کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 7

4: ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 140 ابوداؤد: صفحہ، 300 طیالسی: صفحہ، 164 ابنِ ماجہ: صفحہ، 149 دارِ قطنی: جلد، 2 صفحہ، 439 اور مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 199 پر حضرت رکانہؓ کی روایت ہے کہ میں نے بیوی کو طلاقِ بائن دے کر حضورﷺ سے پوچھا تو آپﷺ نے دو مرتبہ قسم دے کر پوچھا کیا تو نے ایک ہی کا ارادہ کیا؟ قلت واللہ حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو داؤد و حاکم ابنِ حیان وغیرہ اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ 

(تلخیص الخبیر: صفحہ، 319) 

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر تین طلاقوں کے بعد رجوع کی گنجائش ہوتی تو آپﷺ قسم نہ دیتے۔

(ازا فادات استاذیم صفدر مدظلہ)

اس مسئلہ میں بہت معمولی اختلاف ہے ائمہ اربعہ اور جمہور محدثین امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر حافظ ابن حجر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بلوغ المرام تک اس کے قائل ہیں کہ تین طلاقیں تین ہیں حضرت عمرؓ حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت عائشہؓ روایت عن على فقہاء و تمام جمہور سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ 

(سبل السلام للیمانی: جلد، 3 صفحہ، 215)

ابنِ حزم رحمۃ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے البتہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ ابنِ قیم رحمۃ اللہ اور دورِ حاضر کے اہلِ ظاہر غیر مقلیدین تین کو ایک شمار کرتے ہیں شاید شیعی مفاد بھی اسی میں ہے ان کی اہم دلیل مسلم: جلد، 1 صفحہ، 477 اور مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 196 کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت عمرؓ نے فرمایا ہے لوگوں نے اس معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے تاخیر تھی کیا بہتر ہو کہ ان کی تین طلاقوں کو تین شمار کریں تو آپ نے تین جاری کر دیں اس کا جواب یہ ہے: 

1: کہ یا تو راوی کو نسخ کا علم نہیں جیسے علامہ حازمی کتاب الاعتبار: صفحہ، 180 پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تین طلاقیں دے کر رجوع کا حق پہلے تھا بعد کو منسوخ ہو گیا۔ 

2: امام نسائی: جلد، 2 صفحہ، 83 پر اس حدیث کو باب طلاق الثلاث التفرقة قبل الدخول بالزوجة میں پیش کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ یہ غیر مدخول بہا سے متعلق ہے اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ کوئی شخص ایک مجلس میں یوں کہے انتِ طالق انت طالق انت طالق تو ایک طلاق ہوگئی باقی دو کا وہ عورت محل ہی نہیں۔

3: مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی آثار المطبوعہ میں مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ پہلے لوگ بجائے تین طلاقوں کے ایک ہی دیتے تھے عدت گزر جاتی تو عورت جہاں چاہتی نکاح کرتی آپﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دو سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسا ہی ہوتا رہا اس کے بعد لوگوں نے تین طلاقیں دینا شروع کر دیں تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ جلد بازی پر اتر آئے ہیں پہلے لوگوں کو ایک طلاق کے بعد سوچنے سمجھنے او رجوع کا موقعہ تھا مگر اب لوگوں نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تین دے دیتے ہیں لہٰذا ہم بھی تین نافذ کریں گے۔

اہلِ حدیث عالم مولانا محمد صدیقی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں تین طلاق کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاقِ بائن قرار دینا خلیفہ ثانیؓ کا ایک تعزیری اقدام ہے اور امام کو حدود و تعزیر میں زیادتی کا اختیار ہے کمی کا نہیں جیسا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جلا دیا تھا جو الوہیتِ علی کا عقیدہ رکھتے تھے حالانکہ اسلام میں کسی جرم کی سزا جلانا نہیں ہے۔

(کشف الاسرار: صفحہ، 135)

یہ جواب شیعہ کے مقابلے میں ایک توجیہ یا قدرے مسکت ہے ورنہ صحیح جوابات وہی پہلے ہیں

قیاس شرعی حجت ہے:

قیاس کو اصول قائم کرنے کا سیدنا عمرؓ پر مخصوص الزام بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دشمنی کا آئینہ ہے ورنہ چند اہلِ ظاہر کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین و ائمہ دین اس کی مشروعیت پر متفق ہیں اور اس کی مشروعیت کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

جیسے ارشاد ربانی ہے: 

وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ ۞(سورۃ النحل: آیت 44)

ترجمہ: اور تمہاری طرف ہم نے یہ قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اسے تم لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دو اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 83)

ترجمہ: اور اگر اس کو وہ اپنے رسولﷺ اور والیان امر کے سامنے پیش کر دیتے تو ان میں سے جو بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے ہیں وہ اس کی حقیقت کو سمجھ لیتے۔ (ترجمہ مقبول)

قرآنِ پاک میں غور و فکر اور مخفی احکام تک رسائی پانا صاحبانِ علم و خرد کا کسی امر میں سوچنا اور قرآن و سنت میں چھان بین کر کے اس کا حکم نکالنا ہی قیاس کہلاتا ہے سب فتہاء کا اتفاق ہے کہ قیاس مثبت احکام نہیں ہے مظہر احکام ہے چونکہ تاقیامت رہنے والی نسلِ انسانی کے لیے ہزاروں نئے مسائل کے احکام کی ضرورت ہوگی قرآن و سنت میں ہر ہر جزی کا حکم مذکور نہیں ہو سکتا نصوصِ متناہی ہیں اور حادثات و قائع غیر متناہی لہٰذا شرعی قیاس و اجتہاد کی گنجائش تکمیل دین کی ایک ضرورت ہے۔ 

(کذا فی الملل والنحل: جلد، 2 صفحہ، 4)

قیاس کے لغوی معنیٰ تقدیر اور تسویہ کے ہیں اور اصطلاح میں قیاس اس چیز کا نام ہے۔

انما القياس ان تخرج العلة من الحکم المنصوص ویدار علیہ الحکم۔

(حجتہ اللہ: جلد، 1 صفحہ، 147)

ترجمہ: قیاس یہ ہے کہ تو کسی منصوص حکم سے علت نکالے پھر اس پر حکم دوہرایا جائے۔

یعنی قیاس کی حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت کے احکام میں غور کر کے ہر حکم کی وجہ دریافت

کی جائے اور جب ایسی وجہ غیر منصوص و نئے احکام میں پائی جائے تو ان کو احکامِ منصوصہ پر بذریعہ علتِ قیاس کر کے ان پر حلت یا حرمت کا حکم لگایا جائے یہاں چار چیزیں ہوں گی مقیس علیہ حکم علت مقیس مثلاً شراب کی حرمت منصوص ہے یہ مقیس علیہ ہے اس کی علت نشہ آور اور محزب عقل ہونا اور حکم حرام ہونا ہے اب بھنگ چرس وغیرہ کو بھی قیاس پر شراب حرام کہا جائے گا کیونکہ علت حرمت یعنی نشہ آور ہونا ان میں پایا جاتا ہے۔ 

صفحہ 6 از 7