کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 7

اس سے تو کتا بھی طبیعت میں بہت بہتر ہے کیونکہ کتے میں اپنے باپ کی خصلت پائی جاتی ہے۔

اور مشہور شیعہ حمران بن اعین (از اصحاب باقر) خلوص و اعتقاد سے کہا کرتا تھا۔ 

رشته امامت شماتا صاحب العصر ممتد است وہرکہ ازاں تجاوز کند خواہ علوی باشند یا غیر علوی از اوبیزارم۔ 

(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 346)

تمہاری امامت کا سلسلہ صاحب العصر مہدی تک پھیلا ہوا ہے جو اس سے آگے بڑھے خواہ وہ علوی ہو یا غیر علوی میں اسے تبرا کرتا ہوں۔

بلکہ حق الیقین: صفحہ، 636 پر ملا باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ حضرت امیرِ معاویہؓ، یزید اور دیگر مخالفین اہلِ بیتؓ سے بیزاری کے علاؤہ خلفائے اسماعیلیہ اور زیدیہ سے بھی بیزاری واجب ہے کیونکہ انہوں نے امامت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔

حضرت اسماعیل بن سیدنا جعفر صادقؒ کی نسل سے جو شیعہ ہوئے وہ اسماعیلی کہلاتے ہیں اور حضرت

زید بن امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے جو شیعہ و اہلِ بیت کے متبع چلے وہ زیدیہ کہلاتے ہیں الغرض اثناء عشریہ نے اپنے ان سادات بھائیوں کو بھی نہ چھوڑا۔

صوفی دارند دونوں تیرے غمزہ سے تباً خانقاہ گر ہے ویراں تو خرابات خراب۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دامن بدعات سے پاک ہے:

آمدم برسر مطلب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر جن مسائل کی کمی بیشی کا الزام لگایا گیا ہے وہ مذہب اہلِ سنت کے مطابق صریح غلط ہے۔ افسوس کہ شیعہ حضرات تحقیق و دانش سے ذرا کام نہیں لیتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشمنی میں آ کر مطاعن تصنیف کر دیتے ہیں۔

سوال میں مذکور مسائل خود حضورﷺ سے ثابت ہیں۔

الصلوة خير من النوم:

(ابو داؤد: صفحہ، 73 نسائی: صفحہ، 75 موارد الظمان: صفحہ، 85)

طماوی میں سیدنا ابو محذورہؓ کی روایت ہے کہ حضرتﷺ نے فرمایا جب فجر کی اذان دو تو قل بعد حى على الفلاح الصلوٰة خير من النوم حی علی الفلاح کے بعد الصلوة خیر من النوم کہ نماز نیند سے بہتر ہے 

قاضی شوکانی نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 42 میں لکھتے ہیں صححہ ابنِ خزیمہ شیعہ بھی یہ بار کہنے کے قائل ہیں شیعہ کی معتبر کتاب الفقیہ: صفحہ، 59 باب الاذان میں ہے کہ کوئی حرج نہیں الصلوٰۃ خیر من النوم دو مرتبہ بطورِ تقیہ کہا جائے۔

2: حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں نبی پاکﷺ کے زمانے میں اذان میں حی علی الصلوۃ کے بعد الصلواۃ خیر من النوم دو مرتبہ کہا جاتا تھا۔

(طحاوی: جلد، 1 صفحہ، 82 نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 40 از طبرانی و بہقی)

این سید الناس یعمری کہتے ہیں ہذا اسناد صحیح اور حافظ ابنِ حجر تلخیص الخبیر: صفحہ، 75 پر لکھتے ہیں (سنده حسن)

3: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سنت میں سے یہ ہے کہ فجر کی اذان میں حی علی الصلواۃ کے بعد الصلوۃ خیر من النوم دو مرتبہ کہا جائے۔

(طحاوی: جلد، 1 صفحہ، 82 نیل الاوطار: جلد، 2 صفحہ، 40 از دارقطنی وبہقی)

ابنِ سید الناس اور ابنِ حجر تلخیص الخبیر میں اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ 

(از افادات شیخ محترم علامہ صفدر مدظلہ)

شیعہ کو مغالطہ مؤطا امام مالک: صفحہ، 28 کی اس روایت سے لگا ہے کہ مؤذن نے صبح کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے ہوئے کہا الصلوٰۃ خیر من النوم فامرہ عمران يجعلها فی اذان الفجر۔

 مگر سنتِ نبوی سے قطعی ثبوت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مراد یہی ہو سکتی ہے کہ اس کلمہ کا استعمال صبح کی اذان کے بغیر نہ کیا جائے۔

تراویح کا ثبوت:

بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 101 پر حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے رمضان المبارک میں ایک الگ جگہ نماز کے لیے بنا دی میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا ایک چھپر تھا آپﷺ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

اسی صفحہ پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں نے جب حضورﷺ کو اس حجرہ یا چھپر میں دیکھا تو لوگوں نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی یہ دو یا تین راتیں عمل ہوا اس کے بعد آنحضرتﷺ گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہ نکلے جب صبح ہوئی تو لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: انی خشيت ان تكتب عليكم صلاة۔

ترجمہ: مجھے خوف ہوا کہ تمہارے شوق کے پیشِ نظر نمازِ شب تراویح ہم پہ فرض نہ ہو جائے۔

معلوم ہوا کہ نفسِ تراویح کا ثبوت باجماعت خود حضورﷺ سے ثابت ہے فرضیت کے اندیشہ سے آپﷺ نے عمدًا مداومت نہ کی عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جب یہ اندیشہ نہ رہا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اتفاق اور موجودگی میں اس سنتِ نبوی بالجماعت والتزاماً زندہ فرما دیا چونکہ یہ التزام و دوام نیا تھا تو بطورِ لغوی استعمال اسے نعمت البدعتہ ہذا کیا ہی یہ نیا اچھا کام ہے سے تعبیر فرمایا:

علامہ عینی عمدة القاری شرح بخاری میں اس مقام پر لکھتے ہیں: فصلی فیها لیالی اس جلد میں اصل تراویح کا ثبوت ہے اس لیے کہ آپﷺ نے یہ نماز رمضان کی راتوں میں پڑھی یہ 20 رکعتیں ہیں امام احمد رحمۃ اللہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ کا بھی ہی مذہب ہے امام مالک رحمۃ اللہ کے نزدیک 9 ترویح 36 رکعتیں ہیں وتر کے ماسوا آپ کا استدلال اہلِ مدینہ کے عمل سے ہے ہمارے اصحابِ حنفیہ شافعیہ حنبلیہ کا استدلال بہقی کی باسنادِ صحیح اس روایت سے ہے:

عن السائب بن یزید الصحابی قال کانوا یقومون علی عھد عمرؓ بعشرین رکعة وعلی عھد عثمانؓ و علیؓ مثلہ۔ (بحوالہ حاشیہ بخاری: جلد، 1صفحہ، 101)

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ صحابی فرماتے ہیں کہ مسلمان حضرت عمرؓ کے عہد میں اور اسی طرح حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ کے عہد میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی اس پر عمل کیا اور کرایا اور کسی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول و فعل پر نکیر نہ کی بلکہ تحسین وتائید فرما کر سیدنا عمرؓ کے فقیہ و متبع سنت ہونے پر گویا شہادت دی تو اس کے جواز پر کیا شبہ ہوسکتا ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نور الله قبر عمرؓ کیا نور مساجدنا۔

صفحہ 2 از 7