عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے - ردِ رافضیت |…

عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 15

اصولِ کافی: صفحہ، 120 طبع لکھنؤ میں یہ صراحت ہے کہ بیشک امامت خلافت دین کی باگ مسلمانوں کا نظام اور دنیا کی اصلاح اور مؤمنوں کی عزت ہے بے شک امامت درختِ اسلام کی بڑھنے والی جڑ ہے اور اس کی بلند شاخ ہے بے شک امام کے ساتھ نماز زکوٰۃ روزہ حج اور جہاد کے فرائض ادا ہوتے ہیں فے اور صدقات کی کثرت ہوتی ہے اور حدودِ احکامِ شرعیہ کا جاری کرنا ملکی سرحدوں اور بلادِ اسلامیہ کی حفاظت ہے وہ اللہ کے حلال کو حلال بتاتا ہے حرام کو حرام اور قائم کرتا ہے حدودِ خدا کو اور دفع کرتا ہے دشمنوں کو دینِ خدا سے اور بلاتا ہے دینِ خدا کی طرف لوگوں کو الخ۔

(کافی اردو: جلد، 1 صفحہ، 230 )

جب خلافت و امامت کے لیے اقتدار اجراء حدود جہاد وغیرہ کا بھی مشروط ہونا ظاہر ہو چکا تو ان شرائط پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی بمشکل پورے اترتے ہیں۔ سیدنا حسنؓ نے تو خلافت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے بیعتِ خلافت کر لی اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساڑھے چار سال حکومت کی مگر کافی کے یہ اوصاف وہاں نظر نہیں آتے آپ کے دورِ خلافت میں نہ مسلمان منظم تھے نہ دنیا کی اصلاح اور مؤمنوں کی عزت نظر آتی ہے نہ اسلام پڑھنے والی جڑ اور بلند شاخ کی صورت پیدا کر سکا افراتفری کے دور میں مقبوضہ علاقوں کو سنبھالنا بھی مشکل ہوگیا تھا اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ان پر قابض ہوتے گئے جیسے پہلے کتبِ شیعہ و تاریخ سے مسطور ہو چکا ہے۔

حدود و احکام شرعیہ کے نفاذ نہ کر سکنے کے متعلق خود سیدنا علیؓ روضہ کافی کی ایک لمبی تقریر میں فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ مجھ سے پہلے خلفاء نے ایسے کام کیے جن میں عمداً انہوں نے رسول اللہﷺ کی خلاف ورزی کی۔

ناقضين العهده مغیرین لسنته ولو حملت الناس على تركها وحولتها الی مواضعها والى ما كانت فی عهد رسول اللهﷺ لتفرق عنی جندی حتیٰ ابقی وحدی او قلیل من شیعی۔ 

آپ کا عہد توڑنے والے اور سنت بدلنے والے تھے اگر میں لوگوں کو ان باتوں کے چھوڑنے پر آمادہ کروں اور سب کام اپنی جگہ درست کر دوں جیسے کہ حضورﷺ کے عہد میں تھے تو میرا لشکر مجھ سے جدا ہو جائے اور تنہا رہ جاؤں یا پارٹی کے چند آدمی ساتھ ہوں پھر مثالیں دیتے ہوئے آپ نے فرمایا اگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے وارثوں کو فدک واپس کر دوں حضورﷺ کا صاع غلہ ماپنے کا پیمانہ جاری کر دوں رسول اللہﷺ کی دی ہوئی جاگیریں حقداروں کو دیدوں ظلم کے فیصلے رد کر دوں، ناحق مردوں سے عورتیں چھین کر خاوندوں کو دے دوں خیبر کی تقسیم رد کر دوں عطیات کے مبنی بر فضیلت کم و بیش دیوان ختم کر دوں اور برابر تقسیم کروں کفوء کی شرط اڑا کر نکاح میں مساوات جاری کر دوں خمس رسول کو نافذ کروں رسول اللہﷺ کی مسجد کو گرا کر پہلی بنیادوں پر کر دوں یعنی تنگ کر دوں مسح علی الخفین حرام کر دوں نبیذ کھجوروں کا میٹھا پانی پر حد لگاؤں متعہ کی حلت کا فتویٰ دے دوں جنازہ پر پانچ تکبیریں کہوں لوگوں پر بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا لازم کردوں لوگوں کو قرآن کے فیصلے اور طلاقِ سنت پر آمادہ کردوں تمام صدقات وصول کروں وضو غسل اور نماز اپنے دستور اور وقت پر لوٹاؤں فدیہ اہلِ نجران کو واپس کردوں فارس کی باندیاں واپس کر دوں اور تمام قوموں کو سنت نبوی اور کتاب اللہ کی طرف لوٹا دوں تو اس وقت سب لوگ مجھ سے الگ ہو جائیں میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ماہِ رمضان میں صرف فرض کے لیے جمع ہوں اور بتلایا کہ نوافل یعنی تراویح میں اجتماع بدعت ہے تو لوگوں میں شور و غوغا بلند ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت بدلی جا رہی ہے الخ۔

