کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 7

شیعہ عبارات سے تفصیل ہم نے اس لیے کی تاکہ متعہ کے زنا ہونے کا آپ کو یقین ہو جائے اس رضامندی طرفین میں نہ گواہ ہیں نہ اعلان نہ نفقہ ہے نہ وراثت نہ طلاق ہے نہ اس کی عدت بلکہ یہ ایک کرایہ دار عورت ہے جس کے ساتھ گھڑی دو گھڑی یا ایک دو دن کے لیے بھی تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ تہذیب: جلد، 2 صفحہ، 190 امام نے ان کو باندیاں بھی نہیں فرمایا بلکہ ولا من سبطین کہہ کر صراحتاً تردید کر دی ہاں بعض روایات میں بمنزلتہ الاماء فرمایا یعنی چار سے زائد رکھنے میں باندیوں کے قائم مقام ہیں۔

اس انتہائی فحش و حیاء سوز فعل کی حرمت پر تمام ملل و ادیان کی عقل و نقل ماسوا فرقہ شیعہ متفق ہیں بلکہ جن بزرگانِ اہلِ بیتؓ کی طرف ان شہوت پرستوں نے اس کی نسبت کی ہے وہ بھی اپنے گھر کا ذکر سن کر آگ بگولا ہو جاتے تھے اگر نکاح کی طرح متعہ بھی واقعی جائز ہوتا تو ناراض کیوں ہوتے امام باقر رحمۃ اللہ سے عبداللہ بن عمیر نے کہا آپ کی بیویاں بیٹیاں بہنیں اور چچا کی بیٹیاں یہ کام کرتی ہیں؟ فاعرض ابو جعفرؒ حین ذکرہ نساء وبنات عمہ 

(تہذیب الاحکام طوسی: جلد، 2 صفحہ، 186)

ترجمہ: حضرت باقر رحمۃ اللہ نے منہ پھیر لیا جب اپنی عورتوں اور چچا زاد بیٹیوں کا ذکر ہوا۔

بلکہ شیعہ کے ذمہ دار علماء و مجتہدین جب متعہ کی مدح و مصالح میں منبر و محرابِ حسینیؓ پر رطب اللسان نظر آتے ہیں اور مستقل کتابیں لکھتے ہیں وہ بھی اپنے گھر میں اس فعلِ شنیع کو کبھی جائز نہیں سمجھتے نہ برداشت کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگ عوام شیعہ مخصوصاً غرباء کی بہن بیٹوں کے حق اس کے جواز کا فتویٰ کیوں دیتے ہیں کیا وہ اس دورخی پالیسی پر خدا کا ذرا خوف نہیں کرتے۔

كَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞

(سورۃ الصف: آیت 3)

ترجمہ: اللہ کے ہاں بڑی ناراضگی کی یہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔

پھر کیا شیعہ امیروں، نوابوں جاگیرداروں مسٹنڈ ے ذاکروں بے دین و نام نہاد سیدوں کی ہوس رانی ہی کے لیے یہ شرمناک مسئلہ ایجاد کر لیا گیا ہے تاکہ شیعہ مذہب زندہ رہے کیونکہ اس مذہب کی بقاء کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں اور ان کی روح یہی مسئلہ ہے بے غیرتی کا طرہِ امتیاز صرف شیعہ کا یہ مسئلہ ہی نہیں بلکہ وہ مقامِ مخصوص کو بطورِ عاریت مانگنے پر کسی دوست بھائی وغیرہ کو بھی دینے کے قائل ہیں۔ الاستبصار: جلد، 3 صفحہ، 138 پر ہے کہ حسن عطار نے سیدنا صادقؒ سے مانگی ہوئی شرمگاہ کے متعلق پوچھا قال لا باس بہ ہے فرمایا کوئی حرج نہیں بیوی سے در دبر لواطت جائز کہتے ہیں سیدنا باقرؒ نے فرمایا لا باس اذا رضیت۔ جب بیوی راضی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 

(استبصار: جلد، 3 صفحہ، 243)

