عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 15

شرعی احکام استطاعت سے واجب ہوتے ہیں اور کئی احکام کا وجوب زمان مکان اور خاص حالات و شرائط کے تحت ہوتا ہے اور شرط یا قید کے فقدان سے اس حکم کی وہ کیفیت باقی نہیں رہتی انقلابات زمانہ اور مرور دہر سے نظامِ خلافت پر اثر پڑا اور مسلمان متعدد حکومتوں اور ریاستوں میں تقسیم ہوگئے اور ان کو باضابطہ خلیفہ مل نہ سکا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب سب لوگ مرتد سمجھے جائیں گے اور عہدِ جاہلیت کے احکام ان پر مرتب ہوں گے اور اس کے برعکس یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر کسی جگہ مسلمانوں کی سیاسی حکومت قائم ہو اور اس کا سر براہ خلافت علی منہاج النبوۃ کے اوصاف و شرائط پر پورا نہ اترے تو اس کی جائز باتوں میں بھی اطاعت نہ کی جائے یا علمِ بغاوت بلند کیا جائے کیونکہ یہ دونوں باتیں افراط و تفریط کے ذیل میں آئیں گی ایسی صورت میں اسلامی سیاست و قوانین کو سامنے رکھ کر یہی قدر مشترک نکالا جائے گا کہ تمام مسلمان اس کوشش میں ضرور رہیں کہ سب دنیا میں ان کا مرکز خلافت ایک ہو اور تمام حکومتیں آزاد اور خود مختار ریاستیں ہونے کے باوجود عالمی طور پر ایک ایسا سر براہ ضرور بنا لیں جو بڑے بھائی کی طرح ان کی حکومتوں کی نگرانی کرے ان کے سرحدی جھگڑوں کا تصفیہ کرے اور تمام ممالکِ اسلامیہ کا یہ متحدہ بلاک غیر مسلم قوتوں کے ساتھ بھی معاہدے اور خارجہ پالیسی اختیار کر سکے اور جب تک ایسی صورت میسر نہ آئے ہر ملک کے باشندے اپنی حکومتوں سے صحیح تعاون کریں اطاعت کریں اور شرعی احکام نافذ کرنے کے لیے حکومت کو مجبور کریں فرض کیجئے کہ ان تمام تر کوششوں کے باوجود حکومتِ شرعی قوانین جاری نہیں کرتی جیسے پاکستان وغیرہ میں مشاہدہ ہو رہا ہے اور لوگ خلیفہ شرعی کی اطاعت سے باوجود تمنا کے محروم ہیں تو اس کا وبال ان حکومتوں پر ہو گا یا ان قومی نمائندوں پر جو اسمبلیوں میں جاکر اپنے فرائض سرانجام نہیں دیتے بلکہ ظالموں کا تر نوالہ بن کر قوم سے خیانت کرتے ہیں ایسی صورت میں کسی شرعی دفعہ سے یا عقل و آئین کی رو سے ان تمام عامی مسلمانوں کو زمانہ جاہلیت کی طرح ایمان و نجات اخروی سے محروم مانا جائے گا؟ مجبوری کے تحت ان حالات میں مقامی حکام کی جائز باتوں میں اطاعت ایسی ہو گی جیسے ایک شرعی خلیفہ کے عمال اور نمائندوں کی ہوتی ہے اور اطیعوا امیرکم کے فرامین بلاشبہ ان چھوٹے چھوٹے سرکاری افسروں اور نمائندوں کو بھی بھاری ہوں گے۔

اصولِ کافی جلد، 1 صفحہ، 402 پر یہ باب ہے باب ما امر النبیﷺ بالنصيحة لائمة المسلمين واللزوم بجماعتهم۔

پھر ایک حدیث میں حضورﷺ کا یہ فرمان ہے:

ثلاث لا یغل عليهن قلب امرء مسلم اخلاص الامر لله والنصيحة لأئمة المسلمين واللزوم بجماعتهم فان دعوتهم محيطة من وراءھم

ترجمہ: مسلمان کے دل میں تین باتوں کے متعلق کھوٹ نہیں ہوتا خالص خدا کے لیے کام کرنا مسلمان محاکموں کا خیرخواہ و مطیع ہونا ان کی جماعت میں شامل رہنا کیونکہ ان کی دعوت سب کو شامل ہوتی ہے۔

اور ایک حدیث میں آپ کا یہ ارشاد ہے:

