کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 7

ترجمہ: اللہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر کو روشن کرے جیسے ہماری مساجد کو روشن کیا۔

(شرح نہج البلاغہ ان ابنِ ابی الحدید: جلد، 3 فضائلِ عمرؓ)

کتبِ شیعہ میں رمضان میں بعد از نمازِ عشاء 22 رکعت نماز پڑھنے کا حکم ہے ائمہ کی طرف سے اور حضورﷺ کا رمضان میں بعد از عشاء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تراویح پڑھانا منقول ہے۔

(فروعِ کافی: جلد، 3 صفحہ، 399 از افادات تونسوی)

چار تکبیر نماز جنازه کا ثبوت:

بخاری: جلد، 1 صفحہ، 177 پر یہ باب ہے ہے باب التكبير على الجنازة اربع پھر پہلی حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ حدیث ہے: فخرج بهم الى المصلى وكبر عليه اربع تکبیرات۔ 

ترجمہ: کہ نجاشی کی موت کی خبرسن کر حضورﷺ نمازگاه کی طرف چلے۔ صف بنائی اور چار تکبیروں سے ان پر نمازِ جنازہ پڑھائی دوسری حدیث حضرت جابرؓ سے ہے کہ حضورﷺ نے اصحمہ نجاشیؒ پر چار تکبیروں سے نمازِ جنازہ پڑھائی کتبِ اہلِ سنت میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں سلف و خلف چار تکبیروں پر اتفاق رکھتے ہیں شاید کسی صاحب نے فعلِ نبوی سے بے خبری کی وجہ سے اس کے خلاف کہا سنا ہو تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید فرما کہ اس سنتِ نبوی کو قانونی شکل دے دی ہو تو شیعہ نے بعضِ دشمنی کی وجہ سے اسے ایجادِ عمرؓ قرار دے دیا ہو بلکہ کتبِ شیعہ سے بھی فعلِ نبوی سے چار تکبیریں ثابت ہیں۔ 

فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 181 پر امام جعفر صادقؒ کی ایک حدیث میں ہے:

جب اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو منافقین پر نمازِ جنازہ پڑھنے سے روک دیا تو آپ یوں نماز پڑھتے تھے کبر و تشھد ثم کبر وصلی علی النبیینﷺ ثم کبر و دعا للمؤمنین ثم کبر الرابعة و انصرف ولم یدع للمیت۔

ترجمہ: تکبیر کہتے اور خدا اور رسولﷺ کی گواہی دیتے پھر تکبیر کہتے اور مؤمنین کے لیے دعا کرتے پھر چوتھی تکبیر کہہ کر نماز سے باہر آجاتے ہیں اور میت کے لیے دعا نہ کرتے۔

معلوم ہوا کہ اہلِ سنت کے ہاں مطلقاً اور عند الشیعہ حضورﷺ کا پچھلا تعامل آیت ولا تصل علی احمد کے بعد چار تکبیروں سے نمازِ جنازہ پڑھانا اور بعد از سلام دعا نہ کر نا تھا۔

متعہ کی حرمت خود حضور سے ثابت ہے:

اب شیعہ کے مایہ ناز دل پسند اور محبوب فعل متعہ کی باری بھی آ گئی کہ مطاعن فاروقی میں کسی اور بات کا ذکر کریں یا نہ کریں متعہ کا ذکر ضرور کریں گے۔

متعہ کے عند الشیعہ فضائل بطورِ نمونہ گزر چکے ہیں متعہ کی تعریف ملاحظہ کرلیں کوئی مرد و عورت مقررہ وقت اور مقررہ اجرت سے بغیر گواہوں اور ولی کی اجازت کے ایجاب و قبول ورضا مندی کر کے تعلق قائم کریں شیعہ کے ہاں اسی کا نام متعہ ہے مسلمان اسے زنا بالرضا سے تعبیر کرتے ہیں جو ہند و پاک میں شاہانِ روافض کی یادگارہ بازارِ حسن میں ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بے دین حکومتیں رضا مندی سے اس فعلِ شنیع کو قابلِ گرفت و تعزیر نہیں مانتی ہیں۔ 

سنی شیعہ کے اتفاق سے ممتوعہ عورت ایک بازاری و کسبی کا حکم رکھتی ہے کوئی بھی اس میں زوجہ کے شرائط تسلیم نہیں کرتا نہ زوجیت کے حقوق دیتا ہے اور نہ اسے باندی مانتا ہے۔

