عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 15

 قادیان تمام بستیوں کی ماں ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کانٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی کاٹا نہ جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے یا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں مکہ اور مدینہ کی توہین اور اہلِ مکہ کے کافر خدا کے کھلے منکر اور رومی عیسائیوں سے بدتر و پلید ہونے پر امام جعفر صادقؒ کی شہادات اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 409 پر مفصل گزر چکی ہیں سماعت کر لی جائے۔ 

مکہ کے سوا دوسری جگہ کا حج:

خلیفہ قادیان لکھتا ہے ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا حج ہے خدا نے قادیان کو اس کام حج کے لیے مقرر کیا ہے۔(برکاتِ خلافت: صفحہ، 5)

 شیعہ کی مرفوع حدیث ہے کہ جو شخص حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کو جائے ایسا ہے جیسے حج کرنے گیا ہو اور عمرہ بجالایا ہو ابن قولویہ نے معتبر سند کے ساتھ سیدنا صادقؓ سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شہادتِ حسینؓ کے بعد آپ کی قبر کی زیارت کرے حق تعالیٰ میرے ایک حج کا ثواب اس کے لیے لکھیں گے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تعجب کیا تو فرمایا ایک دو چار نہیں بلکہ میرے 90 حجوں کا ثواب ملے گا۔

(جلاء العیون: صفحہ، 327)

نیز فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 580 پر ہے کہ جو غیر عید کے دن حضرت حسینؓ کا حق پہچان کر زیارت کرنے آئے اس کو 20 حج مبرور 20 عمرہ مقبول اور 20 نبی مرسل کے ہمراہ حج کرنے کا ثواب ملے گا۔

نوٹ: عشرہ محرم میں تعزیوں کی ساخت اور گلی گلی پھرانا ان نبوی 90 حجوں کے ثواب کمانے کا سستا طریقہ ہے۔

قارئین کرام! مسئلہ امامت کی حقیقت اور اس کے مضمرات میں جاکر ہم نے تفصیل اس لیے کی کہ شیعہ اسی مایہ ناز مسئلہ سے عوام کو گمراہ کرتے اور مسلمانوں کو خارج از ایمان قرار دیتے ہیں مگر اس کا حاصل ختمِ نبوت سے انکار مسلمانوں سے علیٰحدگی کے سوا کچھ نہیں جیسے آپ قادیانیت کے ساتھ موازنہ سے معلوم کر چکے ہیں شیعہ چونکہ قادیانیوں سے زیادہ پر مکر اور ہوشیار ہیں اور تقیہ کی آڑ میں بالکل سیدھے مسلمان بن جاتے ہیں اس لیے انکارِ ختمِ نبوت کی وجہ سے تکفیر سے اپنا بچاؤ کر لیتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت سے مسلمانان پاکستان کو 7 ستمبر 1974 کا جو مبارک دن نصیب ہوا اور قادیانیوں کو قومی اسمبلی نے بالاتفاق کافر قرار دے کر آئین میں جو نئی دفعہ شامل کی وہ امامت کے متعلق ایسا غالی عقیدہ رکھنے والوں کو بھی شامل ہے ہم فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں سابقہ سترہ عنوانات متعلقہ امامت کو اس پر جانچ لیں۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 میں دفعہ 2 اس کے بعد نئی دفعہ یہ ہے: جو شخص حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے خاتم النبین ہونے پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان نہ رکھتا ہو یا حضرت محمدﷺ کے بعد الفاظ کے کسی بھی مفہوم یا اظہار کی صورت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہو یا اسی قسم کے دعویدار کو نبی یا مصلح مانتا ہو وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے تحت مسلمان نہیں اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 میں یہ تشریح بھی شامل کر دی گئی ہے کہ جو شخص حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے خاتم النبین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے عمل کرے یا پرچار کرے اسے اس دفعہ کے تحت سزا دی جا سکے گی۔

(نوائے وقت راولپنڈی: 8 ستمبر 1974ء)

شیعہ کے ائمہ مراد نہ ہونے پر دوسری دلیل:

 سابقہ تفصیل سے علوم ہو چکا کہ حدیث زیرِ بحث میں شیعہ کے مزعومہ 12 بزرگ مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کی امامت نبوت سے بھی افضل ہے اور انہیں ماننے پر ختمِ نبوت کا انکار ہے۔

اب ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ حدیث میں عزتِ اسلام اور اس کے غلبہ کی جو پیشینگوئی ہے وہ بالاتفاق ان بزرگوں کے زیرِ خلافت پوری نہیں ہوئی کیونکہ حضرت علی المرتضیٰؓ کے سوا باقی 11 حضرات کو منصب خلافت و امامت عطا ہی نہیں ہوا جو حدیث ہذا میں مذکور ہے مثلاً صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 1072 پر ہے یکون اثناء عشر امیرا۔ اسی طرح جامع ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 113 پر ہے يكون من بعدی اثناء عشر امیرا کہ میرے بعد 12 امیر و حاکم ہوں گے خلافت معہودہ کے لیے بالاتفاق حکومت اور رعایا پر حکمرانی شرط ہے چنانچہ شیعہ کی اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 404 پر یہ باب ہے:

باب ما يجب من حق الامام على الرعية وحق الرعية على الامام۔

ترجمہ: يعنی رعایا پر خلیفہ کے اور خلیفہ پر رعایا کے حقوق۔

اس میں یہ حدیث ہے کہ سیدنا باقرؒ سے پوچھا گیا کہ لوگوں کا امام پر کیا حق ہے؟

قال يقسم بينهم بالسوية ويعدل فی الرعیہ۔

ترجمہ: کہ انصاف سے لوگوں میں مال تقسیم کرے اور رعایا میں عدل برقرار رکھے۔

سیدنا باقرؒ سے ایک دوسری مرفوع حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا امامت اس آدمی کی ہی درست ہو سکتی ہے جس میں یہ تین خصلتیں ہوں جسے تقویٰ گناہوں سے روکے جس کا علم و حوصلہ غصے پر غالب ہو جو اپنے ماتحتوں پر اچھی حکومت کرے۔

حتىٰ يكون كالوالد الرحيم وفي رواية اخرى يكون الرعية كاباب الرحيم۔

ترجمہ: یہاں تک کہ مہربان والد کی طرح ہو اور دوسری روایت میں ہے کہ رعیت کے لیے مہربان باپ کی طرح ہو۔

اسی طرح ایک باب کا عنوان ہے باب ان الارض كلها للامام سب زمین پر حکومت امام کا حق ہے اور اس میں یہ ہے کہ"جو مسلمان بنجر زمین آباد کرے اس کا خراج امام اہلِ بیت کو ادا کرے۔

ان تمام روایتوں سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کے لیے ظاہری حکومت رعایا کے لیے فیصلے کرنا اور ان کے معاملات میں تصرف کرنا خراج لینا اور مال تقسیم کرنا شرط ہے اور مرفوع حدیث نے تو شیعہ کی منصوص امامت کا بھی ابطال کر دیا ہے کہ ارشادِ نبوی کے مطابق ہر وہ شخص جائز خلیفہ اور امام ہے جس میں تین شرطیں پائی جائیں اور عصمت بھی شرط نہیں۔

بلکہ تقویٰ کے زور سے گناہوں سے بچنا یعنی عدالت ضروری ہے۔

صفحہ 8 از 15