کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا…

کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 7

اصولِ قیاس سنت نبوی سے بھی ثابت ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن میں بھجتے وقت آپﷺ نے فرمایا! کیف تقضی اذا عرض لك قضاء قال اقضی بکتاب اللہ فان لم تجد بکتاب اللہ قال فبسنة رسول اللہﷺ قال فان لم تجد فی سنة رسول اللہﷺ قال اجتھد رائی ولا آکوا قال فضرب رسول اللہﷺ علی صدرہ و قال الحمد اللہ الذی وفق رسول اللہﷺ لما یرضی بہ رسول اللہﷺ۔

(راوہ الترمذی، وابو داؤد، الدارمی، بحوالہ مشکوٰة: صفحہ، 324)

ترجمہ: تو کیسے فیصلہ کرئے گا جب مقدمات پیش ہوں گے تو فرمایا اللہ کی کتاب سے کروں گا آپﷺ نے فرمایا اگر تو اللہ کی کتاب میں وہ بات نہ پائے تو فرمایا اللہ کے رسولﷺ کی سنت سے کروں گا پوچھا اگر تو رسول اللہﷺ کی سنت میں بھی وہ بات نہ پاۓ تو فرمایا اپنی رائے غور سے استعمال کروں گا اور کوتاہی نہ کروں گا راوی فرماتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا سب تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے رسول اللہﷺ کے قاصد کو بھی اس بات کی توفیق دی جو رسول اللہﷺ کو پسند ہے قیاس کی حجیت اور جواز پر یہ صحیح حدیث بڑی اہم اور واضح ہے۔

ممکن ہے کہ قیاس سے ضد شیعہ کو اس بناء پہ ہو کہ ان کے ائمہ کو اس کی حاجت نہ تھی کیونکہ وہ ان کے بقول مبہطِ وحی تھے اور وہ ان پر آتی تھی ان پر منزلہ 12صحائف میں تمام مسائل کی تفصیل موجود تھی لیکن اپنے پیروکاروں کے لیے انہوں نے عقل و قیاس کی حجت صراحتاً بیان فرمائی ہے۔

شیعہ کی اصولِ کافی جیسی اہم اور معتبر کتاب کا آغاز ہی کتاب العقل والجہل سے ہوا ہے۔

جب کہ ہماری کتب کا آغاز کتاب الایمان بدء الوحی کتاب الطہارت سے ہوتا ہے اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وحی الہٰی کا متبع کون ہے اور محض عقل کا غلام بے دام بلکہ اپنے قرآن و سنت کے خلاف مسائل کو ڈھکوسلوں سے ثابت کرنے والا کون ہے۔

ساتویں امام موسیٰ بن جعفرؒ نے اپنے شیعہ ہشام سے فرمایا:

ان الله على الناس حجتين حجة ظاهرة و حجة باطنة فاما الظاھر فالرسل وائمة علیھم اسلام و اما لباطنة فا العقول۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 16)

ترجمہ: لوگوں پر اللہ کی دو حجتیں ہیں ایک ظاہری اور ایک باطنی ظاہری تو انبیاء ورسل اور ائمہ علیہم اسلام ہیں اور باطنی عقولِ سلیمہ ہیں۔

اب تو عقل و قیاس کی حجیت میں کوئی شک نہ رہا بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام و ائمہ کے بالمقابل حجتِ باطنہ ہے اگر دنیوی امور میں عقل کی راہنمائی حجت ہے تو نصوص کے تعاون سے غیر منصوص احکام میں عقل قیاس سے راہنمائی حاصل کرنا بدرجہ اولیٰ حجتِ باطنہ ہوگا۔ 

علمائے امت بھی قیاس کو اصولِ شرعی مانتے ہیں اور اس سے مستنبط مسائل کو بدعت نہیں کہتے خود شیعہ علماء کو قیاس سے ظاہری انکار کے باوجود مفر نہیں کیونکہ زندہ سلسلہ امامت ماننے کے باوجود وہ اجتہاد کی ضرورت کے قائل ہیں اور اجتہاد بغیر قیاس شرعی کے ہو نہیں سکتا جن مسائل میں ان کو قول امام نہیں ملتا وہ قیاس و اجتہاد سے کام لیتے ہیں گویا جسے حرام کہتے ہیں اسے ہی کھاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کے ہاں مجتہد کے مرنے سے اس کے اجتہادات و فتاویٰ باطل ہو جاتے ہیں تو ایک مسئلہ میں دسیوں متضاد اقوال مل جاتے ہیں۔


صفحہ 7 از 7