عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 15

قارئین کرام بخوفِ طوالت یہ سلسلہ میں ختم کرتا ہوں آپ کو یقین ہوچکا ہوگا کہ شیعہ دراصل ختمِ نبوت کے منکر اور امامت کے پردہ میں اپنے بزرگوں کو نبی مانتے ہیں آخر جب وہ مرسل من الله حجة الله آخری مرجع مفترض الطاعتہ شجرہ نبوت مہبطِ ملائکہ اللہ کی زبان اور دروازہ ہیں تمام پیغمبروں کا علم رکھتے ہیں مرتبہ میں ان سے افضل ہیں مستقل آسمانی کتب اور وحی و الہام کے مالک ہیں شریعت الہٰی اور احکامِ خداوندی کا واحد مصدر منبع اور خزانہ ہیں حلال و حرام میں خود مختار میں معصوم ہیں بعد از قرآن صرف ان کا کلام ہی علم و دانش کا سر چشمہ ہے اور ان سے اختلاف رکھنے والا بھی کافر و مرتد ہے ان اوصاف کے باوجود وہ کیسے نبی نہیں ہیں آخر نبوت و رسالت کس عہدہ یا وصف کا نام ہے جس سے حضورﷺ سرفراز ہیں مگر ائمہ محروم ہیں خدارا کوئی شیعہ مجتہد و فاضل اس نکتہ کو حل کر دے امامی عقیدہ کے موجدین اور صاحبِ کافی کو انکارِ نبوت کا یہ الزام صریح نظر آرہا تھا ان ابواب کے بعد فوراً یہ باب باندھا کہ ائمہ گزشتہ پیغمبروں جیسے ہیں مگر ان کو نبی کہنا مکروہ ہے پھر یہ حدیث سیدنا جعفرؒ سے نقل کی کہ حلال و حرام پر اطلاع تو ہم سے حاصل ہوگی مگر نبوت ہم میں نہیں نیز یہ فرمان بھی کہ ائمہ رسول اللہ کے مرتبہ منصب پر ہیں مگر وہ پیغمبر نہیں ہیں اور ان کو اتنی بیویاں جائز نہ تھیں جو نبیﷺ کو جائز تھیں اس کے علاوہ وہ تمام باتوں میں رسول اللہﷺ کے بمنزلہ تھے۔ (صفحہ، 270)

اللہ اللہ! کس قدر وضاحت کے ساتھ ختمِ نبوت کا انکار اور اپنی نبوت کا اعترات ہے چار سے زائد ازواج کا امام کے لیے حلال نہ ہونے کا عذر لنگ بھی کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی کا ایک بہانہ ہے ورنہ یہ بات نبوت کی حقیقت یا لوازم میں سے نہیں بلکہ آپﷺ کے خصائص میں سے ہے۔

شیعہ در باطن ائمہ کو نبی مانتے ہیں:

خود مستند علماء شیعہ نے ائمہ کو در پردہ صراحتاً پیغمبر نبی تسلیم کیا ہے ملا باقر علی مجلسی لکھتے ہیں:

1: مرتبه امامت نظیر مرتبہ نبوت و مثل آنست بلکه چنانچه نبوت رسالتے است از جانب خدا بوساطت ملک امامت نیز فی الحقیقت نبوتے است بوساطت نبی۔

ترجمہ: امامت کا مرتبہ نبوت کا مقابل ہے اور اس کی مثل ہے بلکہ جیسے خدا کی جانب سے بواسطہ فرشتہ پیغمبری ہے امامت بھی فی الحقیقة بواسطہ نبی ایک نبوت ہے۔

(حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 81)

2: بالضرورت نص تعیین امام را که فی الحقيقت نبوتے است بحسب معنیٰ البته باحتیارِ امت نخواهد بود۔ 

(حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 23)

ترجمہ:یقیناََ امام کا مقرر کرنا کہ در حقیقت بحسب معنیٰ یہ ایک نبوت ہے امت کے اختیار میں نہ ہو گا۔

3: منصبِ امامت نظیرِ نبوت است زیرا که هر دو ریاستے عام است برہمہ مکلفین در جمیع امور دنیا۔ 

(حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 23 بحوالہ مقدمہ حدیثِ ثقلین: صفحہ، 12)