(روضہ کافی: صفحہ، 59 ایران خطبہ فی الفتن و البدع)

حضرت امیر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کے اس افتراء جو خلفائے ثلاثہؓ کی دشمنی پر تصنیف کیا گیا سے معلوم ہوا کہ العیاذبالله خلفائے ثلاثہؓ نے تمام شریعت کا ستیاناس کر دیا تھا مگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے صرف حکومت چھن جانے اور شکر واحباب کے جدا ہونے کے خوف سے کسی ایک مسئلہ کو بھی قرآن و سنت کی طرف نہ لوٹایا نہ امامت کا فریضہ سر انجام دیا اسے کہتے ہیں پرائے شگون کی خاطر اپنی ناک کٹوانا۔

خلفائے ثلاثہ راشدینؓ کی دشمنی میں شیعہ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو امامت غیرت اور عقل و خرد سے بھی محروم ثابت کر دکھایا کہ مسجدِ نبوی کی توسیع پر بھی نا خوش ہیں اور رمضان کی تکثیر عبادت پر بھی ناراض ہیں عورتیں غیر مردوں کے تحت دیکھ رہے ہیں مگر خاوندوں کو واپس نہیں کرتے۔ حالانکہ خلفائے ثلاثہؓ کے اگر کوئی کام خلافِ شرع ہوتے تو ضرور ان کو بدلتے کیونکہ امام کا سب سے بڑا فریضہ ہی یہی تھا جیسے اصولِ کافی: صفحہ، 178 میں ہے کہ زمین پر بہر صورت امام ہوتا ہے تاکہ اگر مسلمان دین میں کچھ اضافہ کریں تو وہ رد کر دے اگر کوئی بات کم کر دیں تو وہ تکمیل کرے دوسری روایت میں ہے کہ امام کا کام یہ ہے کہ وہ حلال و حرام کو پہچانے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلائے خلفائے ثلاثہؓ اور ان کے کارناموں سے الفت کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ باوجود فقیہہ ہونے اختلاف کا حق رکھنے اور خلافت کی بدولت خود مختار ہونے کے قضاۃ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ وہی پہلے فیصلے جاری رکھو۔ 

اقضوا بما كنتم تقضون حتى يكون الناس جماعة او اموات كمامات اصحابى ۔

ترجمہ: جیسے پہلے فیصلے تم کرتے تھے اسی دستور پر فیصلے کرتے رہو حتیٰ کہ سب لوگ ایک جماعت

کی طرح ہو جائیں یا اپنے اصحاب خلفاء سابقین کی طرح میں فوت ہو جاؤں۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 54)

صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 526 پر یہ لفظ بھی ہیں فانی اکرہ الاختلاف میں اختلاف کو نا پسند کرتا ہوں تعجب ہے کہ شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ پر یہ بزدلی موقع پرستی اور مداہنت کا الزام شیعہ نے خود آپ ہی کے خطبات میں نہیں لگایا بلکہ ہر زمانہ میں شیعہ علماء اس سوال کے جواب میں کہ سیدنا علیؓ نے پھر شیعوں کا مسلک کیوں نہ ظاہر کیا متعہ کو کیوں نہ رائج فرمایا وغیرہ یہی کہتے آئے ہیں چنانچہ شیعہ کے شہیدِ ثالث نور اللہ شوستری بھی لکھتے ہیں 

صفحہ 9 از 15