Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

دین میں بدعات کا موجد کون ہے؟

جواب: اہلِ السنت و الجماعت کثرهم الله کے مذہبِ حق میں دینِ مصطفیٰﷺ میں کسی شخص کو ترمیم و تنسیخ کا حق حاصل نہیں کیونکہ وہ قرآنِ مجید کے بعد کسی آسمانی وحی اور نزولِ کتاب کے قابل نہیں خاتم الرسل حضرت محمدﷺ کے بعد کسی کو بھی شریعت سازی تحریم و تحلیل میں خود مختار مہبطِ وحی اور معصوم دینی پیشوا ماننے کے لیے تیار نہیں جیسے خداوند تعالیٰ کے بعد کسی کو مشکل کشاء حاجت روا غیب دان اور رازق نہیں مانتے اسی طرح بیت اللہ شریف کے علاؤہ کسی جگہ کو قبلہِ عبادت نہیں مانتے کسی بقعہ کی زیارت کو حج یا اس سے افضل مانتے ہیں گویا ایک قرآن ایک پیغمبرﷺ ایک معصوم پیشوا اور ایک کعبہ کی وحدت پر یقین راسخ رکھتے ہیں۔

عقائد و اعمال کا شیعی اضافہ ایک نظر میں:

یہ صرف اور صرف شیعی مذہب کا خاصہ ہے کہ جہاں انہوں نے نبی کریمﷺ کی سب عمر کی محنتِ شاقہ سے تیار کردہ تعلیم یافتہ مسلمان جماعت کے ایک ایک فرد و خارج از ایمان قرار دیا مثلاً اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 344 باب قلہ عدد المؤمنین میں ہے کہ حمران بن اعین نے سیدنا باقر صادقؒ سے کہا کہ ہم کس قدر تھوڑے ہیں کہ ایک بکری بھی نہیں کھا سکتے فرمایا میں اس سے زیادہ عجیب تم کو بتاتا ہوں المهاجرون والانصار ذهبوا الا واشار بيده ثلاثة۔ کہ تمام مہاجرین و انصار مرتد ہو گئے تھے پھر ہاتھ کے اشارہ سے تین افرادکو مستثنیٰ کیا۔

یہاں محشی رجال کشی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سیدنا باقر صادقؒ نے فرمایا تین کے سوا سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے۔ حضرت سلمانؓ حضرت ابوذرؓ حضرت مقدادؓ راوی نے حضرت عمارؓ کا پوچھا تو فرمایا وہ بھی حق سے پھر گیا تھا پھر لوٹا نیز فرمایا اگر تم ایسا صحابی پوچھو جس نے شک فی الامامہ نہ کیا ہو اوراس کے دل میں کفر کی بات داخل نہ ہوئی ہو تو وہ صرف حضرت مقدادؓ ہیں پھر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ و حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر بھی تنقید کی ہے انتھی معتبر سند کے ساتھ حضرت صادقؒ نے مرفوعاً یہ روایت بھی کی ہے کہ اے سلمانؓ اگر تیرے علم کو مقدادؓ پر پیش کریں وہ کافر ہو جائے اور اے مقدادؓ اگر تیرے صبر کو مقدادؓ پر پیش کریں وہ کافر ہو جائے۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 633، 676 بحوالہ رجال کشی و کتاب اختصاص)

وہاں حضورﷺ کی شریعت کے ایک ایک مسئلے کوختم کر کے متوازی شریعت اپنے خود ساختہ مثلِ پیغمبرﷺ معصوم ائمہ سے تصنیف کرا دی کیونکہ وہ ہی اللہ کی شریعت کے والی اور اس کے علم کا خزانہ تھے۔ (کافی صفحہ، 193 )  

اور یحللون ما يشاءون و يحرمون ما يشاءون۔ 

دینِ مصطفیٰ کے جس حرام کو چاہیں حلال کر دیتے ہیں اور جس حلال کو چاہتے ہیں حرام کر دیتے ہیں کے منصب کے مالک تھے۔ 

(کافی: صفحہ، 441)

 اور مذہبِ شیعہ کے مؤسس حضرت صادق المتوفی 1481ھ نے تو صراحتاً ارشادِ قرآنی و شریعت کے برعکس فرما دیا تھا

ما جاء بہ علی اخذہ وما نھی عنہ انتھی جری لہ من الفضل ما جری لمحمد۔

(اصول کافی: صفحہ، 117ط لکھنو)

جو احکام حضرت علیؓ لائے ہیں وہ لیتا ہوں اور وہ جس سے روکیں اس سے رکتا ہوں اور آپؓ کو وہی فضیلت ملی ہے جو محمدﷺ کو ملی ہے۔

جیسے تفصیل صفحہ، 21 کے تحت گزر چکی ہے چنانچہ اس منصب کی رو سے بقول شیعہ ائمہ اہلِ بیتؓ کی جو نئی شریعت وجود میں آئی اس میں حضور پاکﷺ کی ازواجِ مطہرات و امہات المؤمنین پر لعنت بھیجنا کار ثواب ہو گیا۔ 

(فروع کافی جلد، 3 صفحہ، 342) 

آپﷺ کے خسرانِ محترم دامادوں اور جانثاروں پر تبرا جزو مذہب بن گیا۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 245، 246) 

انبیاء علیہم السلام سے ائمہ کو افضل ماننا ایمان بن گیا۔

(حیات القلوب: جلد، 2) 

ائمہ موت و حیات اور آسمان و زمین کے بھی مالک ہو گئے۔

(حق الیقین: صفحہ، 436) 

بدار کے عنوان سے خدائے علام الغیوب کو بھی مستقبل سے جاہل بتایا گیا۔

(اساس الاصول: صفحہ، 419) 

شام دینِ اسلام کو چھپانا اور جھوٹ بولنا کافی کے باب التقیہ اور باب الکتمان کی تعلیم سے واجب ہوگیا عقل و غیرت اور تمام ملل کے اتفاق سے حرام زنا کو بھی متعہ کے نام سے سب سے افضل بتایا گیا متعہ کے چند فضائل بطورِ نمونہ ملاحظہ ہو:

1: حضرت سید عالمﷺ نے فرمایا (العیاذ باللہ) جو شخص مومنہ شیعہ عورت سے متعہ کرے گویا

اس نے خانہ کعبہ کی ستر مرتبہ زیارت کی۔

(عجالہ حسنہ: صفحہ، 16 ترجمہ رسالہ متعہ ) 

