عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 15

سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص ہم اہلِ بیتؓ کے امام کو نہیں بنتا فانما يعرف ويعبد غير الله هكذا

بلا شبہ وہ غیراللہ کو مانتا اور بخدا غیر اللہ کی گمراہی سے عبادت کرتا ہے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 59)

ترجمہ: پھر اگر کسی معاملے میں تم آپس میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو بشرطیکہ تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔

معلوم ہوا کہ وَاُولِى الۡاَمۡرِ سے اختلاف کی صورت میں صرف خدا اور رسول ہی فیصل آخری حجت اور مرجع عوام ہیں ان کے بعد امام ہوتا تو اس کا ذکر ضرور ہوتا

پیغمبر کی طرح امام کی اطاعت بھی فرض ہے۔

4: پیغمبر کی طرح امام کی اطاعت بھی فرض ہے:

باب فرض طاعۃ الامام میں ہے:

من إبى عبد الله يقول نحن قوم فرض الله طاعتنا۔

ترجمہ: سیدنا ابو عبداللہؒ فر ماتے ہیں ہم وہ قوم ہیں کہ اللہ نے ہماری اطاعت فرض کر دی ہے۔

حالانکہ قرآنِ پاک میں بیسیوں مقامات پر یہ جملہ آیا ہے: اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ الخ۔

ترجمہ: کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی صرف ایک مقام پر وَاُولِى الۡاَمۡرِ کی اطاعت کا ذکر ہے مگر وہ بھی ضمناً اور طبعاً ہے کہ ان سے اختلاف کی صورت میں خدا و رسول کی طرف رجوع اور ان کی اتباع کرنی ہوگی (پارہ 5 آیت 5) خدا و رسول کی اطاعت پر ہی جنت کا وعدہ اور مخالفت پر جہنم کی جگہ جگہ وعید سنائی گئی ہے البتہ ایک مقام پر مخالفت رسول کے ساتھ سبیل مؤمنین کی مخالفت پر جہنم کی وعید سنا کر اجماعِ امت کی حقانیت پر دلیل دی ہے نیز یہ ارشاد صرف انساع نبوی کو فرض قرار دیتا ہے:

وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ الخ۔ 

(سورۃ الحشر: آیت 7)

ترجمہ: جس بات کا تم کو رسول حکم دیں مانو اور جس سے وہ روکیں رک جاؤ۔

5: ائمہ ہی اللہ کی شریعت کے والی اور اس کے علم کا خزانہ ہیں:

یہ کافی اس باب کا ترجمہ ہے: 

باب ان الأئمة ولاة أمر الله وخزنة علمه۔

نیز سیدنا جعفرؒ کی یہ حدیث ہے ہم اللہ کی شریعت کے مالک اس کے علم کا خزانہ اور اس کی وحی کا سٹاک ہیں۔

اور دوسری حدیث میں ہے کہ ہمارے عبادت کرنے سے اللہ کی عبادت کی گئی اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔ (صفحہ، 193)

حالانکہ یہ منصب صرف پیغمبروں کا ہے اور ایسے واضح تعلی آمیز الفاظ انبیاء علیہم السلام کے متعلق قرآنِ پاک میں نہیں ملتے نہ وہ ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں:

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡـكِتٰبَ وَالۡحُكۡمَ وَالنُّبُوَّةَ‌ الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 89)

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقۡتَدِهۡ ‌الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 90)

ترجمہ: وہ وہی ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکومت اور نبوت عطاء کی پھر اگر یہ کفار ان چیزوں کا انکار کرتے ہیں تو کچھ پرواہ نہیں کیونکہ ہم نے تو یہ ان لوگوں کے سپرد کی ہیں جو ان کے منکر نہیں ہیں وہ وہی تو ہیں جن کو اللہ نے راستہ دکھلایا ہے پس اے رسولﷺ تم ان ہی کے راستے پر چلو۔ 

(ترجمہ مقبول: صفحہ، 165)

مذکورہ بالا دعا دی اور متکبرانہ الفاظ منصبِ نبوت میں شرکت کے دعویٰ اور نخوت و خود پسندی پر صریح دال ہیں مرزا غلام احمد قادیانی تو ایسے لفظ بول سکتا ہے مگر ہم ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف انہیں ہرگز منسوب نہیں کر سکتے۔

6: آئمہ اللہ کا نور ہیں:

اس نام کے باب میں ہے کہ امام ابوالحسین سے اللہ کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا گیا:

يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطْفِئُوا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ الخ۔

(سورۃ الصف: آیت 8)

ترجمہ: کفار یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو مونہوں سے بجھا دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور یعنی امامت کو پورا کرنے والا ہے اور امامت ہی نور ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا‌ الخ۔(سورۃ التغابن: آیت 8)

ترجمہ: کہ اللہ پر اس کے رسول پر اور اس کے نازل کردہ نور امامت علی پر ایمان لاؤ۔ (کافی: صفحہ 196)

حالانکہ سیاق و سباق کی روشنی میں یہاں نور اللہ سے مراد اللہ کی توحید ہے اس کے اتمام اور غلبے کا وعدہ فرمایا ہے مگر شیعہ نے اس سے وہ امامت مراد لے لی جسے عہدِ رسول میں بھی بقول شیعہ کسی نے تسلیم نہ کیا بعد از رسولﷺ تو صراحت سے غصب کر لی گئی اور اس نورِ خدا امام کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا گیا۔ (جلاء الجبون: صفحہ، 145) 

اور اس منصب کو آپ کی اولاد سے ایسے دور رکھا گیا کہ وہ نورِ خدا آج 1250 سال سے ایک نا معلوم غار میں غروب ہو چکا ہے اور وعدہ خدائی آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ( العیاذ باللہ)

یہ تو نورِ وصفی کا بیان ہوا اگر ائمہ کے نور اللہ ہونے سے ان کی ذوات کا غیر بشر اور نور من نور اللہ ہونا مراد ہو جیسے عامہ شیعہ کا آج کل یہ عقیدہ ہے تو یہ شرک صریح ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے یہ اعلان کروائیں

 هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ۞(سورۃ الاسراء: آیت 93)

ترجمہ: نہیں ہوں میں مگر ایک انسان رسول۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ الخ۔(سورۃ الکہف: آیت 110)

ترجمہ: فرمائیں بلاشبہ میں تمہارے جیسا آدمی ہوں مگر مجھے وحی آتی ہے تو آپﷺ کی بشری اولاد میں سے 12 حضرات کیسے غیر بشر اور نور اللہ بن جائیں؟

7: ائمہ نبوت کا درخت اور مہبط ملائکہ ہیں:

کافی: صفحہ، 220 میں ایک باب کا عنوان ہے:

باب ان الأئمة معدن العلم و شجرة النبوة ومختلف الملائكة۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے اپنے شاگرد خیثمہ سے فرمایا ہم نبوت کا درخت ہیں رحمت کا گھر ہیں حکمت کے خزانے ہیں علم کی کان ہیں رسالت کی جگہ ہیں فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہیں اللہ کے بھید کی جگہ ہیں ہم اللہ کے بندوں میں اس کی امانت ہیں ہم اللہ کا حرمِ اکبر ہیں اللہ کا ذمہ اللہ کا عہد ہیں جس نے ہم سے عہد پورا کیا اس نے اللہ سے عہد پورا کیا جس نے ہم سے بد عہدی کی اس نے اللہ سے بد عہدی کی۔

صفحہ 2 از 15