 ممتوعہ عورت کی بازاری اور بیوی نہ ہونے کی حیثیت پر کتبِ شیعہ سے دلائل ملاحظہ ہوں:

 1: لیس فی المتعة اشھاد ولا اعلان۔

(تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 189)

ترجمہ: متعہ میں نا گواہ ہوں گے نہ اعلان ہو گا۔

2: ادنیٰ ما یتزوج بہ قال کف من ایضاً۔

ترجمہ: حضرت جعفرؒ سے پوچھا گیا کم از کم کتنی اجرت پر ازواجِ متعہ ہوگا فرمایا گندم کی ایک ہتھیلی حالانکہ بیوی کے مہر میں معین معقول رقم شرط ہے۔

3: متعہ کے ارکان پانچ ہیں 1: مرد، عورت، 2: مہر، 3: وقت مہر، 4: ایجاب 5: قبول گواہ شرط نہیں۔

(تفسیر منہج الصادقین: صفحہ، 357)

4: عن ابی عبدالله قال ذكر له المتعة اھی من الاربع قال تزوج منھا الفافانھن مستاجرات۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا گیا زنِ متعہ چار میں سے ہے فرمایا نہیں ہزار سے عقد کر لو کیونکہ یہ کرایہ دار پی

5: و قال ابو جعفرؒ لیس من الاربع لانھا لا تطلق ولا ترث واغا ھی مستاجرة۔

(تہذیب: جلد، 2 صفحہ، 188)

ترجمہ: امام باقرؒ نے فرمایا یہ چار عورتوں میں سے نہیں کیونکہ نہ طلاق پاتی ہے نہ وارث بنتی ہے بلکہ یہ کرایہ دار ہے۔

6: سئل ابوالحسن علیه السلام عن المتعة ا ھی من الاربع فقال لا وفی روایة ولا من السبعین و انما ھی مستاجرة۔

(کافی ابواب المتعة: صفحہ، 448)

امام ابو الحسن رضا سے پوچھا گیا کیا زنِ متعہ چار منکوحہ عورتوں میں سے ہے فرمایا نہیں ایک روایت میں ہے یہ 70 باندیوں میں سے بھی نہیں یہ کسبی ہے۔

7: وصاحب الاربع النسوة یتزوج منھن ماشاء بغیر ولی ولا شھود فاذا انقضی الاجل بانت منہ بغیر طلاق و یعطیھا الشئی الیسیر صدقہ الامام الصادق۔

(فروعِ کافی ابواب المتعة: صفحہ، 451)

ترجمہ: اور چار بیویوں کا خاوند متعہ والی عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہے بغیر ولی اور گواہوں کے عقدکر لے جب مدتِ مقررہ ختم ہو گئی تو بلا طلاق یہ جدا ہو جائے گی مرد اسے کچھ پیسے دے دے سیدنا صادقؒ نے اس کی تصدیق فرمائی۔

8: عن ابی عبداللہ قال لا تکون متعة الا بامرین اجل مسمی واجر مسمی۔ (ایضاً: صفحہ، 455)

ترجمہ: سیدنا ابو جعفرؒ نے فرمایا متعہ صرف دو باتوں سے ہو گا وقتِ مقرر ہو اور اجرت مقرر ہو۔

کئی آدمی ایک ہی عورت سے بار بار متعہ کر سکتے ہیں زرارہ نے سیدنا باقر صادقؒ سے پوچھا ایک آدمی متعہ کرے اور شرطِ مدت ختم ہو جائے پھر دوسرا اس سے متعہ کرے جب وہ اس سے جدا ہو تو پہلا متعہ کرے اور اس سے جدا ہو اسی طرح تین دفعہ ہو اور بیک وقت وہ تین مردوں سے متعہ کرے کیا اب بھی پہلے کے لیے حلال ہوگی فرمایا ہاں جتنی دفعہ چاہے یہ آزاد عورتوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ کرایہ دار ہے اور یہ باندیوں کے قائم مقام ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 460)

معلوم ہونا چاہیئے کہ عقدِ متعہ میں عورتوں کی تعداد متعین نہیں ہے اور نفقہ کھانا پینا مکان لباس مرد پہ لازم نہیں ہے نیز اس جوڑے میں وراثت بھی نہ ہوگی یہ تمام امور دائمی عقدِ نکاح میں ضروری ہوتے ہیں۔ (تفسیر منہج الصادقین: صفحہ، 357) 

صفحہ 3 از 7