عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 15

(رسالہ معیار الاخیار: صفحہ، 8)

لفظی ختم نبوت کا اقرار:

ائمہ شیعہ کی طرح لفظی نبوت کا قائل تھا نہ مجھے دعویٰ نبوت آنحضرتﷺ کے خاتم النبین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبیﷺ خاتم الانبیاء ہیں آپﷺ کے بعد اس امت کے لیے کوئی نبی نہیں آئے گا ہاں محدث آئیں گے جو اللہ سے ہی ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوتِ تامہ کے بعض صفات ظلی طور ر اپنے اندر رکھتے ہیں بلحاظ بعض وجوہ شانِ نبوت کے رنگ سے رنگین کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک میں ہوں۔ 

(شہادۃ المسلمین: صفحہ، 28)

مسلمانوں سے قطع تعلق:

مرزا کہتا ہے تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ: صفحہ، 27)

  غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔

(نہج المصلیٰ: صفحہ، 382)

میں تم کو بتاکید منع کرتا ہوں کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

(الحکم فروری: صفحہ، 3، 19)

شیعہ:

شیعہ بھی کہتے ہیں تمام مسلمانوں سے ان کا الگ خاص مذہب ہے کلمہ نماز روزہ حج تمام دینی امور میں ان کے طریقے اور مسائل الگ تھلگ ہیں متن قرآن تفسیر حدیث فقہ اصولِ عقائد اعمال غرض ہر شعبہ میں لٹریچر بھی الگ ہے وہ کسی عام مسلمان سے نہ قرآن و سنت سکھتے ہیں ان کے پیچھے نہ نماز پڑھتے ہیں ملتِ قادیانیہ کی طرح ملتِ شیعہ علی کہلاتے ہیں امتِ محمدیہ کہلانے پر کبھی فخر نہیں کرتے۔

معاملات میں قطع تعلق:

قادیانی کسی مسلمان کو رشتہ نہیں دیتے نہ ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔

(دیکھیئے انوار خلافت: صفحہ، 92، 94 )

شیعہ بھی مسلمانوں سے رشتہ ناطہ نہیں کرتے نہ ان کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھتے ہیں اگر کوئی تقیہ کر کے سنی کا جنازہ پڑھے تو یہ دعا کرتا ہے اے اللہ اس کی قبر کو آگ سے بھر دے۔

کلمہ میں علیحدگی:

شیعہ صدیوں سے اپنا کلمہ الگ پڑھتے ہیں علی ولی اللہ وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلا فصل مگر قادیانیوں نے 74ء میں نائجیریا میں ایک معبد پر یہ کلمہ لکھا: لا الہ الا الله احمد رسول الله

(بحوالہ چٹان: 10 دسمبر 1974 )

تمام مسلمان کنجریوں کی اولاد ہیں:

مرزا کہتا ہے ہر مسلمان مجھے مانتا ہے اور میری دعوت قبول کرتا ہے الاذريتة البغايا مگر کنجریوں کی اولاد نہیں مانتی۔ (آئینہ کمالات اسلام ) 

شیعہ کے امام جعفر صادقؒ بھی فرماتے ہیں:

والله يا ابا حمزة ان الناس كلهم اولاد البغايا ما خلا شيعتنا۔

اے ابو حمزہ خدا کی قسم سب لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں سوائے ہمارے شیعہ کے۔ (روضہ کافی)

تمام مسلمان سور خنزیر اور لعنتی ہیں:

مرزا کا یہ شعر مشہور ہے ۔

ان العدى صاروالخنازير الفلا ونساءهم من دونھن الاكلب۔

ترجمہ: میرے دشمن جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔

(نجم الہدیٰ: صفحہ، 10)

 شیعہ کے امام صادقؒ امتِ محمدیہ غیر شیعہ کے متعلق فرماتے ہیں:

هذه الامة اشباه الخنازير وفیہ فما ھذہ الامہ الملعونہ۔

ترجمہ: يہ امت خنزیروں جیسی ہے اور اسی باب میں ہےکہ یہ کیسی ملعون امت ہے۔

(اصولِ کافی: جلد، 3 صفحہ، 33)

تمام مخالفین مسلمانوں کو قتل کرنے کے منصوبے:

خلیفہ قادیان کہتا ہے اب زمانہ بدل گیا ہے دیکھو

پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑہایا مگر اب میں اس لیے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔

(عرفانِ الہٰی صفحہ، 94)

شیعہ کا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضورﷺ کو رحمت کے لیے بھیجا ہے مگر قائم آلِ محمد مہدی کو عذاب کے لیے بھیجا۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 611) 

چنانچہ آپ 313 مؤمنوں ل کو ساتھ لے کر تمام امتِ محمدیہﷺ سے جنگ کریں گے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا انتقام لیں گے یعنی کہ روضہ محمدیہ کو گرا کر (العیاذ باللہ) شیخینؓ کی لاشوں کو باہر نکالیں گے اور انتقام لیں گے (اصولِ کافی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھی قبر سے نکال کر حد لگائیں گے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بدلہ لیں گے۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 611)

انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین کی توہین:

مرزا نے حضرت عیسٰی علیہ اسلام سے لے کر حضرت حسینؓ تک کی توہین کی ہے میسح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار متکبر حودبین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔

 (مکتوبات احمدیہ: صفحہ، 277)

او شیعو !تم مردہ حسینؓ کا ماتم کیوں کرتے ہو تم میں ایک زندہ حسین (مرزا) موجودہے۔

صد حسینم در گریبانم۔ (العیاذ بالله)

شیعی احادیث میں یہ بہت طویل اندوہناک موضوع ہے مختصر یہ کہ پنج تن مزعومہ بارہ آئمہ اور ان کو شرکاء فی النبوة و اجزائے محمدﷺ ماننے والے شیعہ کے سوا امت کا ایک فرد بھی نہیں جس پر خصوصاً یا عموماً لعنت اور تبرانہ کیا گیا ہو چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امہات المؤمنين رضوان اللہ خصوصاً حضرت عائشہؓ و حضرت حفصہؓ بناتِ رسولﷺ بصورتِ انکار و طعن در نسب دامادگانِ رسولﷺ آپ کے چچے خالو جان چچازاد و پھوپھی زاد برادرانِ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واہل بیتؓ کو نام بنام یا عموماً لعنتیں کی گئی ہیں یا ان کو ماننے والی تمام امت کو کافر ملعون اور دوزخی کہا گیا ہے یعنی کہ سیدنا عمارؓ سیدنا ابوذرؓ سیدنا حذیفہؓ سیدنا سلمان فارسیؓ اور سیدنا مقدادؓ کے ایمان میں بھی کیڑے نکالے گئے ہیں جن کے متعلق ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے یہاں صرف ابو الانس والانبیاء حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کا حوالہ کافی ہے:

اصول الكفر ثلاثة الحرص والاستكبار والحسد فاما الحرص فان آدم عليه السلام حين نهى عن الشجرة حمله الحرص على ان اكل منها۔

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 289)

ترجمہ: کفر کے تین اصول ہیں لالچ تکبر اور حسد لالچ تو حضرت آدم علیہ السلام نے کیا جب درخت سے روکے گئے تو لالچ نے ان کو کھانے پر آمادہ کیا اور کفر کر بیٹھے۔

مکہ و مدینہ کی توہین:

مرزا محمود حقیقہ الرؤيا: صفحہ، 46 پر لکھتا ہے:

صفحہ 7 از 15