عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 15

ہم بزرگانِ اہلِ بیتؓ کو مذکورہ بالا تمام دعاوی سے مبرا اور انہیں تقیہ باز مفسدِ دین گروہ کا کرشمہ قرار دیتے ہیں مگر واضح ہونا چاہیئے کہ دجل و تلبیس اور اخفاء و اسرار میں اہلِ باطل یکساں اصول سے اپنی تحریکیں چلاتے ہیں شیعہ حضرات نے تعلیماتِ نبوی اور قرآن سے گلو خلاصی کے لیے جہاں قرآنِ پاک کی صحت و سالمیت کا انکار کیا آپ کے تمام شاگردوں کو مرتد اور منافق کہا نبوت کے انکار کے لیے "عقیدہ امامت" کو آڑ بنایا چونکہ یہ عقیدہ پورے اسلام کی بیخ کنی کرتا تھا اور اسے آشکار کرنا انتہائی خطر ناک تھا لہٰذا عقیدہ تقیہ کو ایجاد کیا اور تمام مذہب کے 9/10 حصے اس کے حوالے کیے جیسے سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:

ان تسعة اعشار الدين فی التقية ولا دين لمن لا تقية له۔ (باب الفقیہ: جلد، 2 صفحہ، 217 من الکافی)

ترجمہ: بلا شبہ دین کے 9 حصے تقیہ یعنی مذہب کو چھپانے اور جھوٹ بولنے میں ہیں جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے۔

یعنی مذہبِ شیعہ کا صرف دسواں حصہ ظاہر و باطن میں یکساں ہے گو وہ بھی قرآن و سنت کے مخالف ہو ورنہ 9/10 حصے ظاہر و باطن میں مخالف ہیں شیعہ جو ظاہر کریں گے وہ مراد نہ ہوگی بلکہ اس کے خلاف ہوگی اور جو باطن مراد ہوگی اسے لفظوں میں کبھی ظاہر نہ کریں گے اس کے خلاف کہیں گے تمام عقلاء اسے جھوٹ ہی کہتے ہیں عقیدہ امامت بھی زیرِ زمین تحریک سے پیدا ہوا چنانچہ سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں:

ولاية الله اسرها الى جبرئيل عليه السلام واسرها جبرئيل إلى محمدﷺ واسرها محمدﷺ الى علیؓ واسرها علیؓ الى من شاء الله ثم انتم تذيعون ذلك الى ان قال ولا تذیعوا حدیثنا۔

ترجمہ: اللہ نے حضرت علیؓ کو امام بنانا بطورِ راز جبرئیل علیہ السلام کو بتایا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یہ راز حضورﷺ کو بتایا حضرت محمدﷺ نے یہ راز سیدنا علیؓ کو بتایا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ راز مشیتِ خداوندی سے کسی کو بتایا اب وہ آشکارا ہوگا تم اس کو مشہور کرتے ہو۔

(اصول کافی: صفحہ، 225)

سبحان اللہ عقیدہ امامت کیا ہی راز تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام و پیغمبرﷺ و سیدنا علیؓ کو معلوم ہوا اور باقی فرشتے انبیاء علیہم السلام اور حضرت فاطمہؓ حضرت حسنینؓ بھی اس سے محروم رہے پھر قرآن میں یہ کیسے ذکر ہو سکتا تھا یہ راز سر بستہ خاندانِ نبوت کے لوگوں کو بھی معلوم نہ تھا۔ اصولِ کافی: صفحہ، 100 میں ایک لمبی حدیث ہے کہ سیدنا زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت زید شہید کے سامنے احول نامی شخص نے مسئلہ امامت بیان کیا تو آپ نے فرمایا میرے باپ مجھے ایک دستر خوان پرکھانا کھلاتے لقمے ٹھنڈے کر کے دیتے تا کہ میرا منہ نہ جلے گرم روٹی سے تو مجھے بچایا مگر جہنم کی آگ سے بچانے کی کوئی فکر نہ کی کہ تجھے مسئلہ امامت بتایا اور مجھے نہ بتایا؟

ایک حدیث میں امام نے فرمایا تقیہ میرا دین ہے اور میرے باپ دادا کا مذہب ہے جو تقیہ نہ کرے وہ لامذہب کافر ہے ہماری امامت کو ظاہر کرنے والا منکر امامت کی طرح ہے۔ 

(باب الکتمان: صفحہ، 224)

ہم ان روایات سے اس مسئلہ کے درپے نہیں ہیں کہ آج شیعہ اپنے ائمہ کے ارشادات کی کھلی مخالفت کر کے علی الاعلان یا کسی نہ کسی رنگ میں جو امامت کے عقیدہ کو ظاہر کرتے ہیں وہ اپنے ائمہ کے فتویٰ کی رو سے کھلے بے دین اور امامت کے منکر ہیں مقصد یہ ہے کہ جیسے شیعہ نے تقیہ کی آڑ میں رفتہ رفتہ الحاد پھیلایا اور حسبِ اعتراف مجلسی امامت بواسطہ نبی نبوت ہے کا فتنہ نکالا اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی رفتہ رفتہ دعاوی کیے اور نبوت کی سیٹ تک بایں دلیل تک جا پہنچے کہ خاتم الانبیاء کی مہر سے ایک شخص مثلِ نبی اور بروزی نبی بن سکتا ہے ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ (ملاحظہ ہو ملفوضاتِ مرزا: جلد، 5)

دعویٰ نبوت:

ائمہ شیعہ کی طرح مرزا کے کلام میں اس قدر تضاد ہے کہ لاہوری گروہ کو نبی کے بجائے مجدد ماننا پڑا ایک طرف یہ کہتا ہے وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔

(حقیقۃ الوحی: صفحہ، 194)

دوسری طرف یہ کہتا ہے: 

آدمم نیز احمد مختار در برم جامئہ ہمه ابرار

آنچه داد است ہرنبی را جام داد آن جام را بتمام۔ 

(نزول المسیح: صفحہ، 99)

 منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد احمد مجتبیٰ باشد۔

(تریاق القلوب: صفحہ، 3) 

ترجمہ: جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیٰﷺ میں فرق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں جانا اور نہیں پہچانا۔ (خطبہ الہامیہ: صفحہ، 171)

محدثیت کا دعویٰ:

 جیسے شیعہ ائمہ نے محدث ہونے کا دعویٰ کیا اس طرح مرزا نے بھی کیا: اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام، توضیح المرام، ازالہ اوھام، میں جس قدر ایسے الفاظ ہیں کہ محدث ایک معنیٰ میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کر محدثیت نبوتِ ناقصہ ہے یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں سے بیان کیے گئے ہیں مجھے حقیقی نبوت کا ہرگز دعویٰ نہیں۔

(حقيقة النبوة: صفحہ، 91 از میاں محمود احمد)

بباطن نبوت کا اعتراف:

 پھر شیعہ علماء کی طرح بباطنِ نبوت کا اقرار بھی ہے ان بروزی و ظلی معنوں کی رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں اس لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ 

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ، 3)

شیعہ ائمہ کی طرح تشریع سازی اور تحریم و تحلیل بھی کی۔ رسالہ الاربعین: صفحہ، 774 میں لکھتا ہے: 

یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعہ ہوگیا پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔

منکر جہنمی ہیں:

 ائمہ شیعہ کی طرح مرزا اپنے منکروں کو کافر اور جہنمی کہتا ہے:

1: ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔

 (حقیقۃ الوحی: صفحہ، 163)

2: اے مرزا جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا اور رسولﷺ کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ 

صفحہ 6 از 15