عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 12 از 15

یہ بے شک صحیح ہے کہ بارہ امراء کی اس روایت میں لا یزال هذا الدین عزیزاً آیا ہے کہ یہ دین ان بارہ امراء کے زمانے تک ضرور غالب رہے گا لیکن اس غلبے سے مراد دین کا داخلی غلبہ نہیں کہ ان کے زمانے میں تمام لوگ بڑے نیک اور دین دار ہوں گے بلکہ مراد دین کا خارجی غلبہ ہے کہ کوئی غیر مسلم بیرونی طاقت مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہو سکے گی اور رقبہ اسلام ہر مخالف سلطنت کے لیے ارض منیع و محفوظ ہو گا جس کی طرف ہر غیر مسلم طاقت کو رخ کرنے میں رکاوٹ ہوگی جیسے کتبِ تاریخ میں ہے کہ جب خلافت مرتضوی میں اندرونی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر روم کے بادشاہ نے مقبوضاتِ علوی پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے للکارا او رومی کتے! میں اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھائی ہیں اگر تو نے ان کے علاقہ کا رخ کیا تو میں ان سے صلح کر کے ان کی طرف سے تمہارا ایسا مقابلہ کروں گا کہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا چنانچہ شاہِ روم سہم گیا اور حملہ کی جرات نہ کی عزیز کا معنیٰ دین کا خارجی غلبہ خود حضورِ اکرمﷺ سے بھی منقول ہے۔

لا يزال هذا الدين عزيز ا منيعا الى اثنی عشر خليفة۔

ترجمہ: یہ دین غالب اور بیرونی حملوں سے محفوظ رہے گا جب تک بارہ خلفاء ہوں گے۔

(مسلم: جلد، 2 صفحہ، 119)

علاوہ ازیں یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ یہاں عزیز ہونا دین کی صفت ہے ان بارہ امراء کی صفت نہیں اگر ان بارہ میں بعض ظالم اور غلط کار بھی ہوں مگر عوامی سطح پر دین غالب رہے تو ایسا بسا اوقات ہوا ہے دیگر پہلووں سے اللہ نے دین کی خدمت لے کر اسے مضبوط کیا ہے۔

حدیث کے مصداق کون سے بارہ افراد ہیں:

 ان کی تعیین میں واقعی ابہام اور اختلاف ملتا ہے مہلب کہتے ہیں میں کسی کو بھی نہ ملا جو اس کی قطعیت کا دعویٰ کرتا ہو چند اقوال یہ ہیں:

1: ان بارہ میں سے کچھ ہو چکے ہیں اور کچھ باقی ہیں گنتی ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔

2: اس وقت تک اسلام کا غلبہ رہے گا جب تک مسلمان حکومتوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 12 ہو گی۔

3: یہ بارہ حضرات وہ ہوں گے جو امام مہدی کی وفات کے بعد ولایت سنبھالیں گے کتاب دانیال میں ہے کہ امام مہدی کی وفات کے بعد پانچ افراد ان کے بڑے بیٹے کی نسل سے پھر پانچ چھوٹے کی اولاد میں سے فائز حکومت ہوں گے ان پانچ کے بعد پھر بڑے بیٹے کی نسل میں سے ایک شخص والی حکومت ہوگا اور اس کے بعد اس کا بیٹا جانشین ہوگا۔

(حاشیہ بخاری: جلد، 2 صفحہ، 1072)

 اس صورت میں یہ حدیث خالص اشراط الساعۃ کے سلسلے میں شمار ہوگی الغرض محدثین نے تمام مختلف اقوال ذکر کر دیے مگر عند الشیعہ 12 بزرگوں کو کسی نے شمار نہیں کیا۔

راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیثِ مذکور میں جن بارہ حکمرانوں کی خبر دی گئی ہے وہ یہ ہیں۔ 

