عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 15

ا: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان بارہ افراد میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں جب کہ آپ کے عہد میں حضرت امیرِ معاویہؓ بھی امیر تھے جواباً گزارش ہے کہ اس وقت خلافت کا جھنڈا صرف ایک یعنی حضرت علی المرتضیٰؓ کا تھا ان کے مقابلے میں حضرت امیرِ معاویہؓ خلافت کے مدعی ہرگز نہ تھے بلکہ ان کی حیثیت خلیفہ برحق حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے مقدر کردہ گورنر کی تھی اور وہ اپنی اسی حیثیت پر قائم تھے جب تک کہ نئے خلیفہ انہیں شہادتِ عثمانؓ کے جملہ شبہات سے مطمئن نہ کر دیں حافظ ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اس مؤقف کی خود حضرت امیرِ معاویہؓ سے ہی تصریح نقل کی ہے جیسے طبری وغیرہ کے حوالے سے ہم بھی سوال سن 11، 14 عیسوی کے تحت بیان کر چکے ہیں پس جب وہ اس عبوری دور میں ایک مستقل خلافت کے مدعی نہ تھے تو یہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت دو خلیفہ تھے خلیفہ برحق حضرت علی المرتضیٰؓ تھے اور حضرت امیرِ معاویہؓ عبوری طور پر ایک اجتہادی غلط فہمی سے اس چوتھی خلافت کو تسلیم کرنے سے رکے ہوئے تھے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کے بعد یہ اختلافات بھی ختم ہو گئے اور جمہور اہلِ سنت نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حکومت کے برحق ہونے پر اجماع کر لیا اور اسی طرح یہ چوتھی خلافت بھى كلهم تجتمع عليه الامہ کے ماتحت آگئی اور یہ اجماع عام ہے کہ وقتِ حکومت ہو یا بعد الحکومت بہر حال حکومت مجمع علیہ ہونی چاہیئے۔

ب: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ان بارہ حکام میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں جب کہ آپ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا جواب یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے اس وقت بارہ میں معدود ہیں جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت بھی ان کے سپرد کر دی اور اس وقت تمام مسلمانوں کا جھنڈا ایک ہو گیا تھا اس دور میں سے تا وفات 20 سال تک سیدنا امیرِ معاويہؓ كلهم تجتمع عليه الامة كا يقيني مصداق تھے۔ 

(بحوالہ عبقات: صفحہ، 384 از علامہ خالد محمود)

ج: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا بیٹا یزید جس کے مقابل حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ خود مختار حکومت کے مدعی تھے ان بارہ میں شمار ہوگا یا نہیں جواباً گزارش یہ ہے کہ جمہور اہلِ سنت کے نزدیک یزید ان بارہ میں شامل نہیں علامہ حافظ سیوطیؒ نے تاریخ الخلفاء میں ایک قول اور ملا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں بے شک اس کو شمار کیا ہے مگر یہ ایک قول کی حکایت یا ان کی ذاتی رائے ہے اجماعی مسلک نہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ قرۃ العینین میں رقم طراز ہیں:

و یزید بن معاویہؓ خود ازیں میاں ساقط است بجہت عدم استقرار ومدت ا متد بها وسوء سیرت او۔

(قرة العینین: صفحہ، 298 مجتبائی دہلی)

ترجمہ: یزید بن معاویہؓ اس شمار سے باہر ہے کیونکہ معتد بہا مدت تک اسے استقرار نہ رہا اور اس کی سیرت بری تھی۔

مگر شیعہ حضرات کو شرح فقہ اکبر تاریخ الخلفاء کے بیان سے اتنا جزبز نہ ہونا چاہیئے کیونکہ ان کے چوتھے امام نے تو یزید کے ساتھ 15 دن دستر خوان پر کھانا کھایا ہدایا اور مالی نقصانات وصول کیے حرہ میں یزید کی مخالفت نہ کی بلکہ روضہ کافی: صفحہ 230 کے بیان کے مطابق خود کو یزید کا مجبور غلام کیا اور عملاً بیعت کر لی یزید کے نامبارک دور میں حادثہ کربلا و واقعہ حرہ جیسے عظیم حادثات پیش آئے مگر ان کی زیادہ تر ذمہ داری ماتحت عملہ اور فوج پر ہی آتی ہے اور براہِ راست اس کی طرف نسبت نہ کرنے میں مصلحت یہ ہے کہ عہدِ مرتضوی میں جمل و صفین میں اس سے کہیں زیادہ مسلمانوں کی عزت اور جانوں کا نقصان ہوا جب کہ براہِ راست کمان آپ کے ہاتھ میں تھی بلاشبہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و یزید میں تقابل کا سوال نہیں مگر امت میں فرقہ بندی کے پیشِ نظر ایک ناصبی یزید کے خلاف مواد کو حضرت علیؓ کے خلاف استعمال کر سکتا ہے تو یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ جیسے حادثہ کربلا کی ذمہ داری بیشتر اہلِ کوفہ ابنِ زیاد اور شمر پر ہے اور حرہ کی چند سیاسی شاطروں اور درندہ صفت فوجیوں پر ہے۔ اسی طرح جمل و صفین کے خونی ڈرامے بلوائیانِ عثمان اور سبائیوں کے باتفاق مؤرخین رہینِ منت ہیں گو وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فوجی ہیں اس طرزِ ادا سے یزید سے دفاع مقصود نہیں بلکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے دشمنوں کی زبان بند کرنا ہے ان بارہ میں مروان بن حکم کے بجائے سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کو شمار کرنا زیادہ موزوں ہے یہی امام مالکؒ کی رائے ہے اور یہی محدث ابنِ جوزئیؒ کا فیصلہ ہے۔

اس حدیث کی تفہیم کے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ اس روایت کے کسی طریق میں ان بارہ خلیفوں کی کوئی دینی ثناء منقول نہیں حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:

لم يروا الحديث لمدحهم والثناء عليهم بالدين وعلى لهذا فاطلاق اسم الخلافة فی هذا الحديث بالمعنىٰ المجازى واما حديث الخلافة من بعدى ثلاثون سنة فالمراد خلافة النبوة۔

يہ حدیث ان خلفاء کی دینی مدح و ثناء میں مروی نہیں بنا بریں خلافت کے لفظ کا اطلاق اس حدیث میں حجازی معنیٰ کے طور پر ہے ہاں اس حدیث میں خلافت سے مراد حقیقی معنیٰ خلافتِ نبوت ہے۔ خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی۔ (فتح الباری)

صفحہ 11 از 15