عن أبی عبد الله قال من فارق جماعة المسلمين قيد شبر فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا جو مسلمانوں کی جماعت سے بالشت بھر علیحدہ چلے اس نے اسلام کا پٹہ اپنے گلے سے نکال دیا۔

یہ شیعی احادیث وضاحت سے اس امر پر دال ہیں کہ اجتماعی نظم و نسق کے لیے حکام اور ان کے ماتحت نمائندوں کی جائز امور میں اطاعت ضروری ہے جب سب مسلمان یا ان کی اکثریت جائز امور میں اس سربراہ کی اطاعت کرنے لگے تو وہ سیاسی حاکم وامام ہے تو اب کسی کو بلا مسئلہ شرعی کے اس سے انحراف و مخالفت جائز نہیں اور جماعتِ مسلمین سے بالشت بھر انحراف گویا اسلام سے انحراف ہے اب اس کی خیر خواہی لازم ہے کیونکہ ایسے ائمہ حکام کی دعوت سب کو شامل ہے گویا اس مسئلہ میں سنی شیعہ کا اختلاف نہیں ہے۔

اگر کسی صاحب کو شبہ ہو کہ اس سے مخصوص عند الشیعہ بارہ ائمہ مراد ہیں تو سیاق و الفاظ اس کے متحمل نہیں اور نہ وہ حضرات سیاسی سطح پر ابھر کر اطاعت کا مقام حاصل کر سکے۔

حدیث من مات کے معنیٰ:

اب مذكورة الصدر حدیث اگر ثابت ہے تو اس کا یہی مفہوم ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی حکمرانوں کی جائز امور میں اطلاعت ضروری ہے اور بلاوجہ اس کی اطاعت نہ کرنا یا مخالفت کرنا گویا زمانہ جاہلیت کا دستور اپنانا ہے اگر یہ حدیث ثابت ہے تو خود شیعہ پر عظیم حجت ہے کیونکہ ان کی تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ مسلمان سیاسی حکام و پیشواؤں کی انہوں نے کبھی اطاعت نہیں کی بلاوجہ مخالفتیں روح اسلام کے خلاف مقاصد کے لیے بغاوتیں کیں خود بھی کئی مصائب و محن میں الجھے اور حکومتوں کو بھی پریشان کیا اور مسلمانوں کے مسائل کو حتی الامکان الجھایا اور حکام کا کہنا ہی کیا ہے خود خلیفہ راشد رابع حضرت علی المرتضیٰؓ کی مخالفت کی اور پریشان کیا جیسے نہج البلاغہ روضہ کافی کے بکثرت خطبات ان کی شکایت و مذمت میں بھر پور ہیں حضرت امیرِ معاویہؓ سے مصالحت اور بیعت کی وجہ سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر انہوں نے قاتلانہ حملہ کیا مذل المؤمنین بتایا برسوں تک سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس عمل و فیصلہ پر اطمینان و ایمان کا اظہار نہ کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جو سلوک ان لوگوں نے کیا وہ کسی کہ ومہ سے مخفی نہیں سیدنا زین العابدینؒ نے تمام شیعوں سے دل گرفتہ ہو کر یزید سے مصالحت و حمایت کی ٹھانی اور یزید سے عطیات لیتے رہے واقعہ حرہ میں کوئی شرکت نہ کی یزید نے بھی سیدنا زین العابدینؒ اور ان کے متعلقین کی حفاظت کا خصوصیت سے حکم دیا سیدنا باقرؒ و سیدنا جعفرؒ نے سیاست کو طلاق دے کر صرف علمی مشغلہ اختیار کیا اور مدینہ منورہ کو ہی جگمگایا مگر کافی باب الکتمان کی روایت کے مطابق آپ کے سترہ حمایتی شیعہ بھی نہ تھے ورنہ آپ شاہ وقت کا ضرور مقابل کرتے بعد والے ائمہ کو تو مزید قحط رجال شیعہ کا شکار ہونا پڑا اور موجود چند بوالہوسوں کو خوب سنائیں اور حضرت صاحب العصر مہدی تو ساڑھے گیارہ سو سال سے نامعلوم غارمیں 313 مؤمنوں کے انتظار میں چھپے ہوئے ہیں یہ تمام امور باحوالہ ہم سابق ذکر کرچکے ہیں یہاں بطورِ مثال و اشارہ کافی ہے۔

صفحہ 13 از 15