عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 15 از 15

حاصل کلام یہ نکلا شیعہ کو معرفتِ امام اس کی اطاعت سے ہی مفید ہے اور اطاعت کے لیے ارشادات و اعمال کا سامنے ہونا ضروری ہے اور حضرت مہدی غائب سے اس کا تصور بھی ممکن نہیں تو معرفتِ امام سے جہالت اور اطاعت سے محرومی میں شیعہ برابر ہو گئے شیعہ کو الزام دہی کا موقع نہ رہا۔

کچھ شیعہ نے اس مشکل کو بھانپ کر یہ عذر لنگ ضرور تراشا ہے کہ کافی حضرت مہدی کی مصدقہ ہے اس پر عمل گویا حضرت مہدی کی تعلیمات پر عمل ہے مگر یہ بوجوہ مردود ہے: 

اولاً: تمام شیعہ علماء کو اس پر اتفاق نہیں بھلا امام معصوم ایک غیر معصوم شخص کی تمام مرویات کو بلا رد و قدح کیسے تصدیق کر کے ہذا کاف لشیعتنا کہہ سکتا ہے جو اسکے پونے دو صد سال بعد پیدا ہوا ہے۔

ثانیاً: اگر ایسا ہو تو یہی کتاب کافی سمجھی جائے مگر شیعہ تین اور اہم کتابوں کو بھی اصولی اور واجب الاتباع مانتے ہیں اور مزید دسیوں کتب کو جز و مذہب اور قابلِ اطاعت سمجھتے ہیں یہ تو کھلا شرک ہوا یا فرمانِ امام کی تکذیب و تردید ہوئی۔

ثالثاً: شیعہ علماء کو بلا چون و چرا کافی کی تمام روایات ماننی چاہیں مگر وہ اس کی ہزاروں روایات سے آج گریزاں ہیں اور غلط ماننے پر مجبور ہیں جیسے کلام اللہ کی تحریف والی روایات بعض کے نزدیک یا جو روایات بھی آج ان کے رواجی مذہب کے خلاف ہوں۔

جاہلیت کی موت کیوں ہو گی؟

امام زمان کو پہچاننے اور عدم پہچان پر جاہلیت کی موت کی وعید تشبیہ کے طور پر بطورِ تغلیظ ہے کہ جسے عہدِ جاہلیت میں لوگوں کا اجماعی نظام نہ تھا ہر قوم و قبیلہ خود مختار تھا اور مسلسل لڑائیاں اور فتنے رونما ہوتے تھے اسی طرح اگر مسلمانوں میں اجتماعی نظام کی وحدت نہ ہو کوئی منظم حکومت اور سربراہِ مملکت نہ ہو تو گویا جاہلیت کا دور ہے انتخاب خلیفہ کے ذریعے اس کا ازالہ ضروری ہے ورنہ سب گنہگار ہوں گے یہی وجہ ہے کہ انگریز کی سازش اور مصطفیٰ کمال کے خونی انقلاب سے جب ترکی سے خلافت کا خاتمہ ہوا تو تحریکِ خلافت کے نام سے تحریکیں مختلف ممالک میں بیدار ہوئیں متحدہ ہند میں بھی اس کا زور رہا حضرت مولانا عبید اللہ سندھی جیسے حضرات اس حالت کو عہدِ جاہلیت کی یادگار ہی جانتے تھے گویا یہ حدیث خبر بمعنیٰ انشاء ہے کہ مسلمان نظامِ خلافت کو ضرور قائم کریں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر ایسا متحدہ نظامِ خلافت حاصل نہ ہو سکے تو سب لوگ عہدِ جاہلیت کی طرح کافر سمجھے جائیں گے اور ارتداد کا فتویٰ ان پر لگے گا کیونکہ عہدِ جاہلیت میں بھی "امتِ مسلمہ" کے تحت شیعہ ایک قریش کی جماعت کو مؤمن مانتے ہیں اور کتبِ تاریخ و سیرت بھی معدود افراد کا رسومِ جاہلیت سے پاکدامن ہونے کا پتہ دیتی ہیں جیسے زید بن عمرو بن نفیل، ورقہ بن نوفل متعدد راہبان وغیرہم۔

امام زمان کا ایک اور مصداق:

یہ بھی مطلب بعض علمائے کرام بتاتے ہیں جیسے امام اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ نے النجم دور قدیم میں زیرِ بحث حدیث من مات ولم یعرف امام زمانہ کا لیا تھا کہ امام زمانہ سے مراد آسمانی کتاب ہو اور مطلب یہ ہو کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام یعنی کتاب اللہ پر ایمان نہ لائے اور اس کی اتباع نہ کرے وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور امام کا اطلاق کتاب اللہ پر ہوا جیسے: 

وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً‌ الخ۔(سورۃ ہود: آیت 17)

ترجمہ: اور اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب شاہد تھی درانحالیکہ امام اور رحمت تھی۔

جب توراۃ امام ورحمت ہے تو قرآنِ مجید بدرجہ اتم امام و رحمت ہے اور فرشتہ کتاب پر امام کا اطلاق اور آیات میں بھی آیا ہے جیسے سورۃ یٰس میں ہے: 

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَاٰثَارَهُمۡ وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ۞

(سورۃ یٰسین: آیت 12)

ترجمہ: بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیجتے ہیں اور جو آثار ان کے پیچھے رہ جاتے ہیں ان سب کو ہم لکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امام مبین میں ازروئے علم و شمار جمع کر لیا ہے۔

روشن امام سے مراد یا لوحِ محفوظ ہے یا اعمال نامہ۔ سورۃ سباء میں اعمال نامہ کی تائید ہوتی ہے۔

وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡن ۞(سورۃ سبا: آیت 3)

ترجمہ: اور نہ اس ذرے سے چھوٹی چیز پوشیدہ ہے اور نہ بڑی مگر یہ کہ کھلی کتاب میں سب مذکور ہے۔

العرض لغت و شرع کی رو سے امامِ زمان قرآنِ مجید کو کہنے پر کوئی امتناع نہیں جب شیعی امامِ زمان کی اتباع ناممکن ہے سنی ائمہ کو شیعہ نہیں مانتے تو بہتر یہی ہے کہ بالاتفاق قرآن کو امام زمانہ تسلیم کر کے اس کی اتباع سے جنت اور رضائے مولیٰ کی سند حاصل کی جائے اور نزارع کا خاتمہ ہو جائے۔


صفحہ 15 از 15