کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی بھی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ نبی کی وفات پر امت نے اپنے پیغمبر کا خلیفہ اجماع سے بنایا اگر ہو تو نام ارشاد فرمائیں۔
مولانا مہرمحمد میانوالیجواب: یہ وہی سوال 9 والا لقمہ ہے جسے پھر قے کر دیا گیا ہے ہم پہلے یہ بتا چکے ہیں کہ سابقہ انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں سلسلہ نبوت جاری تھا ایک نبی کے بعد دوسرا نبی اس کا جانشین بنتا تھا سیاست کی باگ ڈور بھی انہی کے ہاتھ میں تھی بالفرض اگر اجماع و شوریٰ سے وہارے استخلاف نہ ہو تو اس کی وہاں ضرورت ہی نہ تھی امت محمدیہ میں سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا ہے وحی الہٰی بند ہو چکی تو خلیفہ کے تعین کی ایک صورت اجتماع و شوریٰ سے ہوگی جیسے اس امت کے متعلق اللہ پاک کا ارشاد ہے:
وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوا لِرَبِّهِمۡ وَاَقَامُوۡا الصَّلٰوةَ وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔
(سورۃ الشوریٰ: آیت 38)
ترجمہ: جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور ان کا معاملہ باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے۔
لہٰذا اس امت کا سابقہ امم پر قیاس مع الفارق ہے اور اصولِ قرآن سے کھلا انحراف ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پسِ پردہ شیعہ بدستور اجرائے نبوت بنامِ امامت کے قائل اور ختمِ نبوت کے منکر ہیں تبھی تو مسئلہ خلافت کو سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی خلافت پر قیاس کرتے ہیں سابقہ امم میں سے بھی شیعہ کے پاس صرف ایک مثال ہے کہ حضرت یوشع علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ وصی تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نامزد کردہ تھے امت کا انتخاب میں دخل نہ تھا وہ صرف مانے پر مامور تھی تو حضورﷺ کا وصی و جانشین بھی اسی صفت میں چاہیے تھا۔
حالانکہ یہی قصد شیعہ عقیدہ امامت کا استیصال کر دیتا ہے کیونکہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریبی رشتہ دار یا عم برادر نہ تھے وہ امت کے صالح نوجوان تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہت خدمت کی اللہ تعالیٰ نے منصبِ نبوت اور جانشینی کلیم اللہ سے سرفراز فرمایا اگر امامت کا شیعی تصور درست ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھتیجے حضرت ہارون علیہ السلام کے دو صاحبزادے ہی آپ کے بعد وصی و جانشین بلا فصل بنائے جاتے یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے داماد کالوب بن یوقنہ یا کلاب بن یاقنہ نامزد خلیفہ بلا فصل ہوتے۔ (طبری: صفحہ، 430)
لہٰذا سب مؤرخین و مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام پیغمبر تھے۔
فحولت النبوة الى يوشع بن نون۔
(طبری: جلد، 1 صفحہ، 430)
نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت یوشع علیہ السلام کی طرف منتقل ہو گئی۔
ثم ان الله عزوجل لما انقضت الاربعون سنة بعث يوشع بن نون فاخبرهم بانه نبی وان الله قد امره ان يقاتل الجبايں فبايعوه وصدقوه فهزم الجبارین واقتحموا علیہم فقتلوھم الخ۔
