عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 15

حضور خاتم الشریعت والنبیین کے بعد اس منصب کا کسی کو مختار ماننا شریعتِ محمدی پر خط کھینچنا ہے نیز قرآنی تعلیم میں یہ عہدہ حقیقتاً پیغمبروں کا بھی نہیں بلکہ شارع و محلل و محرم صرف اللہ کی ذات ہے انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف مجازاً صرف بایں معنیٰ نسبت کی جاتی ہے کہ وہ وحی جلی یا خفی کے ذریعے منجانب اللہ حرمت و حلت کو بیان فرماتے ہیں جیسے ارشاد ہے:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ الخ۔

(سورۃ التحریم: آیت 1)

ترجمہ: اے نبی آپ کیوں وہ چیز حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی۔

اور اصولِ کافی باب الشرک: صفحہ، 398 پر آیت اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَانَهُمۡ اَرۡبَابًا الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 31) 

ترجمہ: کہ نصاریٰ نے اپنے علماء اور مشائخ کو خدا بنالیا۔ کے متعلق ہے کہ بخدا انہوں نے نصاریٰ کو اپنی عبادت کی طرف نہیں بلایا ولكن احلو الهم حراما وحرموا عليهم حلا لا فعبدوهم من حيث لا يشعرون ۔ لیکن انہوں نے ان کے لیے کئی چیزیں از خود حلال اور حرام کر دیں اور وہ غیر شعوری طور پر ان کے گویا عبادت گزار بن گئے ۔ (مجمع البیان جلد 1 صفحہ 455)

14: ائمہ درجہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی یا افضل ہیں:

 کتاب الحجہ کے ایک باب میں ہے:

عن ابي عبد الله قال ما جاء به على أخذه ومانها عنه انتهى عنه جرى له من الفضل ما جرى لمحمد ولمحمد الفضل على جميع من خلق الله عزوجل المتعقب عليه كا لمتعقب على الله ورسوله والراد عليه فی صغيرة او كبيرة على حد الشرك بالله كان امير المؤمنين باب الذی لا يؤتى الأ منه وسبيله الذی الامن سلك بغير ملك وكذلك يجرى الأئمة الهدى واحد الجد واحد۔

(اصولِ کافی: صفحہ: 117 لکھنو اردو: صفحہ، 225 کراچی) 

سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں جو شریعت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ لائے ہیں میں وہ لیتا ہوں جس سے وہ روکیں رکتا ہوں آپ کا وہی مرتبہ ہے جو محمدﷺ کا ہے آپ کو تمام مخلوق پر برتری ہے سیدنا علیؓ پر اعتراض کرنے والا خدا اور رسولﷺ پر اعتراض کرنے والا ہے کسی چھوٹی بڑی بات کو آپ پر رد کر نے والا اللہ کے ساتھ گویا شرک کرتا ہے امیر المومنینؓ ہی وہ دروازہ ہیں جس کے ذریعے اللہ تک پہنچا جاتا ہے اور وہ راستہ ہیں جو اس کے خلاف چلے گا ہلاک ہو گا اسی طرح یکے بعد دیگرے ائمہ ہدایت کی شان ہے۔

15: حق صرف ائمہ کے پاس ہے:

کافی: صفحہ، 399 میں ایک باب یہ ہے"کہ سب لوگوں کے پاس کچھ بھی حق نہیں ہے بجز اس کے جو ائمہ سے نکلے اور جو چیز ان سے نہ نکلے وہ باطل ہے اس میں سیدنا باقرؒ کی کئی احادیث ہیں۔

