اور ہمارے معاصر محمد حسین ڈھکو نے بھی حامد حسین وغیرہ کی اتباع میں تجلیات صداقت میں بھی کچھ لکھا ہے حالانکہ سیدنا امیرالمومنینؓ اگر اپنے نظریہ کے خلاف کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ کرتے یا مصلحت وقت کی خاطر مداہنت کو گوارا کرتے تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو معزول نہ کرتے آپ کے مطالبہ کے باوجود حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قصاص میں تاخیر نہ کرتے پھر کبھی جمل و صفین میں 70 ہزار مسلمانوں کے خون کی ندیاں نہ بہتیں جس کے نتیجہ میں رائے عامہ بالآخر آپ سے بدظن و متنفر نہ ہوتی منظم حکومت عراق و حجاز کے سوا آپ کے ہاتھ سے نہ جاتی سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھی برسرِ اقتدار نہ آسکتے اور امت میں تاہنوز ختم نہ ہونے والی تفرقہ بازی کبھی پیدا نہ ہوتی مگر ہمارا ایمان ہے کہ دل و زبان میں ایک مردِ مؤمن سیدنا علی المرتضیٰؓ نے یہ سب نقصانات مصائب مخالفین کے طعنے حتیٰ کہ جانِ عزیز تک کی قربانی منظور کر لی مگر اپنے نظریے کے خلاف کرنا جوان مردی اور جرأت کے خلاف جانا اور زبان و دل کے تغایر اور تقیہ بازی کو کسی صورت میں منظور نہ کیا ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ کا آپ پر منافقانہ الزام ہمیں سننے کا حوصلہ نہیں اگر شیعہ حضرات یہ واقعی اور سیدھی بات مان لیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صاف گو پاک باطن اور نڈر تھے جو کچھ قولاً و فعلاً تاریخ و نقولِ کثیرہ کی روشنی میں آپ نے کیا وہی آپ کا مذہب برحق اور عقیدہ تھا جو آج تک جمہور اہلِ اسلام کا مذہب چلا آرہا ہے تو ہم بھی اپنے مفاد کے خلاف یہ کہہ دیں گے کہ طبعاً از خود حضرت علیؓ اہلِ شام کے بھی میں کشیدگی اور بغیر دوستانہ جذبات رکھتے تھے زندگی میں اسی پر عمل ہوا ان کے متعلق احکم الحاکمین ہی بہتر فیصلہ کرے گا ہم سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بہ نسبت سیدنا علیؓ سے زیادہ الفت و محبت رکھتے ہیں اور حتی الامکان اتباع کر کے کسی کی بدگوئی نہیں کرتے۔

الحاصل 12 حضراتِ ائمہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم شیعہ مذہب میں کبھی مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں سے صرف ایک سیاسی حاکم سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بعد میں بھی اسلام عزیز و غالب نہ رہا تھا تابدیگران چہ رسد مذہب اہلسنت میں آپ چوتھے امام تھے۔

ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم مراد نہ ہونے کی تیسری دلیل:

تیسری دلیل ان کے مراد نہ ہوسکنے کی یہ ہے کہ ان کی امارت کبھی بھی امت میں مسلم اور مجمع علیہ نہ ہوئی اور حدیث کا مصداق وہ ہیں کلهم تجتمع عليه الامة۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 588) کے امتیاز سے موصوف ہوں رابعاً اس حدیث کا مصداق اگر یہ بارہ ائمہ ہوتے تو انہیں منقسم قریب کے عنوان سے ذکر کیا جاتا یعنی کلهم من بنی ہاشم کہا جاتا يا كلهم من ذريتی کہا جاتا كلهم من قريش سب قریش سے ہوں گے کے عنوان سے مقسم بعید کا ذکر نہ کیا جاتا کیونکہ دو چند چیزوں کی وحدت یا اشتراک ذکر کرنا ہو تو اسے قریبی وحدت و جنس سے ذکر کیا جاتا ہے مثلاً اگر حضورِ اکرمﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خاندانی قربت کو بیان کرنا ہو تو بنو ہاشم بلکہ بنو عبد المطلب سے اس کا تعارف صحیح ہوگا اور بنو اسماعیل کا عنوان بلاغت و مفاد کے خلاف ہوگا اب آئیے حدیث کے اصل مفہوم و مصداق کی طرف جس کی وضاحت معترض کو درکار ہے۔

حدیث کا مفہوم:

حضورﷺ کے اس ارشاد میں خلافت علی منہاج النبوت کے حاملین مراد نہیں بلکہ خلفاء سے مراد مطلق امراء ہیں اور برے بھی یہ صرف ایسے بارہ امراء و حکام کی خبردی جا رہی ہے جن کی حکومت تمام قلمرو اسلامیہ میں مسلم ہوگی اور ان 12 حکام تک ایک ہی بیک وقت خلیفہ ایک دار الخلافہ اور ایک ہی جھنڈا ہو گا تو انہیں خلیفہ کہنا حکومت کے لحاظ سے ہے جیسے کہ ترمذی و بخاری کے حوالہ سے اثناء عشر امیراً کے لفظ گزر چکے ہیں صرف حضورﷺ کی جانشینی کے لحاظ سے ہرگز نہیں حقیقی خلافت اور مجازی خلافت ہر دو کے سربراہان اس مطلق خلافت میں جمع ہو سکتے ہیں سننِ ابی داؤد شریف میں آنحضرتﷺ نے ان بارہ کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی حکومت پر پوری امت کا اتفاق ہوگا كلهم تجتمع عليه الامة۔

(ابوداؤد: جلد، 2 صفحہ، 588 ) 

اس قید سے معلوم ہوا کہ خلفائے بنو عباس میں سے کوئی اس کا مصداق نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے جھنڈے دو تھے۔ کہ اس وقت سپین میں بھی خلفائے بنوامیہ بالکل خود مختار تھے عصرِ حاضر کے حکمران بھی اس کے ماتحت نہیں آسکتے کیونکہ یہ بھی بجائے ایک حکومت یا جھنڈے کے ماتحت ہونے کے بجائے متعدد مستقل و آزاد خود مختار حکومتوں میں منقسم ہیں یہاں صرف تین اشکال باقی ہیں:

صفحہ 10 از 15