(طبری: جلد، 1 صفحہ، 436)
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو معبوث کیا انہوں نے قومِ موسیٰ کو بتایا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ نے ان کو جبارین کے ساتھ جنگ کا حکم دیا ہے تو سب امت نے آپ کی بیعت کی اور تصدیق کی تو حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے جبارین کو شکست دی انہوں نے کفار پر خوب حملہ کیا اوران کو تہ تیغ کیا
بر حال حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے جانشین پیغمر تھے حضور خاتم النبینﷺ کا جانشین پیغبر یا پیغمبراز اوصاف کا حامل نہیں ہو سکتا رہے باقی اوصاف یعنی امت کا ان کی سے بیعت کرنا ان کے ماتحت ہو کر جہاد کرنا کفار جبابرہ کو شکست دنیا ان کو قتل کر کے ان کے ممالک پر قابض ہونا وغیرہا اللہ کے فضل و کرم سے نبی آخر الزمان کے جانشینان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ میں کما حقہ پائے گئے سب قوم نے بالاتفاق ان کی بیعت کی اور تصدیق کی اسے ہی اجماع سے تعبیر کیا جاتا ہے چونکہ اس بیعت و تصدیق سے ان کی خلافت اظہر من الشمس ہوگئی تو مجازا اجماع کی طرف نسبت کی جاتی ہے ورنہ حقیقہ خلیفہ بنانے والے صرف اللہ ہیں جیسے آیت استخلاف در سورہ نور میں اپنی طرف نسبت کی ہے لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ الخ۔ جب وہ ایسے حالات وسائل کا سلسلہ بنا دیتے ہیں جن سے خلافت ظاہر ہو جاتی ہے تو کبھی وسائل کی طرف نسبت کر دی جاتی ہے جیسے رازق، معطی، مذل ممیت، محی صرف اللہ تعالیٰ ہیں مگر اسباب کی طرف مجازاً نسبت عرف میں جائز و مشہور ہے تبھی تو رزق عطیہ حیوة کا سبب بننے والوں کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور ذلت و موت کا سبب بننے والوں کی مذمت کی جاتی ہے سب امتِ محمدیہ نے ان خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ماتحت ہو کر جہاد کیا جابر کفار کو شکست دی انہیں قتل کیا اور ان کے ممالک کو ختم کر کے دعوتِ محمدی کو خوب پھیلایا۔
الحاصل یہ قصہ اور شیعہ کی دلیل اہلِ سنت کی زبردست برہان اور مذہبِ شیعہ پر سیفِ براں ہے کہ ان کے خیال میں وصی پیر آخر الزمانﷺ ہرگز کامیاب نہیں ہوا امت نے ان کی بیعت و تصدیق نہ کی ان کے ماتحت ہو کر کبھی کفار سے جہاد نہ کیا نہ کافروں کا گز بھر رقبہ ہی فتح ہوا بلکہ علی العکس بقول شیعہ ان کے ہاتھوں پہ مغلوب ہوئے ان کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا گیا۔ (جلا العیون: صفحہ، 141)
ان کے حقوق تلف کیے گئے اور ان کی دعوت ہی تقیہ وخفاء کی نذر ہوگئی اور جابر ان پر غالب ہوئے یہی وجہ ہے کہ تاہنوز شیعہ کا ماتم وشیون ختم نہ ہوا۔ شیعہ بھائیوں کو اگر مزید اصرار ہے تو ہم تاریخ کے بطون سے یہ امر بھی واشگاف کر دیتے ہیں کہ اممِ سابقہ میں بھی غیر نبی اگر خلافت کے منصب سے سرفراز ہوتا تو باقاعدہ شوریٰ و اجماع سے ہوتا۔
علامہ ابنِ خلدون حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی وفات سے بادشاہ طالوت تک بنی اسرائیل کے سیاسی نشیب و فراز کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