1: سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  

2: سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ 

3: سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ

4: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  

5: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ 

6: سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ رضی اللہ عنہ

7: عبد الملک

8: ولید 

9: سلیمان

10: سیدنا عمر بن عبد العزيزؒ 

11: یزید بن عبد الملک 

12: ہشام بن عبد الملک

ہشام بن عبدالملک آخری خلیفہ ہیں جن کے عہد تک مسلمانوں کا جھنڈا ایک رہا بعد میں ولید بن یزید کے دور سے بنوامیہ کا زوال شروع ہو گیا قاضی عیاض خلافت کی عزت قوتِ اسلام اور اجتماعی امور کی درستی خلیفہ واحد یہ سب کا اتفاق مراد لے کر ولید سے خلل مانتے ہیں شیخ الاسلام ابنِ حجرؒ قاضی عیاض کے قول کو بہتر اور راجح کہتے ہیں

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 16)

علامہ سیوطیؒ متعدد اقوال اس بحث میں نقل کر کے آخر میں لکھتے ہیں:

ایک قول یہ بھی ہے کہ بارہ خلفاء کا وجود بلا تسلسل تا قیامت مراد ہے جو اپنے اپنے عہد میں عمل بالحق کریں گے اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو محدث مسدد تو نے اپنی مسندِ کبیر میں روایت کی ہے۔

لا تهلك هذه الأمة حتىٰ يكون منها اثنی عشر خليفة كلهم يعمل بالهدى ودين الحق منهم رجلان من اهل بیت محمدﷺ۔

ترجمہ: یہ امت اس وقت تک ہلاک نہ ہو گی جب تک بارہ خلیفے رہیں گے ہر ایک ہدایت اور دینِ حق کے مطابق عمل کرے گا ان میں سے دو خلیفے حضرت محمدﷺ کے اہلِ بیتؓ سے ہوں گے۔

بنا بریں 12 میں سے 8 خلیفے تو گزر چکے ہیں، خلفائے اربعہ راشدینؓ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ بنو عباس میں سے مہتدی باللہ کو اس میں شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ایسا نیک تھا جیسے عمر بن عبد العزیزؒ بنوامیہ میں نیک تھے اسی طرح طاہر باللہ بھی عدل و انصاف والا تھا اب دو کی انتظار ہے ایک ان میں مہدی ہیں جو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم محمدﷺ ہیں۔

(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 17)

حدیث من مات کی بحث:

اب آئیے حدیث من مات ولم یعرف امام زمانہ جیسے معترض نے "منصبِ امامت" کے حوالے سے نقل کیا ہے منصبِ امامت میں اسی سیاق و سباق میں کہ امامِ وقت کی اطاعت ضروری ہے ورنہ ربِ قدیر کی دار و گیر سے خلاصی نہ ہو سکے گی یہ جملہ یعنی منقولہ تو ہے مگر اسے نہ حدیثِ نبوی بتایا نہ اثرِ موقوف علی الصحابی بتایا نہ کسی کتاب کا حوالہ ہے ہمارے علم میں بھی اس کا صحیح حدیثِ نبوی ہونا نہیں ہے جب تک اس کے مأخذ اور سند کا پتہ نہ چلے اور نہ معترض بتائے اصولاً ہمیں اس کا جواب دینا لازم نہیں ہاں اس کے قریب المعنیٰ ایک اور حدیث سیدنا شاہ صاحبؒ نے لکھی ہے کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا ہے: صلوا خمسكم و صوموا شهركم وادوا زکوٰۃ اموالكم واطیعوا امیرکم اذا امركم تدخلوا جنة ربكم۔ 

(منصبِ امامت: صفحہ، 144)

ترجمہ: پانچ نمازیں پڑھو ماہِ رمضان کے روزے رکھو اپنے مالوں کی زکوٰۃ دو اور حاکموں کی فرمانبرداری کرو جب وہ جائز بات کا حکم دیں اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

اس حدیث سے جو کچھ مستفاد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے حاکموں اور امراء کی اطاعت کرو سو الحمدللہ اہلِ سنت کا یہی مذہب ہے وہ نظامِ خلافت کے قائل اور خلیفہ کی تمام جائز باتوں میں اطاعت واجب کہتے ہیں اور یہ بات لاتعداد احادیث سے ثابت ہے۔

صفحہ 12 از 15