ظاہر ہے کہ اس سے قرآنِ پاک بھی باطل ٹھہرا کیونکہ بالاتفاق وہ ان ائمہ سے نہیں نکلا نہ وہ اس کے راوی ہیں نہ جامع و ناقل بقول شیعہ ان کا قرآن تاہنوز لوگوں کے پاس آیا ہی نہیں وہ امام مہدی صاحب الغار کے پاس ہے تمام سننِ محمدیہﷺ اور احادیثِ نبویہﷺ یہ بھی باطل ہوئیں کیونکہ ان کو براہِ راست حضورﷺ سے نقل و روایت کرنے کا حق صرف سیدنا علیؓ و سیدنا حسینؓ کو تھا کیونکہ یہی زیارت و صحبتِ نبویﷺ سے مشرف ہوئے تھے مگر تمام شیعہ لٹریچر گواہ ہے کہ ان بزرگوں نے حضور کے ارشادات بہت ہی کم دو چار فیصد ہی نقل کیے باقی سب ارشاداتِ نبوی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہی نقل کیے عند الشیعہ سیدنا باقرؒ و سیدنا جعفرؒ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے بمشکل پانچ فیصد ہی اس کی نسبت حضورﷺ کی طرف ہے ان کی روایات کا مصدر و منبع غالباً وہی جفر جامعہ صحیفہ مصحفِ فاطمہؓ اور 12 طلائی مہروں والے صحیفے ہیں جو خود ساختہ اور وہمی ہیں کتاب اللہ اور سنتِ نبوی سے ان کو ذرا بھی تعلق نہیں۔

لہٰذا آپ تابعی ہیں تابعی کی مرسل روایات مطلقاً حجت نہیں خصوصاََ حب کہ آپ سے روایت کرنے والے اصحابِ شیعہ علم جرح و تعدیل کی روشنی میں نہایت مجروح بلکہ کذاب و ملحد ہیں تو ان پر کیا اعتماد کیا جائے الغرض اس اصول سے تمام شریعت کا صفایا ہو جاتا ہے۔

16: ائمہ کا منکر و مخالف بھی کافر و مرتد ہے:

حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 684 پر حضورﷺ نے فرمایا:

یا علیؓ ہر کہ منکر امامت تست بعد از من چنان است که انکار رسالت من کرده باشد در حیات من۔

ترجمہ: اے علیؓ میرے بعد جو تیری امامت کا منکر ہے یعنی خلیفہ بلا فصل نہیں مانتا وہ میری زندگی میں میری رسالت کے منکر کی طرح کافر ہے۔

نیز اسی کتاب میں جلد، 2 صفحہ، 623 پر یہ فتویٰ بھی موجود ہے:

وہ مہاجرین و انصار جو بیعتِ علیؓ کرنے سے مرتد ہو گئے اور امیر المؤمنین کی خلاف ورزی کی اور اس کے دشمنوں سیدنا ابوبکرؓ وغیرہ کی مدد کی وہ تمام کفار سے بدتر ہیں۔ (العیاذ بالله)

نیز ملا باقر علی مجلسی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جو سیدنا علیؓ کو حسبِ عقاید شیعہ پہچانے وہ مؤمن ہے اور جو انکار کرے وہ کافر ہے جو کوئی دوسرے کو آپ کی بیعت میں شریک کرے وہ مشرک ہے۔ 

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 542)

17: ائمہ سب انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی افضل ہیں:

ملا باقر علی مجلسی لکھتے ہیں:

اکثر علماء شیعہ را اعتقاد دانست که حضرت امیر و سائر آئمہ افضلند از سائر پیغمبران و حدیث مستقیضه بلکه متوانید از آئمہ خود دریں باب روایت کردو اند (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 526)

ترجمہ: اکثر علماء شیعہ کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت امیر اور سب ائمہ افضل ہیں اور سارے انبیاء کرام علیہم السلام سے اور اپنے ائمہ سے اس پر مشہور بلکہ متواتر احادیث روایت کرتے ہیں۔

عصرِ حاضر کے شیعی حجتہ الاسلام سید محمد کاظم شریعت مدار نہج البلاغہ مترجم کے دیباچہ صفحہ، 4 جنرل بک ایجنسی لاہور پر لکھتے ہیں:

الفرض بعد از کلامِ ربانی سعادت علم و دانش کا سر چشمہ ہے اگر ہے تو خطباتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ علیہ کیوں نہ ہو؟ ہمارے لیے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ذات والا صفات سرمایہ حیات ہے۔ جو منصوص من اللہ ہے۔

معلوم ہوا کہ شیعہ کے ہاں قرآن کے بعد ارشاداتِ رسولﷺ کی کوئی حیثیت نہیں صرف خطباتِ علیؓ ہی سر چشمہ علم و دانش ہے۔

صفحہ 4 از 15