2: سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو شخص متعہ کر کے غسل کرے ہر ہر قطرے کے بدلے اللہ تعالیٰ ستر ستر فرشتے پیدا کرتے ہیں جو قیامت تک اسی کے لیے مغفرت مانگتے ہیں ولعنت میکند اجتناب کننده ازاں را کہ متعہ سے پرہیز کرنے والے شیعہ پہ تا قیام قیامت لعنت کرتے رہتے ہیں۔

(منتہی الآمال: جلد، 2 صفحہ، 228)

بلکہ سید زادیوں کی عصمت بھی محفوظ نہ رہی کہ تہذیب الاحکام طوسی میں ہے لاباس بالمتعة بها شمية۔ (جلد، 2 صفحہ، 192) 

کہ ہاشمی عورت سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں

متعہ نہ کرنے والا ناقص الایمان ٹھہرا وروی ان المؤمن لا يكمل حتىٰ يتمتع۔ (الفقيه: صفحہ، 330) 

حدیث ہے کہ مؤمن متعہ کیے بغیر کامل نہیں ہوتا بلکہ تقسیم منہاج الصادقین: جلد، 1 صفحہ، 178 میں صراحت کر دی من تمتع مرة كان درجته کدرجتہ الحسین ومن تمتہ مرتین درجتہ کدرجتہ الحسن ومن تمتع ثلات مرات کان درجتہ کدرجتہ علی ابن طالب ومن تمتع اربع مرات فدرجتہ کدرجتی۔

ترجمہ: جو ایک دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح اور جو دو مرتبہ متعہ کرے اس کا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرح ہے اور جو تین دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ علی بن ابی طالبؓ کے درجے کی طرح ہے اور جو چار مرتبہ متعہ کرے اس کا درجہ میرے درجے کی مانند ہے۔ (العیاذ باللہ الف مرات)

غیر شیعہ اولادِ علیؓ پر لعنت بھیجنا جائز ہو گیا شیعہ کے شہیدِ ثالث نے بڑے فخر سے یہ اشعار لکھے ہیں۔

اذ العلوى تابع ناصبيا بمذهبه فما هو من ابيه۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد کا جو فرد ناصبی مذہب کی تابعداری کرے وہ اپنے باپ کا نہیں ہے۔

ناصبی وہ ہوتا ہے جو امیر المؤمنین پر غیر کو مقدم کرے۔

(مجالس المؤمنين: صفحہ، 382)

وكان الكلب خيرا منه طبعا لان الكلب طبع ابیه فيه۔

اس سے تو کتا بھی طبیعت میں بہت بہتر ہے کیونکہ کتے میں اپنے باپ کی خصلت پائی جاتی ہے۔

اور مشہور شیعہ حمران بن اعین (از اصحاب باقر) خلوص و اعتقاد سے کہا کرتا تھا۔ 

رشته امامت شماتا صاحب العصر ممتد است وہرکہ ازاں تجاوز کند خواہ علوی باشند یا غیر علوی از اوبیزارم۔ 

(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 346)

تمہاری امامت کا سلسلہ صاحب العصر مہدی تک پھیلا ہوا ہے جو اس سے آگے بڑھے خواہ وہ علوی ہو یا غیر علوی میں اسے تبرا کرتا ہوں۔

بلکہ حق الیقین: صفحہ، 636 پر ملا باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ حضرت امیرِ معاویہؓ، یزید اور دیگر مخالفین اہلِ بیتؓ سے بیزاری کے علاؤہ خلفائے اسماعیلیہ اور زیدیہ سے بھی بیزاری واجب ہے کیونکہ انہوں نے امامت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔

حضرت اسماعیل بن سیدنا جعفر صادقؒ کی نسل سے جو شیعہ ہوئے وہ اسماعیلی کہلاتے ہیں اور حضرت

زید بن امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے جو شیعہ و اہلِ بیت کے متبع چلے وہ زیدیہ کہلاتے ہیں الغرض اثناء عشریہ نے اپنے ان سادات بھائیوں کو بھی نہ چھوڑا۔

صوفی دارند دونوں تیرے غمزہ سے تباً خانقاہ گر ہے ویراں تو خرابات خراب۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دامن بدعات سے پاک ہے:

آمدم برسر مطلب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر جن مسائل کی کمی بیشی کا الزام لگایا گیا ہے وہ مذہب اہلِ سنت کے مطابق صریح غلط ہے۔ افسوس کہ شیعہ حضرات تحقیق و دانش سے ذرا کام نہیں لیتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشمنی میں آ کر مطاعن تصنیف کر دیتے ہیں۔

سوال میں مذکور مسائل خود حضورﷺ سے ثابت ہیں۔

الصلوة خير من النوم:

(ابو داؤد: صفحہ، 73 نسائی: صفحہ، 75 موارد الظمان: صفحہ، 85)

طماوی میں سیدنا ابو محذورہؓ کی روایت ہے کہ حضرتﷺ نے فرمایا جب فجر کی اذان دو تو قل بعد حى على الفلاح الصلوٰة خير من النوم حی علی الفلاح کے بعد الصلوة خیر من النوم کہ نماز نیند سے بہتر ہے 

قاضی شوکانی نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 42 میں لکھتے ہیں صححہ ابنِ خزیمہ شیعہ بھی یہ بار کہنے کے قائل ہیں شیعہ کی معتبر کتاب الفقیہ: صفحہ، 59 باب الاذان میں ہے کہ کوئی حرج نہیں الصلوٰۃ خیر من النوم دو مرتبہ بطورِ تقیہ کہا جائے۔

2: حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں نبی پاکﷺ کے زمانے میں اذان میں حی علی الصلوۃ کے بعد الصلواۃ خیر من النوم دو مرتبہ کہا جاتا تھا۔

(طحاوی: جلد، 1 صفحہ، 82 نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 40 از طبرانی و بہقی)

این سید الناس یعمری کہتے ہیں ہذا اسناد صحیح اور حافظ ابنِ حجر تلخیص الخبیر: صفحہ، 75 پر لکھتے ہیں (سنده حسن)

3: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سنت میں سے یہ ہے کہ فجر کی اذان میں حی علی الصلواۃ کے بعد الصلوۃ خیر من النوم دو مرتبہ کہا جائے۔

(طحاوی: جلد، 1 صفحہ، 82 نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 40 از دارقطنی وبہقی)

ابنِ سید الناس اور ابنِ حجر تلخیص الخبیر میں اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ 

(از افادات شیخ محترم علامہ صفدر مدظلہ)

