کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 7

دین میں بدعات کا موجد کون ہے؟

جواب: اہلِ السنت و الجماعت کثرهم الله کے مذہبِ حق میں دینِ مصطفیٰﷺ میں کسی شخص کو ترمیم و تنسیخ کا حق حاصل نہیں کیونکہ وہ قرآنِ مجید کے بعد کسی آسمانی وحی اور نزولِ کتاب کے قابل نہیں خاتم الرسل حضرت محمدﷺ کے بعد کسی کو بھی شریعت سازی تحریم و تحلیل میں خود مختار مہبطِ وحی اور معصوم دینی پیشوا ماننے کے لیے تیار نہیں جیسے خداوند تعالیٰ کے بعد کسی کو مشکل کشاء حاجت روا غیب دان اور رازق نہیں مانتے اسی طرح بیت اللہ شریف کے علاؤہ کسی جگہ کو قبلہِ عبادت نہیں مانتے کسی بقعہ کی زیارت کو حج یا اس سے افضل مانتے ہیں گویا ایک قرآن ایک پیغمبرﷺ ایک معصوم پیشوا اور ایک کعبہ کی وحدت پر یقین راسخ رکھتے ہیں۔

عقائد و اعمال کا شیعی اضافہ ایک نظر میں:

یہ صرف اور صرف شیعی مذہب کا خاصہ ہے کہ جہاں انہوں نے نبی کریمﷺ کی سب عمر کی محنتِ شاقہ سے تیار کردہ تعلیم یافتہ مسلمان جماعت کے ایک ایک فرد و خارج از ایمان قرار دیا مثلاً اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 344 باب قلہ عدد المؤمنین میں ہے کہ حمران بن اعین نے سیدنا باقر صادقؒ سے کہا کہ ہم کس قدر تھوڑے ہیں کہ ایک بکری بھی نہیں کھا سکتے فرمایا میں اس سے زیادہ عجیب تم کو بتاتا ہوں المهاجرون والانصار ذهبوا الا واشار بيده ثلاثة۔ کہ تمام مہاجرین و انصار مرتد ہو گئے تھے پھر ہاتھ کے اشارہ سے تین افرادکو مستثنیٰ کیا۔

یہاں محشی رجال کشی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سیدنا باقر صادقؒ نے فرمایا تین کے سوا سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے۔ حضرت سلمانؓ حضرت ابوذرؓ حضرت مقدادؓ راوی نے حضرت عمارؓ کا پوچھا تو فرمایا وہ بھی حق سے پھر گیا تھا پھر لوٹا نیز فرمایا اگر تم ایسا صحابی پوچھو جس نے شک فی الامامہ نہ کیا ہو اوراس کے دل میں کفر کی بات داخل نہ ہوئی ہو تو وہ صرف حضرت مقدادؓ ہیں پھر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ و حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر بھی تنقید کی ہے انتھی معتبر سند کے ساتھ حضرت صادقؒ نے مرفوعاً یہ روایت بھی کی ہے کہ اے سلمانؓ اگر تیرے علم کو مقدادؓ پر پیش کریں وہ کافر ہو جائے اور اے مقدادؓ اگر تیرے صبر کو مقدادؓ پر پیش کریں وہ کافر ہو جائے۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 633، 676 بحوالہ رجال کشی و کتاب اختصاص)

وہاں حضورﷺ کی شریعت کے ایک ایک مسئلے کوختم کر کے متوازی شریعت اپنے خود ساختہ مثلِ پیغمبرﷺ معصوم ائمہ سے تصنیف کرا دی کیونکہ وہ ہی اللہ کی شریعت کے والی اور اس کے علم کا خزانہ تھے۔ (کافی صفحہ، 193 )  

اور یحللون ما يشاءون و يحرمون ما يشاءون۔ 

دینِ مصطفیٰ کے جس حرام کو چاہیں حلال کر دیتے ہیں اور جس حلال کو چاہتے ہیں حرام کر دیتے ہیں کے منصب کے مالک تھے۔ 

(کافی: صفحہ، 441)

 اور مذہبِ شیعہ کے مؤسس حضرت صادق المتوفی 1481ھ نے تو صراحتاً ارشادِ قرآنی و شریعت کے برعکس فرما دیا تھا

ما جاء بہ علی اخذہ وما نھی عنہ انتھی جری لہ من الفضل ما جری لمحمد۔

(اصول کافی: صفحہ، 117ط لکھنو)