ترجمہ: امامت کا منصب نبوت کی نظیر و مثل ہے کیونکہ دونوں میں تمام مکلفین پر تمام دنیا کے امور میں سرداری و حکومت ہوتی ہے۔

علامہ طوسی شیخ الطائفہ تہذیب الاحکام کتاب المزار: صفحہ، 33 پر رقم طراز ہیں:

هم مختلف الملائكه ومهبط الوحی

ترجمہ: کے وہ فرشتوں کے آنے جانے کا مقام اور وحی کے اترنے کی جگہ ہیں۔

ملاحسن الملقب بملا فيض منهاج النجات: صفحہ، 280 ایران میں لکھتے ہیں:

كل ما شرط فى النبی من الصفات فهو شرط فی الامام ما خلا النبوة قال الصادق عليه السلام كل ما كان لرسول الله قلنا مثله الا النبوة و الزواج.

ترجمہ: جو صفات نبی میں شرط ہیں وہی امام میں شرط ہیں سوائے نبوت کے سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو منصب رسول اللہ کا تھا اسی کا ہم نے دعویٰ کیا سوائے نبوت اور نکاح کے۔

الغرض شیعہ کی ایسی تصریحات کی کمی نہیں جن میں لفظاً ائمہ کی نبوت کے انکار و اعتراف میں اختلاف ہے مگر باطناً بالاتفاق نبوت کا اعتراف اور ختمِ نبوت کا انکار ہے آخر شیعہ کا 9/10 حصے اصول تقیہ اس فریب دہی میں کام دے گا تو کہاں دے گا۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ایسے الحاد کے متعلق لکھتے ہیں:

او قال ان النبی خاتم النبوة ولكن معنىٰ هذا الكلام انه لا يجوز ان يسمى بعده احد بالنبی واما معنىٰ النبوة وهو كون الانسان مبعوثا من الله تعالیٰ إلى الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطاء فهو موجود فی الأئمة بعده فذلك هو الزنديق۔ (والمسوى شرح موطا: جلد، 2 صفحہ، 110 دہلی)

ترجمہ: یا کوئی یہ ہے کہ پیغمبر خاتمِ نبوت ہیں لیکن اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبی نہ کہا جائے لیکن نبوت کا معنیٰ یعنی ایک انسان کا منجانب اللہ مخلوق کی طرف مبعوث ہونا اور واجب الاطاعت گناہوں سے معصوم اور بقاء علی الحظاء سے محفوظ ہونا آپ کے بعد ائمہ میں موجود تھا تو ایسا شخص زندیق ہے۔

نیز تفہیمات الہیہ: صفحہ، 244 میں بھی عقیدہ امامت کو ختمِ نبوت کے منافی بتاتے ہیں۔

اما با صطلاح ایشان مفترض الطاعة منصوب المخلق است و وحی باطنی در حق امام تجویز میکند در حقیقت ختم نبوت را منکر اند گو بزبان آنحضرت ﷺ را خاتم الانبیا مے گفته باشند.

ترجمہ: لیکن ان شیعہ کی اصطلاح میں وہ امام مفترض الطاعت مخلوق کے لیے مقرر کیا ہوا ہے اور وحی باطنی امام کے لیے جائز کہتے ہیں پس یہ در حقیقت ختمِ نبوت کے منکر ہیں اگرچہ زبان سے آنحضرتﷺ کوخاتم الانبیاء کہتے ہوں۔

حضرت شاہ صاحبؒ کے یہ دو حوالے مقصد بالا کی وضاحت اور ہمارے استدلال کے مؤید ہونے کے علاؤہ ان سادہ لوح علماء و عوام اہلِ سنت کے لیے بھی سرمئہ بصیرت ہیں جو شیعی لٹریچر اور ان کے عقائد سے یکسر غافل ہیں ان کو اپنے جیسا مسلمان اور ختمِ نبوت کا قائل جانتے ہیں، اور مرزائیوں کے متعلق ان کے سیاست باز لیڈروں کے بیانات سے دھوکہ میں آجاتے ہیں حالانکہ ظاہر سانپ سے یہ مارِ آستیں زیادہ موذی اور خطرناک ہیں۔

شیعہ ائمہ کے دعاوی اور مرزا قادیانی کے دعاوی کا سرسری معائنہ:

صفحہ 5 از 15