کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 7

علاوہ ازیں یہ کسی صورت میں قابلِ تسلیم نہیں کہ بلا شہود و اعلان خفیہ متعہ شیعہ اور متعہ دوریہ عہدِ نبوی میں واقع ہوا تھا کیونکہ یہ انتہائی بے غیرتی اس وقت نہ تھی وہ صرف نکاحِ متعہ تھا یعنی گواہوں کی موجودگی میں مدت مقررہ کے لیے باقاعدہ نکاح ہوتا تھا جسے متعہ یا نکاح مؤقت کہا جاتا تھا۔

سیدنا جعفرؒ سے پوچھا گیا کیا عہدِ نبوی میں لوگ بغیر گواہوں کے عقدِ متعہ کرتے تھے؟ قال لا فرمایا نہیں۔ شیعہ علامہ طوسی اس پر لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں گواہ کے بغیر متعہ کرنے کی ممانعت نہیں بلکہ اس کا بیان ہے کہ عہدِ رسول اللہﷺ‎ میں وہ بلا گواہِ نکاح متعہ نہ کرتے تھے۔

انهم ما تزوجوا الا ببية و ذالك هو الافضل انہوں نے کبھی نکاحِ متعہ نہ کیا سوائے گواہوں کے اور یہی افضل ہے۔

(تہذیب الاحکام: جلد، 2 صفحہ، 186 الاستبصار: جلد، 3 صفحہ، 148) 

کتبِ اہلِ سنت کے مطابق تو اس نکاحِ مؤقت میں نفقہ اور سکنی بھی لازم تھا۔

ایک شبہ کا ازالہ:

کچھ لوگ آیتِ نکاح وَّالۡمُحۡصَنٰتُ کے جملہ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ، سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى کی قید قرآت شاذہ یا منسوخہ نکال کر حلت حرمت ثابت کرتے ہیں حالانکہ اثباتِ احکام کے لیے قرآت شاذہ و منسوخہ سے استدلال نا جائز ہے علاوہ ازیں یہ مفید مطلب بھی نہیں ہے کیونکہ جار مجرور استمتاع جماع سے متعلق ہے عقد کے متعلق نہیں اور عقد متعہ میں تو تعیینِ مدت شرط ہے تو مطلب یہ ہوا کہ جب منکوحہ سے نفع اٹھا لو یعنی جماع کرلو تو مکمل مہر ادا کرو بایں طور ٹال مٹول نہ کرو کہ پوری عمر کے بعد مہر ادا کریں گے اگر اِلٰٓى اَجَلٍ عقد سے متعلق ہو تو لازم آئے گا کہ متعہ عمر بھر کے لیے جائز نہ ہو حالانکہ شیعہ عمر بھر کے لیے متعہ کو جائز کہتے ہیں لفظ استمتاع متاع بمعنیٰ نفع سے نکلا ہے عقدِ متعہ کے لیے صریح نہیں۔ 

جیسے دوسری آیات میں ہے:

فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِهِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 69)

ترجمہ: پس انہوں نے اپنے حصے سے نفع اٹھایا او تم نے اپنے حصے سے ویسے ہی نفع اٹھایا۔

وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ‌الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 241)

ترجمہ: اور جن کو طلاق دی گئی ہے ان کو بھی نیکی کے ساتھ نفع پہنچانا ہے۔

وَّمَتِّعُوۡهُنَّ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 236)

ترجمہ: البتہ ان کو نیکی کے طور پر کچھ نفع پہنچا دو اور یہ نفع پہنچانا صاحبِ مقدور پر اس کی حیثیت کے موافق لازم ہے۔

قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِيۡرَكُمۡ اِلَى النَّارِ‏ ۞(سورۃ ابراہیم: آیت 30)

ترجمہ: تم کہہ دو کہ چند روز انفع اٹھالو کر تمہاری

باز گشت تو یقیناً جہنم ہی کی طرف ہے۔

(تراجم مقبول)

العرض اس تفصیل سے جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ حرمتِ متعہ پر قرآنِ کریم کتبِ فریقین سے سنتِ نبوی اور اعلان مرتضوی متفق ہیں تو بعض کتبِ تاریخ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کا معنیٰ صرف یہ ہے کہ آپؓ نے اس کی حرمت کو نمایاں اور شائع کیا اور کسی کے لیے اخفاء نہ رہا۔ 

شرارت باز لوگوں کے لیے سخت قانون بنا دیا تعزیزاً خلیفہ کو ایسا حق حاصل ہے۔

طلاق ثلاثہ معا بائن ہے:

صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 791 پر یہ باب باندھا ہے باب من اجاز طلاق الثلاث القول الله تعالىٰ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌۔

ترجمہ: طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو بند رکھنا ہے یا اچھی طرح چھوڑنا ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس استدلال کا اصل مقصد یہ ہے کہ آئندہ آیت:

فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 230)

ترجمہ: پس اگر تیسری طلاق دے دی تو یہ عورت اس کے بعد حلال نہیں تا آنکہ کسی اور مرد سے نکاح جماع کرے تین طلاقوں کے وقوع اور حرمتِ مغلظہ پر دلالت کرتی ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الام میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم کا یہ ظاہر مفہوم اس بات کی دلیل ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی بھی دی جائیں تو وہ عورت اس خاوند کے لیے حرام ہے اکٹھی سے مراد یہ ہے یعنی ایک مجلس میں دے دے انت طالق انت طالق پھر کہا انت طالق جو فان طلقها من بعد کا مفہوم ہے۔

2: صحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 463 اور بخاری: جلد، 2 صفحہ، 391 اسی باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: 

ان رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلقت فسئل النبیﷺ اتحل للادلقال لا حتیٰ یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول۔

ترجمہ: ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کر لیا پھر طلاق پائی تو حضورﷺ سے پوچھا گیا کیا وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوئی فرمایا نہیں یہاں تک کہ اسکا مزہ ثانی خاوند چکھے جیسے پہلا چکھ چکا ہے۔

حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 295 میں لکھتے ہیں ک طلقہا ثلاثاً کا جملہ اس کو چاہتا ہے کہ اس نے تین طلاقیں اکٹھی دے دی تھیں اور یہی مطلب علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری: جلد، 9 صفحہ، 336 میں بیان فرماتے ہیں۔

3: دارِ قطنی: جلد، 2 صفحہ، 431 اور سنن کبریٰ: جلد، 7 صفحہ، 334 مجمع الزوائد: جلد، 4 صفحہ، 338 نصب الرایہ: جلد، 3 صفحہ، 22 پر بسندِ صحیح حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمدﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی ہے آپﷺ نے فرمایا طلاق ہوگئی لیکن رجوع کرے میں نے کہا یا رسول اللہﷺ بتلائیں لو انى طلقتها ثلاثاً كان يحل لى ان اراجعها قال لا كانت تبين منك وتكون معصية اگر میں اس کو تین طلاقیں دوں تو کیا مجھے حلال ہے کہ رجوع کرلوں؟ فرمایا نہیں وہ تجھ سے جدا ہو جائے گی اور تو گناہ گار ہی ہوگا۔

صفحہ 5 از 7