کچھ لوگ خوفِ خدا پسِ پشت ڈال کر اور وقاحت کا لبادہ اوڑھ کر یہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ متعہ عہدِ نبوی میں رائج تھا اور فلاں فلاں اس کی مثالیں ہیں حالانکہ بالفرض یہ بے حیائی عہدِ جاہلیت کی یاد گار عہدِ نبوی میں ابتدائی عرصہ کے لیے تسلیم کی بھی جائے تو اس سے اس کی ابداً حلت کیسے ثابت ہو جائے گی قرآنِ کریم نے رفتہ رفتہ مصالح کے پیشِ نظر مسلم معاشرہ کی قوت کے مطابق برائیوں کا ازالہ کیا اور حرمت نازل فرمائی ایک وقت میں نماز روزہ حج زکوٰۃ نہ تھی اور شراب جوا وغیرہ رائج تھا تو کیا بعد والی فرضیت یا حرمت سے قطع نظر کرکے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں یہ عبادات فرض نہیں اور شراب و جوا حلال ہیں ظاہر ہے کہ آخری دورِ حلت و حرمت ہی کو دیکھا جائے گا جب اللہ پاک نے بار بار یہ ارشاد فرما دیا:

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۞

(سورۃ المؤمنون: آیت 5)

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌ۚ ۞

(سورۃ المؤمنون: آیت 6)

ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاؤں کی حفاظت کرنے والے ہیں سواۓ اپنی ازواج کے یا اپنے ہاتھ کے مال لونڈیوں کے اس صورت میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔

اور حضرت ابنِ عباسؓ جیسے حبرِ امت و ترجمانِ قرآن نے اس کی تفسیر میں یہ فرما دیا:

متعہ شروع اسلام میں تھا ایک آدمی کسی شہر میں آتا وہاں جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اقامت کی مقدار شادی کرتا وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے کام درست کرتی حتیٰ کہ جب آیت:

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ الخ۔

(سورۃ المؤمنون: آیت 6)

نازل ہوئی تو حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں ہر فرج اس کے سوا حرام ہے۔ (ترمزی: صفحہ، 273)

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ زنِ متعہ نہ بیوی ہے ورنہ اس سے عقد کے لیے گواہ اعلان میراث نفقہ تعداد طلاق عدت وغیرہ ہوتی نہ باندی ہے ورنہ بیع مہر آزادی وغیرہ اس میں نافذ ہوتی تو اس آیت نے صراحتاً متعہ کو حرام کر دیا۔

اور بروایتِ حضرت علی المرتضیٰؓ حضورﷺ نے منع فرما دیا:

1: قال نهى عن متعة النساء يوم خیبر وعن اکل لحوم الحمر الاھلیة۔

ترجمہ: فتح خیبر کے دن حضور نے عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے روک دیا

(مشكوٰة: صفحہ: 272)

2: ان علیاؓ قال لابنِ عباسؓ ان نبیﷺ نھی عن المتعة وعن لحوم الحمر الا حلیة زمن خیبر۔

ترجمہ: حضرت علیؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے فرمایا بلاشبہ آپﷺ نے متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے خیبر کے دنوں سے ممانعت فرما دی۔ 

(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 767)

3: عن علیؓ قال حرم رسول اللہ لحوم الحمر الاھلیة ونکاح المتعة۔

(استبصار: جلد، 3 صفحہ، 142)

ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے پگھریلو گدھے اور عقدِ متعہ کی حرمت کر دی ہے۔

4: حضرت ابنِ عباسؓ اولاً متعہ میں رخصت کے قائل تھے آپ کو آپ کے غلام نے کہا یہ تو انتہائی مجبوری کی حالت اور عورتوں کی قلت وغیرہ کی وجہ سے تھا۔ فقال ابن عباس نعم۔ (بخاری: جلد، 2صفحہ،767) یعنی رجوع تسلیم کرلیا۔

مزید کئی روایات بھی متعہ کی حرمت اور سیدنا ابنِ عباسؓ کے رجوع پر صریح دال ہیں قرآن و سنت اور اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سےاس کی تحریم کے بعد کیا اب بھی اس کو جائز کہا جائے گا پھر تو گدھے بھی حلال ہوں گے؟ چہ خوب۔

صفحہ 4 از 7