جو احکام حضرت علیؓ لائے ہیں وہ لیتا ہوں اور وہ جس سے روکیں اس سے رکتا ہوں اور آپؓ کو وہی فضیلت ملی ہے جو محمدﷺ کو ملی ہے۔

جیسے تفصیل صفحہ، 21 کے تحت گزر چکی ہے چنانچہ اس منصب کی رو سے بقول شیعہ ائمہ اہلِ بیتؓ کی جو نئی شریعت وجود میں آئی اس میں حضور پاکﷺ کی ازواجِ مطہرات و امہات المؤمنین پر لعنت بھیجنا کار ثواب ہو گیا۔ 

(فروع کافی جلد، 3 صفحہ، 342) 

آپﷺ کے خسرانِ محترم دامادوں اور جانثاروں پر تبرا جزو مذہب بن گیا۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 245، 246) 

انبیاء علیہم السلام سے ائمہ کو افضل ماننا ایمان بن گیا۔

(حیات القلوب: جلد، 2) 

ائمہ موت و حیات اور آسمان و زمین کے بھی مالک ہو گئے۔

(حق الیقین: صفحہ، 436) 

بدار کے عنوان سے خدائے علام الغیوب کو بھی مستقبل سے جاہل بتایا گیا۔

(اساس الاصول: صفحہ، 419) 

شام دینِ اسلام کو چھپانا اور جھوٹ بولنا کافی کے باب التقیہ اور باب الکتمان کی تعلیم سے واجب ہوگیا عقل و غیرت اور تمام ملل کے اتفاق سے حرام زنا کو بھی متعہ کے نام سے سب سے افضل بتایا گیا متعہ کے چند فضائل بطورِ نمونہ ملاحظہ ہو:

1: حضرت سید عالمﷺ نے فرمایا (العیاذ باللہ) جو شخص مومنہ شیعہ عورت سے متعہ کرے گویا

اس نے خانہ کعبہ کی ستر مرتبہ زیارت کی۔

(عجالہ حسنہ: صفحہ، 16 ترجمہ رسالہ متعہ ) 

2: سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو شخص متعہ کر کے غسل کرے ہر ہر قطرے کے بدلے اللہ تعالیٰ ستر ستر فرشتے پیدا کرتے ہیں جو قیامت تک اسی کے لیے مغفرت مانگتے ہیں ولعنت میکند اجتناب کننده ازاں را کہ متعہ سے پرہیز کرنے والے شیعہ پہ تا قیام قیامت لعنت کرتے رہتے ہیں۔

(منتہی الآمال: جلد، 2 صفحہ، 228)

بلکہ سید زادیوں کی عصمت بھی محفوظ نہ رہی کہ تہذیب الاحکام طوسی میں ہے لاباس بالمتعة بها شمية۔ (جلد، 2 صفحہ، 192) 

کہ ہاشمی عورت سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں

متعہ نہ کرنے والا ناقص الایمان ٹھہرا وروی ان المؤمن لا يكمل حتىٰ يتمتع۔ (الفقيه: صفحہ، 330) 

حدیث ہے کہ مؤمن متعہ کیے بغیر کامل نہیں ہوتا بلکہ تقسیم منہاج الصادقین: جلد، 1 صفحہ، 178 میں صراحت کر دی من تمتع مرة كان درجته کدرجتہ الحسین ومن تمتہ مرتین درجتہ کدرجتہ الحسن ومن تمتع ثلات مرات کان درجتہ کدرجتہ علی ابن طالب ومن تمتع اربع مرات فدرجتہ کدرجتی۔

ترجمہ: جو ایک دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح اور جو دو مرتبہ متعہ کرے اس کا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرح ہے اور جو تین دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ علی بن ابی طالبؓ کے درجے کی طرح ہے اور جو چار مرتبہ متعہ کرے اس کا درجہ میرے درجے کی مانند ہے۔ (العیاذ باللہ الف مرات)

غیر شیعہ اولادِ علیؓ پر لعنت بھیجنا جائز ہو گیا شیعہ کے شہیدِ ثالث نے بڑے فخر سے یہ اشعار لکھے ہیں۔

اذ العلوى تابع ناصبيا بمذهبه فما هو من ابيه۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد کا جو فرد ناصبی مذہب کی تابعداری کرے وہ اپنے باپ کا نہیں ہے۔

ناصبی وہ ہوتا ہے جو امیر المؤمنین پر غیر کو مقدم کرے۔

(مجالس المؤمنين: صفحہ، 382)

وكان الكلب خيرا منه طبعا لان الكلب طبع ابیه فيه۔

صفحہ 1 از 7