شیعہ کو مغالطہ مؤطا امام مالک: صفحہ، 28 کی اس روایت سے لگا ہے کہ مؤذن نے صبح کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے ہوئے کہا الصلوٰۃ خیر من النوم فامرہ عمران يجعلها فی اذان الفجر۔

 مگر سنتِ نبوی سے قطعی ثبوت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مراد یہی ہو سکتی ہے کہ اس کلمہ کا استعمال صبح کی اذان کے بغیر نہ کیا جائے۔

تراویح کا ثبوت:

بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 101 پر حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے رمضان المبارک میں ایک الگ جگہ نماز کے لیے بنا دی میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا ایک چھپر تھا آپﷺ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

اسی صفحہ پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں نے جب حضورﷺ کو اس حجرہ یا چھپر میں دیکھا تو لوگوں نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی یہ دو یا تین راتیں عمل ہوا اس کے بعد آنحضرتﷺ گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہ نکلے جب صبح ہوئی تو لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: انی خشيت ان تكتب عليكم صلاة۔

ترجمہ: مجھے خوف ہوا کہ تمہارے شوق کے پیشِ نظر نمازِ شب تراویح ہم پہ فرض نہ ہو جائے۔

معلوم ہوا کہ نفسِ تراویح کا ثبوت باجماعت خود حضورﷺ سے ثابت ہے فرضیت کے اندیشہ سے آپﷺ نے عمدًا مداومت نہ کی عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جب یہ اندیشہ نہ رہا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اتفاق اور موجودگی میں اس سنتِ نبوی بالجماعت والتزاماً زندہ فرما دیا چونکہ یہ التزام و دوام نیا تھا تو بطورِ لغوی استعمال اسے نعمت البدعتہ ہذا کیا ہی یہ نیا اچھا کام ہے سے تعبیر فرمایا:

علامہ عینی عمدة القاری شرح بخاری میں اس مقام پر لکھتے ہیں: فصلی فیها لیالی اس جلد میں اصل تراویح کا ثبوت ہے اس لیے کہ آپﷺ نے یہ نماز رمضان کی راتوں میں پڑھی یہ 20 رکعتیں ہیں امام احمد رحمۃ اللہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ کا بھی ہی مذہب ہے امام مالک رحمۃ اللہ کے نزدیک 9 ترویح 36 رکعتیں ہیں وتر کے ماسوا آپ کا استدلال اہلِ مدینہ کے عمل سے ہے ہمارے اصحابِ حنفیہ شافعیہ حنبلیہ کا استدلال بہقی کی باسنادِ صحیح اس روایت سے ہے:

عن السائب بن یزید الصحابی قال کانوا یقومون علی عھد عمرؓ بعشرین رکعة وعلی عھد عثمانؓ و علیؓ مثلہ۔ (بحوالہ حاشیہ بخاری: جلد، 1صفحہ، 101)

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ صحابی فرماتے ہیں کہ مسلمان حضرت عمرؓ کے عہد میں اور اسی طرح حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ کے عہد میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی اس پر عمل کیا اور کرایا اور کسی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول و فعل پر نکیر نہ کی بلکہ تحسین وتائید فرما کر سیدنا عمرؓ کے فقیہ و متبع سنت ہونے پر گویا شہادت دی تو اس کے جواز پر کیا شبہ ہوسکتا ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نور الله قبر عمرؓ کیا نور مساجدنا۔

ترجمہ: اللہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر کو روشن کرے جیسے ہماری مساجد کو روشن کیا۔

(شرح نہج البلاغہ ان ابنِ ابی الحدید: جلد، 3 فضائلِ عمرؓ)

کتبِ شیعہ میں رمضان میں بعد از نمازِ عشاء 22 رکعت نماز پڑھنے کا حکم ہے ائمہ کی طرف سے اور حضورﷺ کا رمضان میں بعد از عشاء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تراویح پڑھانا منقول ہے۔

(فروعِ کافی: جلد، 3 صفحہ، 399 از افادات تونسوی)

چار تکبیر نماز جنازه کا ثبوت:

بخاری: جلد، 1 صفحہ، 177 پر یہ باب ہے ہے باب التكبير على الجنازة اربع پھر پہلی حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ حدیث ہے: فخرج بهم الى المصلى وكبر عليه اربع تکبیرات۔ 

ترجمہ: کہ نجاشی کی موت کی خبرسن کر حضورﷺ نمازگاه کی طرف چلے۔ صف بنائی اور چار تکبیروں سے ان پر نمازِ جنازہ پڑھائی دوسری حدیث حضرت جابرؓ سے ہے کہ حضورﷺ نے اصحمہ نجاشیؒ پر چار تکبیروں سے نمازِ جنازہ پڑھائی کتبِ اہلِ سنت میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں سلف و خلف چار تکبیروں پر اتفاق رکھتے ہیں شاید کسی صاحب نے فعلِ نبوی سے بے خبری کی وجہ سے اس کے خلاف کہا سنا ہو تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید فرما کہ اس سنتِ نبوی کو قانونی شکل دے دی ہو تو شیعہ نے بعضِ دشمنی کی وجہ سے اسے ایجادِ عمرؓ قرار دے دیا ہو بلکہ کتبِ شیعہ سے بھی فعلِ نبوی سے چار تکبیریں ثابت ہیں۔ 

فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 181 پر امام جعفر صادقؒ کی ایک حدیث میں ہے:

جب اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو منافقین پر نمازِ جنازہ پڑھنے سے روک دیا تو آپ یوں نماز پڑھتے تھے کبر و تشھد ثم کبر وصلی علی النبیینﷺ ثم کبر و دعا للمؤمنین ثم کبر الرابعة و انصرف ولم یدع للمیت۔

ترجمہ: تکبیر کہتے اور خدا اور رسولﷺ کی گواہی دیتے پھر تکبیر کہتے اور مؤمنین کے لیے دعا کرتے پھر چوتھی تکبیر کہہ کر نماز سے باہر آجاتے ہیں اور میت کے لیے دعا نہ کرتے۔

معلوم ہوا کہ اہلِ سنت کے ہاں مطلقاً اور عند الشیعہ حضورﷺ کا پچھلا تعامل آیت ولا تصل علی احمد کے بعد چار تکبیروں سے نمازِ جنازہ پڑھانا اور بعد از سلام دعا نہ کر نا تھا۔

متعہ کی حرمت خود حضور سے ثابت ہے:

اب شیعہ کے مایہ ناز دل پسند اور محبوب فعل متعہ کی باری بھی آ گئی کہ مطاعن فاروقی میں کسی اور بات کا ذکر کریں یا نہ کریں متعہ کا ذکر ضرور کریں گے۔

متعہ کے عند الشیعہ فضائل بطورِ نمونہ گزر چکے ہیں متعہ کی تعریف ملاحظہ کرلیں کوئی مرد و عورت مقررہ وقت اور مقررہ اجرت سے بغیر گواہوں اور ولی کی اجازت کے ایجاب و قبول ورضا مندی کر کے تعلق قائم کریں شیعہ کے ہاں اسی کا نام متعہ ہے مسلمان اسے زنا بالرضا سے تعبیر کرتے ہیں جو ہند و پاک میں شاہانِ روافض کی یادگارہ بازارِ حسن میں ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بے دین حکومتیں رضا مندی سے اس فعلِ شنیع کو قابلِ گرفت و تعزیر نہیں مانتی ہیں۔ 

سنی شیعہ کے اتفاق سے ممتوعہ عورت ایک بازاری و کسبی کا حکم رکھتی ہے کوئی بھی اس میں زوجہ کے شرائط تسلیم نہیں کرتا نہ زوجیت کے حقوق دیتا ہے اور نہ اسے باندی مانتا ہے۔

 ممتوعہ عورت کی بازاری اور بیوی نہ ہونے کی حیثیت پر کتبِ شیعہ سے دلائل ملاحظہ ہوں:

 1: لیس فی المتعة اشھاد ولا اعلان۔

(تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 189)

ترجمہ: متعہ میں نا گواہ ہوں گے نہ اعلان ہو گا۔

2: ادنیٰ ما یتزوج بہ قال کف من ایضاً۔

ترجمہ: حضرت جعفرؒ سے پوچھا گیا کم از کم کتنی اجرت پر ازواجِ متعہ ہوگا فرمایا گندم کی ایک ہتھیلی حالانکہ بیوی کے مہر میں معین معقول رقم شرط ہے۔

3: متعہ کے ارکان پانچ ہیں 1: مرد، عورت، 2: مہر، 3: وقت مہر، 4: ایجاب 5: قبول گواہ شرط نہیں۔

(تفسیر منہج الصادقین: صفحہ، 357)

4: عن ابی عبدالله قال ذكر له المتعة اھی من الاربع قال تزوج منھا الفافانھن مستاجرات۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا گیا زنِ متعہ چار میں سے ہے فرمایا نہیں ہزار سے عقد کر لو کیونکہ یہ کرایہ دار پی

5: و قال ابو جعفرؒ لیس من الاربع لانھا لا تطلق ولا ترث واغا ھی مستاجرة۔

(تہذیب: جلد، 2 صفحہ، 188)

ترجمہ: امام باقرؒ نے فرمایا یہ چار عورتوں میں سے نہیں کیونکہ نہ طلاق پاتی ہے نہ وارث بنتی ہے بلکہ یہ کرایہ دار ہے۔

6: سئل ابوالحسن علیه السلام عن المتعة ا ھی من الاربع فقال لا وفی روایة ولا من السبعین و انما ھی مستاجرة۔

(کافی ابواب المتعة: صفحہ، 448)

امام ابو الحسن رضا سے پوچھا گیا کیا زنِ متعہ چار منکوحہ عورتوں میں سے ہے فرمایا نہیں ایک روایت میں ہے یہ 70 باندیوں میں سے بھی نہیں یہ کسبی ہے۔

7: وصاحب الاربع النسوة یتزوج منھن ماشاء بغیر ولی ولا شھود فاذا انقضی الاجل بانت منہ بغیر طلاق و یعطیھا الشئی الیسیر صدقہ الامام الصادق۔

(فروعِ کافی ابواب المتعة: صفحہ، 451)

ترجمہ: اور چار بیویوں کا خاوند متعہ والی عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہے بغیر ولی اور گواہوں کے عقدکر لے جب مدتِ مقررہ ختم ہو گئی تو بلا طلاق یہ جدا ہو جائے گی مرد اسے کچھ پیسے دے دے سیدنا صادقؒ نے اس کی تصدیق فرمائی۔

8: عن ابی عبداللہ قال لا تکون متعة الا بامرین اجل مسمی واجر مسمی۔ (ایضاً: صفحہ، 455)

ترجمہ: سیدنا ابو جعفرؒ نے فرمایا متعہ صرف دو باتوں سے ہو گا وقتِ مقرر ہو اور اجرت مقرر ہو۔

کئی آدمی ایک ہی عورت سے بار بار متعہ کر سکتے ہیں زرارہ نے سیدنا باقر صادقؒ سے پوچھا ایک آدمی متعہ کرے اور شرطِ مدت ختم ہو جائے پھر دوسرا اس سے متعہ کرے جب وہ اس سے جدا ہو تو پہلا متعہ کرے اور اس سے جدا ہو اسی طرح تین دفعہ ہو اور بیک وقت وہ تین مردوں سے متعہ کرے کیا اب بھی پہلے کے لیے حلال ہوگی فرمایا ہاں جتنی دفعہ چاہے یہ آزاد عورتوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ کرایہ دار ہے اور یہ باندیوں کے قائم مقام ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 460)

معلوم ہونا چاہیئے کہ عقدِ متعہ میں عورتوں کی تعداد متعین نہیں ہے اور نفقہ کھانا پینا مکان لباس مرد پہ لازم نہیں ہے نیز اس جوڑے میں وراثت بھی نہ ہوگی یہ تمام امور دائمی عقدِ نکاح میں ضروری ہوتے ہیں۔ (تفسیر منہج الصادقین: صفحہ، 357) 

شیعہ عبارات سے تفصیل ہم نے اس لیے کی تاکہ متعہ کے زنا ہونے کا آپ کو یقین ہو جائے اس رضامندی طرفین میں نہ گواہ ہیں نہ اعلان نہ نفقہ ہے نہ وراثت نہ طلاق ہے نہ اس کی عدت بلکہ یہ ایک کرایہ دار عورت ہے جس کے ساتھ گھڑی دو گھڑی یا ایک دو دن کے لیے بھی تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ تہذیب: جلد، 2 صفحہ، 190 امام نے ان کو باندیاں بھی نہیں فرمایا بلکہ ولا من سبطین کہہ کر صراحتاً تردید کر دی ہاں بعض روایات میں بمنزلتہ الاماء فرمایا یعنی چار سے زائد رکھنے میں باندیوں کے قائم مقام ہیں۔

