عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 14 از 15

الفرض امام زمانہ سے مراد کچھ بھی ہو شیعہ نے یقیناً ان کی مخالفت کی اطاعت سے انحراف کیا اور زمانہ جاہلیت کی موت قتل و غارت ان کو نصیب ہوئی۔

2: بیشتر شیعہ اس حدیث کو حضرت مہدی منتظر پر چسپاں کرتے ہیں اور ان کا لقب ہی امام العصر و امام زمان مشہور کیا ہے بایں معنیٰ بھی یہ حدیث شیعہ کے سخت مخالف ہے کیونکہ معرفت امام زماں سے اگر کم از کم پہچان اور رویت ہی مراد ہو تب بھی تمام شیعہ 150 سال سے ان کی معرفت سے محروم ہیں آخر کس نے امام کو دیکھا کس نے ان کی عملی زندگی مشاہدہ کی کون جانتا ہے کہ امام موصوف نماز روزہ کیسے ادا کرتے ہیں ان کے عبادت کے دیگر معمولات کیا ہیں ان کی معاشرتی زندگی کیسی ہے ان کی عائلی زندگی کس طرح گزرتی ہے وہ امامت کے فرائض کیسے سر انجام دیتے ہیں وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض کس کو اور کیوں کر ادا کرتے ہیں ان کی ظاہری وضع قطع اور شیعہ کے لیے اسوہ حسنہ کیا ہے ظاہر ہے کہ شیعہ کا کوئی فرد یا کوئی جماعت نہ ان باتوں کو معلوم کر سکتی ہے ان کے پاس کوئی ذریعہ ہے اگر نائب امام یا سفیر و ترجمان امام کا کوئی نہ فرضی و خلاف شرعِ امامیہ عہدہ ہے تو پھر پہچان صرف اسے ہی ہوگی اور تو کسی کو نہیں پھر ان کو بھی نہ زیارت کا شرف حاصل ہوا نہ ہی ہاتھ ملانے کا کیا معلوم ان کے کان میں جو آواز گونجتی تھی وہ کسی ناری مخلوق کے اس فرد کی ہو جس کی اسلام و انبیاء سے روز اول سے دشمنی ہے کیا معرفت امام اسی جہالت کا نام ہے؟ اگر معرفت سے مراد اطاعت ہے اور حدیث کا بھی یہی مطلب و تقاضا ہے ورنہ نفسِ پہچان رؤیت یا کلام بلا اطاعت و ایمان تو کفار کو انبیاء علیہم السلام سے بھی حاصل رہا ہے پھر اس معرفت نے ان کو فائدہ نہ دیا تو شیعہ اثناء عشریہ سب سے زیادہ مسکین اور قابلِ رحم فرقہ ہے جن کا نام خود انہی کے خوف سے بعمر 4، 5 سال سے غارِ سر من رای میں جا چھپا ہے اور تاہنوز باہر نکلنے کی جرأت نہیں ہے حالانکہ شیعہ کے بقول ان کے ہم مذہب ایران جیسی حکومت بھی قائم ہے شیعہ "امامت" کا منشاء و مقصد تو صرف یہ تھا کہ امام زمان تازہ بتازه احکام دے اور زمانے کے تقاضے کے مطابق شیعہ کی راہنمائی کرے بدعات کا خاتمہ کرے قوانینِ اسلام کا نفاذ کرے اور لوگوں کو ان پر عمل کروائے مشکلات میں ان کا ساتھ دے دینی اختلافات رفع کر دے یہ مقصد تو از خود دفن ہوگیا اور شیعہ امام زمانہ کی اطاعت اور تعلیم و تربیت سے یکسر محروم ہو گئے آج ان کے پاس منسوخ شدہ امامتوں کے کچھ ارشادات ہیں وہی ان کے مذہب کا ڈھانچہ ہیں اس سے قطع نظر کہ یہ بھی ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کا مصداق ہیں اور شیعہ آج سیدنا جعفرؒ و سیدنا باقرؒ کے سینکڑوں ارشادات کی کھلی خلاف ورزی کر کے غیر معصوم خاطی شریعتمداروں نام نہاد مجتہدوں بلکہ فاسق و فاجر ذاکروں کی پیروی کرتے ہیں جو مسائل آج امامیہ کا شعار ہیں اور ان کی تردیج پر ہی سب کوششیں مرکوز ہو رہی ہیں مثلاً کلمہ اذان ترکِ تقیہ اشاعتِ مذہب عزاداری بجمیع اقسام وغیرہ تمام تر ائمہ کی تعلیمات کے خلاف ہیں قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ اصولِ شیعہ کے مطابق ایک امام کے اقوال صرف اس کی زندگی تک حجت اور معمول بہا ہیں بعد از وفات امام بھی نیا احکام بھی نئے تبھی تو ہر زمانے کا امام جدا مانا گیا ورنہ ایک امام ہی کافی تھا جسے شیرِ خدا اقصیٰ الامتہ کہا جاتا ہے اگر آپ کے ارشادات حجت و ائمہ ہوتے تو آپ کی وفات سے لوگوں کے ذہن سے از خود مٹ تو نہ گئے تھے رہتی دنیا تک آپ کے ماننے والوں کے ذریعے راہنمائی کا کام دے سکتے تھے پھر کیوں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ الخ کو یکے بعد دیگرے امام مانا گیا اور ایک کی زندگی میں دوسرے کو کبھی امام و حجت نہ مانا گیا اگر ایک امام کی سنت اور ارشاداتِ دائماً حجت ہوتے تو پھر ائمہ میں اختلاف نہ ملتا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا خلفائے ثلاثہؓ سے تعاون سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یزید سے مقابلہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے جنگ سیدنا حسنؓ کی مصالحت و بیعت سیدنا حسینؓ کی یزید سے جنگ اور سیدنا زین العابدینؒ کی بیعت و مجبورانہ غلامی علی هذا القياس تضادات نہ ملتے یہ تمام حقائق اس بات پر دال ہیں کہ ہر امام اپنے اپنے زمانے کا مستقل ہوتا ہے سابقہ امام کے اقوال و افعال اس کے ہاں منسوخ ہوتے ہیں ایک پیغمبرِ وقت کی طرح وہ زمانہ کے مسائل حل کرتا اور لوگوں سے اتباع کرواتا ہے۔

