عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 15

8: ائمہ اللہ کی زبان اور دروازہ ہیں:

کافی باب النوادر: صفحہ، 145 میں ہے:

سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں ہم ہی اللہ کی حجت ہیں اس کا دروازہ ہیں اس کی زبان ہیں اس کا چہرہ ہیں اس کی آنکھ ہیں ہم اللہ کے بندوں میں معاملات کے سر پرست ہیں اور ایک روایت میں امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا میں اللہ کی آنکھ ہوں اس کا ہاتھ ہوں اس کا پہلو ہوں اس کا دروازہ ہوں۔

"اپنے منہ میاں مٹھو بننا" اس کو کہتے ہیں ہم تو پیغمبروں کی ذات و صفات میں شرکت کا تذکرہ کر رہے تھے خیر سے خدا بھی وحدہ لا شریک لہ نہ رہا اور اس کے بھی ہاتھ آنکھ پہلو زبان و غیرہا اعضاء تسلیم کر کے ائمہ ان پر قابض ہو گئے حالانکہ اس کا ارشاد ہے 

لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَىۡءٌ اس کے مانند کوئی شی نہیں تعجب ہے اگر الگ وجود فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانا جائے تو اللہ پاک وَجَعَلُوۡا لَهٗ مِنۡ عِبَادِهٖ جُزۡءًا‌ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـكَفُوۡرٌ مُّبِيۡنٌ ۞

(سورۃ الزخرف: آیت 15)

 کفار نے اللہ کے بندوں کو اس کا جزء بنالیا بلا شبہ انسان کھلا کافر ہے۔ سے کفر کا کھلا فتویٰ دیں اور ائمہ کو خدا کے اجزاء مانا جائے تو اسلام بن جائے؟

9: ائمہ عالم الغیب ہیں:

کافی میں ایک باب کا عنوان یہ ہے ائمہ جب علم غیب چاہتے ہیں غیب معلوم کر لیتے ہیں ایک کا عنوان یہ ہے ائمہ ما کان وما یکون یعنی گزشتہ و آئندہ تمام باتوں کا علم جانتے ہیں ان سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے صفحہ، 261 اور اس میں یہ حدیث ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا میں ضرور جانتا ہوں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے میں جانتا ہوں جو کچھ جنت میں ہے جو کچھ دوزخ میں ہے میں جانتا ہوں جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا حالانکہ ایسا قول اور ایسا عقیدہ قرآن کی بیسیوں آیات کی تردید اور خاصہ خداوندی میں ہاتھ ڈالتا ہے جیسے اس کا ارشاد ہے: 

وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الخ۔

(سورۃ ہود: آیت 123)

ترجمہ: آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ کو ہے۔

وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ‌ الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 59) 

ترجمہ: غیب کے خزانے اور کنجیاں اسی کے پاس ہیں ان کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔ 

اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ الخ

(سورۃ الحجرات: آیت 18)

ترجمہ: بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کا غیب جانتا ہے۔ 


قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰهُ‌

(سورۃ النمل: آیت 65)

ترجمہ: آپ فرمائیں آسمان وزمین کی کوئی مخلوق علم غیب نہیں جانتی سوائے اللہ کے۔

10: ائمہ موت و حیات میں مختار ہیں اور اپنی موت کا وقت جانتے ہیں:

اس عنوان کے باب صفحہ، 28 میں یہ حدیث ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا جو امام یہ نہ جانے کہ اسے کیا تکلیف آئے گی اور اس کا کیا انجام ہو گا تو وہ خدا کی مخلوق پر اس کی حجت اور امام نہیں ہے

حالانکہ اللہ تعالیٰ غیوب خمسہ میں فرماتے ہیں:

وَّمَا تَدۡرِىۡ نَـفۡسٌۢ بِاَىِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ الخ۔

(سورۃ لقمان آیت 34)

ترجمہ: کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ وہ کب کس زمین میں مرے گا نیز ارشاد ہے:

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ‌ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏۞

(سورۃ الاعراف آیت 34)

ارشادِ قرآنی کے مطابق جب کوئی اپنے انجام اور موت کا وقت نہیں جان سکتا تو اعتراف امام کے مطابق انبیاء علیہم اسلام کے سوا کوئی بھی بندوں پر حجت خداوندی نہیں۔

11: ائمہ پیغمبروں کے ساتھ علم میں مساوی ہیں:

باب ان الائمة ورثوا علم النبی وجميع الانبیاء: صفحہ، 23 پر ہے۔

سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور حضرت محمدﷺ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اور ہم حضرت محمدﷺ کے وارث بنے اور ہمارے پاس توراۃ، انجیل، زبور اور الواحِ موسیٰ علیہ السلام کی تبیان کا بھی علم ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو حضرت آدم علیہ السلام سے تا حضورﷺ سب پیغمبروں کی سنتیں یعنی انبیاء علیہم السلام کے تمام علوم عطاء فرما دیے اور رسول اللہﷺ نے صير ذلك كله عند امير المؤمنين۔ (222)

ترجمہ: تمام حضرت امیر المومنین کے سپرد کر دیئے۔

یعنی سیدنا علیؓ بمعہ لوازم نبی بن گئے۔

12: ائمہ مستقل اسمانی کتابوں والے ہیں:

باب فیه ذكر الصحيفة والجفر والجامعة و مصحف فاطمة عليها السلام میں ہے:

کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا ہمارے پاس جامعہ ہے جس کا طول حضورﷺ کے ذراع سے 70 گز ہے اس میں تمام مخلوق کے حالات لکھے ہیں اس میں حلال و حرام کا بیان ہے اور ہر وہ چیز ہے جس کی ضرورت امت کو ہوگی حتیٰ کہ خراش اور طمانچے سے زخم کی بھی دیت مذکور ہے جفر کے متعلق فرمایا ہے وہ ایک بڑا مخزن ہے جس میں تمام انبیاء اوصیاء اور بنی اسرائیل کے علماء کے علوم ہیں اور یہ اتنے معتبر نہیں ہیں پھر فرمایا ہمارے پاس مصحفِ فاطمہؓ بھی ہے وہ ایسا قرآن ہے جس میں تمہارے اس قرآن جیسے سہ گنا احکام ہیں خدا کی قسم اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔ (صفحہ، 239)

عیاں راچہ بیان شیعہ کے ائمہ نے کتاب اور سنت کے برعکس مذکورہ بالا خیالی کتب پر ہی اپنے مذہب کی بنیاد رکھی ہے اور قرآن سے اس قدر جدائی ہے کہ اپنی طرف اس کی نسبت بھی نہیں کرتے مخاطبین کی طرف (قرآنکم) کی نسبت کرتے ہیں اور جس مصحف کی اپنی طرف نسبت کرتے ہیں اس میں قرآن کے ایک حرف نہ ہونے کا بھی اعتراف کرتے ہیں سبحان اللہ۔

13: ائمہ حلال و حرام میں مختار ہیں:

بابو مولد النبیﷺ صفحہ 439 میں ہے:

 وفوض امورها اليهم فهم يحللون ما يشاؤن ويحرمون ما يشاءون ولن يشاء والا ان يشاء الله۔

ترجمہ: الله پاک نے اہلبیت رضی اللہ عنہم کو پیدا فرما کہ تمام مخلوق کے امور ان کے سپرد کر دیے پس وہ حلال کرتے ہیں جو چاہتے ہیں اور حرام کرتے ہیں جو چاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے مگر جو اللہ چاہے۔

صفحہ 3 از 15