اس انتہائی فحش و حیاء سوز فعل کی حرمت پر تمام ملل و ادیان کی عقل و نقل ماسوا فرقہ شیعہ متفق ہیں بلکہ جن بزرگانِ اہلِ بیتؓ کی طرف ان شہوت پرستوں نے اس کی نسبت کی ہے وہ بھی اپنے گھر کا ذکر سن کر آگ بگولا ہو جاتے تھے اگر نکاح کی طرح متعہ بھی واقعی جائز ہوتا تو ناراض کیوں ہوتے امام باقر رحمۃ اللہ سے عبداللہ بن عمیر نے کہا آپ کی بیویاں بیٹیاں بہنیں اور چچا کی بیٹیاں یہ کام کرتی ہیں؟ فاعرض ابو جعفرؒ حین ذکرہ نساء وبنات عمہ 

(تہذیب الاحکام طوسی: جلد، 2 صفحہ، 186)

ترجمہ: حضرت باقر رحمۃ اللہ نے منہ پھیر لیا جب اپنی عورتوں اور چچا زاد بیٹیوں کا ذکر ہوا۔

بلکہ شیعہ کے ذمہ دار علماء و مجتہدین جب متعہ کی مدح و مصالح میں منبر و محرابِ حسینیؓ پر رطب اللسان نظر آتے ہیں اور مستقل کتابیں لکھتے ہیں وہ بھی اپنے گھر میں اس فعلِ شنیع کو کبھی جائز نہیں سمجھتے نہ برداشت کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگ عوام شیعہ مخصوصاً غرباء کی بہن بیٹوں کے حق اس کے جواز کا فتویٰ کیوں دیتے ہیں کیا وہ اس دورخی پالیسی پر خدا کا ذرا خوف نہیں کرتے۔

كَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞

(سورۃ الصف: آیت 3)

ترجمہ: اللہ کے ہاں بڑی ناراضگی کی یہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔

پھر کیا شیعہ امیروں، نوابوں جاگیرداروں مسٹنڈ ے ذاکروں بے دین و نام نہاد سیدوں کی ہوس رانی ہی کے لیے یہ شرمناک مسئلہ ایجاد کر لیا گیا ہے تاکہ شیعہ مذہب زندہ رہے کیونکہ اس مذہب کی بقاء کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں اور ان کی روح یہی مسئلہ ہے بے غیرتی کا طرہِ امتیاز صرف شیعہ کا یہ مسئلہ ہی نہیں بلکہ وہ مقامِ مخصوص کو بطورِ عاریت مانگنے پر کسی دوست بھائی وغیرہ کو بھی دینے کے قائل ہیں۔ الاستبصار: جلد، 3 صفحہ، 138 پر ہے کہ حسن عطار نے سیدنا صادقؒ سے مانگی ہوئی شرمگاہ کے متعلق پوچھا قال لا باس بہ ہے فرمایا کوئی حرج نہیں بیوی سے در دبر لواطت جائز کہتے ہیں سیدنا باقرؒ نے فرمایا لا باس اذا رضیت۔ جب بیوی راضی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 

(استبصار: جلد، 3 صفحہ، 243)

کچھ لوگ خوفِ خدا پسِ پشت ڈال کر اور وقاحت کا لبادہ اوڑھ کر یہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ متعہ عہدِ نبوی میں رائج تھا اور فلاں فلاں اس کی مثالیں ہیں حالانکہ بالفرض یہ بے حیائی عہدِ جاہلیت کی یاد گار عہدِ نبوی میں ابتدائی عرصہ کے لیے تسلیم کی بھی جائے تو اس سے اس کی ابداً حلت کیسے ثابت ہو جائے گی قرآنِ کریم نے رفتہ رفتہ مصالح کے پیشِ نظر مسلم معاشرہ کی قوت کے مطابق برائیوں کا ازالہ کیا اور حرمت نازل فرمائی ایک وقت میں نماز روزہ حج زکوٰۃ نہ تھی اور شراب جوا وغیرہ رائج تھا تو کیا بعد والی فرضیت یا حرمت سے قطع نظر کرکے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں یہ عبادات فرض نہیں اور شراب و جوا حلال ہیں ظاہر ہے کہ آخری دورِ حلت و حرمت ہی کو دیکھا جائے گا جب اللہ پاک نے بار بار یہ ارشاد فرما دیا:

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۞

(سورۃ المؤمنون: آیت 5)

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌ۚ ۞

(سورۃ المؤمنون: آیت 6)

ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاؤں کی حفاظت کرنے والے ہیں سواۓ اپنی ازواج کے یا اپنے ہاتھ کے مال لونڈیوں کے اس صورت میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔

اور حضرت ابنِ عباسؓ جیسے حبرِ امت و ترجمانِ قرآن نے اس کی تفسیر میں یہ فرما دیا:

متعہ شروع اسلام میں تھا ایک آدمی کسی شہر میں آتا وہاں جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اقامت کی مقدار شادی کرتا وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے کام درست کرتی حتیٰ کہ جب آیت:

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ الخ۔

(سورۃ المؤمنون: آیت 6)

نازل ہوئی تو حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں ہر فرج اس کے سوا حرام ہے۔ (ترمزی: صفحہ، 273)

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ زنِ متعہ نہ بیوی ہے ورنہ اس سے عقد کے لیے گواہ اعلان میراث نفقہ تعداد طلاق عدت وغیرہ ہوتی نہ باندی ہے ورنہ بیع مہر آزادی وغیرہ اس میں نافذ ہوتی تو اس آیت نے صراحتاً متعہ کو حرام کر دیا۔

اور بروایتِ حضرت علی المرتضیٰؓ حضورﷺ نے منع فرما دیا:

1: قال نهى عن متعة النساء يوم خیبر وعن اکل لحوم الحمر الاھلیة۔

ترجمہ: فتح خیبر کے دن حضور نے عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے روک دیا

(مشكوٰة: صفحہ: 272)

2: ان علیاؓ قال لابنِ عباسؓ ان نبیﷺ نھی عن المتعة وعن لحوم الحمر الا حلیة زمن خیبر۔

ترجمہ: حضرت علیؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے فرمایا بلاشبہ آپﷺ نے متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے خیبر کے دنوں سے ممانعت فرما دی۔ 

(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 767)

3: عن علیؓ قال حرم رسول اللہ لحوم الحمر الاھلیة ونکاح المتعة۔

(استبصار: جلد، 3 صفحہ، 142)

ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے پگھریلو گدھے اور عقدِ متعہ کی حرمت کر دی ہے۔

4: حضرت ابنِ عباسؓ اولاً متعہ میں رخصت کے قائل تھے آپ کو آپ کے غلام نے کہا یہ تو انتہائی مجبوری کی حالت اور عورتوں کی قلت وغیرہ کی وجہ سے تھا۔ فقال ابن عباس نعم۔ (بخاری: جلد، 2صفحہ،767) یعنی رجوع تسلیم کرلیا۔

مزید کئی روایات بھی متعہ کی حرمت اور سیدنا ابنِ عباسؓ کے رجوع پر صریح دال ہیں قرآن و سنت اور اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سےاس کی تحریم کے بعد کیا اب بھی اس کو جائز کہا جائے گا پھر تو گدھے بھی حلال ہوں گے؟ چہ خوب۔

علاوہ ازیں یہ کسی صورت میں قابلِ تسلیم نہیں کہ بلا شہود و اعلان خفیہ متعہ شیعہ اور متعہ دوریہ عہدِ نبوی میں واقع ہوا تھا کیونکہ یہ انتہائی بے غیرتی اس وقت نہ تھی وہ صرف نکاحِ متعہ تھا یعنی گواہوں کی موجودگی میں مدت مقررہ کے لیے باقاعدہ نکاح ہوتا تھا جسے متعہ یا نکاح مؤقت کہا جاتا تھا۔

سیدنا جعفرؒ سے پوچھا گیا کیا عہدِ نبوی میں لوگ بغیر گواہوں کے عقدِ متعہ کرتے تھے؟ قال لا فرمایا نہیں۔ شیعہ علامہ طوسی اس پر لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں گواہ کے بغیر متعہ کرنے کی ممانعت نہیں بلکہ اس کا بیان ہے کہ عہدِ رسول اللہﷺ‎ میں وہ بلا گواہِ نکاح متعہ نہ کرتے تھے۔

انهم ما تزوجوا الا ببية و ذالك هو الافضل انہوں نے کبھی نکاحِ متعہ نہ کیا سوائے گواہوں کے اور یہی افضل ہے۔

(تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 186 الاستبصار: جلد، 3 صفحہ، 148) 

کتبِ اہلِ سنت کے مطابق تو اس نکاحِ مؤقت میں نفقہ اور سکنی بھی لازم تھا۔

ایک شبہ کا ازالہ:

کچھ لوگ آیتِ نکاح وَّالۡمُحۡصَنٰتُ کے جملہ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ، سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى کی قید قرآت شاذہ یا منسوخہ نکال کر حلت حرمت ثابت کرتے ہیں حالانکہ اثباتِ احکام کے لیے قرآت شاذہ و منسوخہ سے استدلال نا جائز ہے علاوہ ازیں یہ مفید مطلب بھی نہیں ہے کیونکہ جار مجرور استمتاع جماع سے متعلق ہے عقد کے متعلق نہیں اور عقد متعہ میں تو تعیینِ مدت شرط ہے تو مطلب یہ ہوا کہ جب منکوحہ سے نفع اٹھا لو یعنی جماع کرلو تو مکمل مہر ادا کرو بایں طور ٹال مٹول نہ کرو کہ پوری عمر کے بعد مہر ادا کریں گے اگر اِلٰٓى اَجَلٍ عقد سے متعلق ہو تو لازم آئے گا کہ متعہ عمر بھر کے لیے جائز نہ ہو حالانکہ شیعہ عمر بھر کے لیے متعہ کو جائز کہتے ہیں لفظ استمتاع متاع بمعنیٰ نفع سے نکلا ہے عقدِ متعہ کے لیے صریح نہیں۔ 

جیسے دوسری آیات میں ہے:

فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِهِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 69)

ترجمہ: پس انہوں نے اپنے حصے سے نفع اٹھایا او تم نے اپنے حصے سے ویسے ہی نفع اٹھایا۔

وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ‌الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 241)

ترجمہ: اور جن کو طلاق دی گئی ہے ان کو بھی نیکی کے ساتھ نفع پہنچانا ہے۔

وَّمَتِّعُوۡهُنَّ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 236)

ترجمہ: البتہ ان کو نیکی کے طور پر کچھ نفع پہنچا دو اور یہ نفع پہنچانا صاحبِ مقدور پر اس کی حیثیت کے موافق لازم ہے۔

قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِيۡرَكُمۡ اِلَى النَّارِ‏ ۞(سورۃ ابراہیم: آیت 30)

ترجمہ: تم کہہ دو کہ چند روز انفع اٹھالو کر تمہاری

باز گشت تو یقیناً جہنم ہی کی طرف ہے۔

(تراجم مقبول)

العرض اس تفصیل سے جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ حرمتِ متعہ پر قرآنِ کریم کتبِ فریقین سے سنتِ نبوی اور اعلان مرتضوی متفق ہیں تو بعض کتبِ تاریخ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کا معنیٰ صرف یہ ہے کہ آپؓ نے اس کی حرمت کو نمایاں اور شائع کیا اور کسی کے لیے اخفاء نہ رہا۔ 

شرارت باز لوگوں کے لیے سخت قانون بنا دیا تعزیزاً خلیفہ کو ایسا حق حاصل ہے۔

طلاق ثلاثہ معا بائن ہے:

صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 791 پر یہ باب باندھا ہے باب من اجاز طلاق الثلاث القول الله تعالىٰ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌۔

ترجمہ: طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو بند رکھنا ہے یا اچھی طرح چھوڑنا ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس استدلال کا اصل مقصد یہ ہے کہ آئندہ آیت:

فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 230)

ترجمہ: پس اگر تیسری طلاق دے دی تو یہ عورت اس کے بعد حلال نہیں تا آنکہ کسی اور مرد سے نکاح جماع کرے تین طلاقوں کے وقوع اور حرمتِ مغلظہ پر دلالت کرتی ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الام میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم کا یہ ظاہر مفہوم اس بات کی دلیل ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی بھی دی جائیں تو وہ عورت اس خاوند کے لیے حرام ہے اکٹھی سے مراد یہ ہے یعنی ایک مجلس میں دے دے انت طالق انت طالق پھر کہا انت طالق جو فان طلقها من بعد کا مفہوم ہے۔

2: صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 463 اور بخاری: جلد، 2 صفحہ، 391 اسی باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: 