و كان امرهم شورىٰ فيختارون للحكم فی عامتهم من شاء و ويدفعون للحرب من يقوم بها من اسباطهم ولهم الخيار مع ذلك على من يلى شيئا من امر هم و تارة يكون نبیايدبرهم بالوحی واقاموا على ذلك نحوا من ثلثمائة سنة لم یکن لهم ملك مستفحل والملوك تنا وشهم من كل جهة الى ان طلبوا من نبيهم شمويل ان يبعث عليهم ملكا فكان طالوت ومن بعدہ داؤد فاستفعل ملكهم يومئذ و قهروا اعداءهم۔
(تاریخ ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 168)
ترجمہ: ان کا سیاسی نظام شوریٰ و اجماع پر مبنی تھا وہ حکومت کے لیے عام لوگوں میں سے جسے چاہتے منتخب کرتے اور جنگ کے لیے اپنے اسباط و اولاد میں سے کمانڈر بناتے اور انہیں اپنے حاکموں پر معزولی کا اختیار بھی تھا کبھی ان کا حاکم پیغمیر ہوتا جو وحی کے ذریعے انتظامِ مملکت کرتا وہ اس طرز پر 300 سال تک رہے اس مدت میں ان کا مضبوط بادشاہ نہ ہو سکا گرد و نواح کے بادشاہ ان پر جھپٹتے رہے تھے تا آنکہ انہوں نے اپنے پیغمر شمویل سے بادشاہ مقررکرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت طالوت بنے پھر حضرت داؤد بادشاہ ہوئے اس وقت ان کی بادشاہی مضبوط ہو گئی اور یہ دشمنوں پر غالب ہو گئے۔
(تاریخ ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 168)
کیا یہ 300 سال کا نظام مبنی بر شوریٰ سب باطل سمجھا جائے گا؟ حالانکہ کبھی پیغمبر وقت بھی اس منصب پر آتے رہے اس تحقیق کے بعد اب ہم بھی شیعہ صاحبان سے پوچھتے ہیں۔
1: کیا سابق کسی پیغمبر کی مثال مل سکتی ہے کہ اس کی وفات کے ساتھ ہی اس کی سب محنت ضائع اور امت مرتد ہو گئی ہو۔
2: کیا کسی امت نے اپنے پیغمبر کے جانشین کا بھی انکار کیا اور اس پر غضب و ظلم کا الزام لگایا۔
3: کیا کسی سابق امت نے بھی اپنے پیغمبر کے سب اصحاب و تلامذہ کو بے دین اور برا بھلا کہا۔
4: کیا کسی سابق پیغمبر کا جانشین بھی اپنے مقاصد میں ناکام رہا اور مظلوم و مقہور رہا ہے اور اس کی دعوت وصائت تقیہ کے پر دوں میں گم ہوکر رہ گئی۔
5: کیا کسی پیغمبر کے رشتہ داروں اور اس میں بھی خلافت کے مسئلہ پر سر پھٹول ہوا یا تفرقہ بازی وجود میں آئی اگر ان سب امور کا جواب نفی میں ہے تو کس قدر حیرانی اور تعجب کی بات ہے کہ اممِ سابق تو اپنے نبی کی تعلیم کی لاج رکھیں سابقینِ امت کو مرتد و منافق کہ کر اسے ضائع کریں جانشین پیغمبر کا انکار نہ کریں اس پر غضب و ظلم کا الزام نہ لگائیں بلکہ ان کی بیعت و تصدیق کر کے ان کے ماتحت ہو کر جہاد کریں ممالک فتح کریں اپنے پیغمبر کی دعوت و تعلیم کو تقیہ کے غلاف میں چھپانے کے بجائے علی الاعلان تبلیغ کریں اپنے پیغمبروں کو کامیاب و مطاع کہیں ان کے کارناموں پر فخر کریں مگر یہ اپنے پیغمبر کی تعلیم کو ناکام بتائیں پیغمبر کے تمام اصحاب و تلامذہ کو منافق و مرتد کہیں واقعی خلفائے پیغمبر کی بیعت و تصدیق کے بجائے افتراق و بغاوت کی طرح ڈالیں یا بقول خود سچے جانشین کو اپنے مقاصد میں نا کام اور دعوت کو مستور و مکتوم کہیں انصاف سے آپ ہی بتلائیں کہ ان مسائل میں یہود و نصارٰی کی فکر بہتر تھی یا شیعہ حضرات کی؟
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