اگر امامِ سابق کے ارشادات اس کی وفات کے بعد بھی حجت اور واجب العمل ہیں تو پیغمبر آخر الزمانﷺ اس منصب کے زیادہ مستحق ہیں پھر عقیدہ امامت کے اختراع کی ضرورت ہی کیوں ہوئی کیا آخری دین کے علمبردار شریعت ابدیہ کے تاجدار سید و آقا، نامدار سید رسل محمد مختارﷺ کے اقوال افعال زندگی کے تمام مسائل کے لیے کافی نہ تھے یا کیا وہ حضورﷺ کی وفات سے ہی آپ کے ساتھ رخصت ہو گئے ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہزاروں ارشادات یاد تھے اور وہ ان پر عمل کرتے اور دوسروں کو تبلیغ کرتے تھے مگر ایک شیعہ کے نزدیک وہ تمام حضرات دین علم اور ایمان سے اس لیے کورے تھے کہ انہوں نے از سر نو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کیا اور ان سے علم و شریعت کا سر رشتہ تعلیم استوار نہ کیا اس کا مطلب واضح تر ہے کہ ارشاداتِ محمدیہﷺ بھی عند الشیعہ ہدایت کے حامل اور دائمی راہنما نہ تھے یہ سیٹ سیدنا علیؓ نے لی اور اسی طرح حضرت علیؓ نے یکے بعد دیگرے حضرت مہدی تک پہنچی اور پھر یہ سلسلہ ایسا جام ہوا کہ شیعہ حضرات کو بہت پیچھے جا کر پانچویں یا چھٹے امام سے رابطہ قائم کرنا پڑا حالانکہ ان کے کے ارشادات سے تمسک اب ایسا ہی ہے جیسے کوئی پیغمبر آخرالزمانﷺ کا امتی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ارشادات سے تمسک کرے کیونکہ شیعہ کے نزدیک امامت نبوت کی طرح ہے اور ایک امام کا دوسرے سے اختلاف۔ ایک پیغمبرِ وقت کے دوسرے پیغمبرِ وقت سے اختلاف کی طرح ہے۔

صفحہ 14 از 15