ان رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلقت فسئل النبیﷺ اتحل للادلقال لا حتیٰ یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول۔

ترجمہ: ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کر لیا پھر طلاق پائی تو حضورﷺ سے پوچھا گیا کیا وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوئی فرمایا نہیں یہاں تک کہ اسکا مزہ ثانی خاوند چکھے جیسے پہلا چکھ چکا ہے۔

حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 295 میں لکھتے ہیں ک طلقہا ثلاثاً کا جملہ اس کو چاہتا ہے کہ اس نے تین طلاقیں اکٹھی دے دی تھیں اور یہی مطلب علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری: جلد، 9 صفحہ، 336 میں بیان فرماتے ہیں۔

3: دارِ قطنی: جلد، 2 صفحہ، 431 اور سنن کبریٰ: جلد، 7 صفحہ، 334 مجمع الزوائد: جلد، 4 صفحہ، 338 نصب الرایہ: جلد، 3 صفحہ، 22 پر بسندِ صحیح حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمدﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی ہے آپﷺ نے فرمایا طلاق ہوگئی لیکن رجوع کرے میں نے کہا یا رسول اللہﷺ بتلائیں لو انى طلقتها ثلاثاً كان يحل لى ان اراجعها قال لا كانت تبين منك وتكون معصية اگر میں اس کو تین طلاقیں دوں تو کیا مجھے حلال ہے کہ رجوع کرلوں؟ فرمایا نہیں وہ تجھ سے جدا ہو جائے گی اور تو گناہ گار ہی ہوگا۔

4: ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 140 ابوداؤد: صفحہ، 300 طیالسی: صفحہ، 164 ابنِ ماجہ: صفحہ، 149 دارِ قطنی: جلد، 2 صفحہ، 439 اور مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 199 پر حضرت رکانہؓ کی روایت ہے کہ میں نے بیوی کو طلاقِ بائن دے کر حضورﷺ سے پوچھا تو آپﷺ نے دو مرتبہ قسم دے کر پوچھا کیا تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا؟ قلت واللہ حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو داؤد و حاکم ابنِ حیان وغیرہ اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ 

(تلخیص الخبیر: صفحہ، 319) 

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر تین طلاقوں کے بعد رجوع کی گنجائش ہوتی تو آپﷺ قسم نہ دیتے۔

(ازا فادات استاذیم صفدر مدظلہ)

اس مسئلہ میں بہت معمولی اختلاف ہے ائمہ اربعہ اور جمہور محدثین امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر حافظ ابن حجر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بلوغ المرام تک اس کے قائل ہیں کہ تین طلاقیں تین ہیں حضرت عمرؓ حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت عائشہؓ روایت عن على فقہاء و تمام جمہور سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ 

(سبل السلام للیمانی: جلد، 3 صفحہ، 215)

ابنِ حزم رحمۃ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے البتہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ ابنِ قیم رحمۃ اللہ اور دورِ حاضر کے اہلِ ظاہر غیر مقلیدین تین کو ایک شمار کرتے ہیں شاید شیعی مفاد بھی اسی میں ہے ان کی اہم دلیل مسلم: جلد، 1 صفحہ، 477 اور مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 196 کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت عمرؓ نے فرمایا ہے لوگوں نے اس معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے تاخیر تھی کیا بہتر ہو کہ ان کی تین طلاقوں کو تین شمار کریں تو آپ نے تین جاری کر دیں اس کا جواب یہ ہے: 

1: کہ یا تو راوی کو نسخ کا علم نہیں جیسے علامہ حازمی کتاب الاعتبار: صفحہ، 180 پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تین طلاقیں دے کر رجوع کا حق پہلے تھا بعد کو منسوخ ہو گیا۔ 

2: امام نسائی: جلد، 2 صفحہ، 83 پر اس حدیث کو باب طلاق الثلاث التفرقة قبل الدخول بالزوجة میں پیش کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ یہ غیر مدخول بہا سے متعلق ہے اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ کوئی شخص ایک مجلس میں یوں کہے انتِ طالق انت طالق انت طالق تو ایک طلاق ہوگئی باقی دو کا وہ عورت محل ہی نہیں۔

3: مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی آثار المطبوعہ میں مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ پہلے لوگ بجائے تین طلاقوں کے ایک ہی دیتے تھے عدت گزر جاتی تو عورت جہاں چاہتی نکاح کرتی آپﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دو سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسا ہی ہوتا رہا اس کے بعد لوگوں نے تین طلاقیں دینا شروع کر دیں تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ جلد بازی پر اتر آئے ہیں پہلے لوگوں کو ایک طلاق کے بعد سوچنے سمجھنے او رجوع کا موقعہ تھا مگر اب لوگوں نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تین دے دیتے ہیں لہٰذا ہم بھی تین نافذ کریں گے۔

اہلِ حدیث عالم مولانا محمد صدیقی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں تین طلاق کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاقِ بائن قرار دینا خلیفہ ثانیؓ کا ایک تعزیری اقدام ہے اور امام کو حدود و تعزیر میں زیادتی کا اختیار ہے کمی کا نہیں جیسا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جلا دیا تھا جو الوہیتِ علی کا عقیدہ رکھتے تھے حالانکہ اسلام میں کسی جرم کی سزا جلانا نہیں ہے۔

(کشف الاسرار: صفحہ، 135)

یہ جواب شیعہ کے مقابلے میں ایک توجیہ یا قدرے مسکت ہے ورنہ صحیح جوابات وہی پہلے ہیں

قیاس شرعی حجت ہے:

قیاس کو اصول قائم کرنے کا سیدنا عمرؓ پر مخصوص الزام بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دشمنی کا آئینہ ہے ورنہ چند اہلِ ظاہر کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین و ائمہ دین اس کی مشروعیت پر متفق ہیں اور اس کی مشروعیت کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

جیسے ارشاد ربانی ہے: 

وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ ۞(سورۃ النحل: آیت 44)

ترجمہ: اور تمہاری طرف ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اسے تم لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دو اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 83)

ترجمہ: اور اگر اس کو وہ اپنے رسولﷺ اور والیان امر کے سامنے پیش کر دیتے تو ان میں سے جو بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے ہیں وہ اس کی حقیقت کو سمجھ لیتے۔ (ترجمہ مقبول)

قرآنِ پاک میں غور و فکر اور مخفی احکام تک رسائی پانا صاحبانِ علم و خرد کا کسی امر میں سوچنا اور قرآن و سنت میں چھان بین کر کے اس کا حکم نکالنا ہی قیاس کہلاتا ہے سب فتہاء کا اتفاق ہے کہ قیاس مثبت احکام نہیں ہے مظہر احکام ہے چونکہ تاقیامت رہنے والی نسلِ انسانی کے لیے ہزاروں نئے مسائل کے احکام کی ضرورت ہوگی قرآن و سنت میں ہر ہر جزی کا حکم مذکور نہیں ہو سکتا نصوصِ متناہی ہیں اور حادثات و قائع غیر متناہی لہٰذا شرعی قیاس و اجتہاد کی گنجائش تکمیل دین کی ایک ضرورت ہے۔ 

(کذا فی الملل والنحل: جلد، 2 صفحہ، 4)

قیاس کے لغوی معنیٰ تقدیر اور تسویہ کے ہیں اور اصطلاح میں قیاس اس چیز کا نام ہے۔

انما القياس ان تخرج العلة من الحکم المنصوص ویدار علیہ الحکم۔

(حجتہ اللہ: جلد، 1 صفحہ، 147)

ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ تو کسی منصوص حکم سے علت نکالے پھر اس پر حکم دوہرایا جائے۔

یعنی قیاس کی حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت کے احکام میں غور کر کے ہر حکم کی وجہ دریافت

کی جائے اور جب ایسی وجہ غیر منصوص و نئے احکام میں پائی جائے تو ان کو احکامِ منصوصہ پر بذریعہ علتِ قیاس کر کے ان پر حلت یا حرمت کا حکم لگایا جائے یہاں چار چیزیں ہوں گی مقیس علیہ حکم علت مقیس مثلاً شراب کی حرمت منصوص ہے یہ مقیس علیہ ہے اس کی علت نشہ آور اور محزب عقل ہونا اور حکم حرام ہونا ہے اب بھنگ چرس وغیرہ کو بھی قیاس پر شراب حرام کہا جائے گا کیونکہ علت حرمت یعنی نشہ آور ہونا ان میں پایا جاتا ہے۔ 

اصولِ قیاس سنت نبوی سے بھی ثابت ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن میں بھجتے وقت آپﷺ نے فرمایا! کیف تقضی اذا عرض لك قضاء قال اقضی بکتاب اللہ فان لم تجد بکتاب اللہ قال فبسنة رسول اللہﷺ قال فان لم تجد فی سنة رسول اللہﷺ قال اجتھد رائی ولا آکوا قال فضرب رسول اللہﷺ علی صدرہ و قال الحمد اللہ الذی وفق رسول اللہﷺ لما یرضی بہ رسول اللہﷺ۔

(راوہ الترمذی، وابو داؤد، الدارمی، بحوالہ مشکوٰة: صفحہ، 324)

ترجمہ: تو کیسے فیصلہ کرئے گا جب مقدمات پیش ہوں گے تو فرمایا اللہ کی کتاب سے کروں گا آپﷺ نے فرمایا اگر تو اللہ کی کتاب میں وہ بات نہ پائے تو فرمایا اللہ کے رسولﷺ کی سنت سے کروں گا پوچھا اگر تو رسول اللہﷺ کی سنت میں بھی وہ بات نہ پاۓ تو فرمایا اپنی رائے غور سے استعمال کروں گا اور کوتاہی نہ کروں گا راوی فرماتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا سب تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے رسول اللہﷺ کے قاصد کو بھی اس بات کی توفیق دی جو رسول اللہﷺ کو پسند ہے قیاس کی حجیت اور جواز پر یہ صحیح حدیث بڑی اہم اور واضح ہے۔

ممکن ہے کہ قیاس سے ضد شیعہ کو اس بناء پہ ہو کہ ان کے ائمہ کو اس کی حاجت نہ تھی کیونکہ وہ ان کے بقول مبہطِ وحی تھے اور وہ ان پر آتی تھی ان پر منزلہ 12صحائف میں تمام مسائل کی تفصیل موجود تھی لیکن اپنے پیروکاروں کے لیے انہوں نے عقل و قیاس کی حجت صراحتاً بیان فرمائی ہے۔

شیعہ کی اصولِ کافی جیسی اہم اور معتبر کتاب کا آغاز ہی کتاب العقل والجہل سے ہوا ہے۔

جب کہ ہماری کتب کا آغاز کتاب الایمان بدء الوحی کتاب الطہارت سے ہوتا ہے اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وحی الہٰی کا متبع کون ہے اور محض عقل کا غلام بے دام بلکہ اپنے قرآن و سنت کے خلاف مسائل کو ڈھکوسلوں سے ثابت کرنے والا کون ہے۔

ساتویں امام موسیٰ بن جعفرؒ نے اپنے شیعہ ہشام سے فرمایا:

ان الله على الناس حجتين حجة ظاهرة و حجة باطنة فاما الظاھر فالرسل وائمة علیھم اسلام و اما لباطنة فا العقول۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 16)

ترجمہ: لوگوں پر اللہ کی دو حجتیں ہیں ایک ظاہری اور ایک باطنی ظاہری تو انبیاء ورسل اور ائمہ علیہم اسلام ہیں اور باطنی عقولِ سلیمہ ہیں۔

اب تو عقل و قیاس کی حجیت میں کوئی شک نہ رہا بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام و ائمہ کے بالمقابل حجتِ باطنہ ہے اگر دنیوی امور میں عقل کی راہنمائی حجت ہے تو نصوص کے تعاون سے غیر منصوص احکام میں عقل قیاس سے راہنمائی حاصل کرنا بدرجہ اولیٰ حجتِ باطنہ ہوگا۔ 

علمائے امت بھی قیاس کو اصولِ شرعی مانتے ہیں اور اس سے مستنبط مسائل کو بدعت نہیں کہتے خود شیعہ علماء کو قیاس سے ظاہری انکار کے باوجود مفر نہیں کیونکہ زندہ سلسلہ امامت ماننے کے باوجود وہ اجتہاد کی ضرورت کے قائل ہیں اور اجتہاد بغیر قیاس شرعی کے ہو نہیں سکتا جن مسائل میں ان کو قول امام نہیں ملتا وہ قیاس و اجتہاد سے کام لیتے ہیں گویا جسے حرام کہتے ہیں اسے ہی کھاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کے ہاں مجتہد کے مرنے سے اس کے اجتہادات و فتاویٰ باطل ہو جاتے ہیں تو ایک مسئلہ میں دسیوں متضاد اقوال مل جاتے ہیں۔