کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی…

کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی بھی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ نبی کی وفات پر امت نے اپنے پیغمبر کا خلیفہ اجماع سے بنایا اگر ہو تو نام ارشاد فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: ان کا سیاسی نظام شوریٰ و اجماع پر مبنی تھا وہ حکومت کے لیے عام لوگوں میں سے جسے چاہتے منتخب کرتے اور جنگ کے لیے اپنے اسباط و اولاد میں سے کمانڈر بناتے اور انہیں اپنے حاکموں پر معزولی کا اختیار بھی تھا کبھی ان کا حاکم پیغمیر ہوتا جو وحی کے ذریعے انتظامِ مملکت کرتا وہ اس طرز پر 300 سال تک رہے اس مدت میں ان کا مضبوط بادشاہ نہ ہو سکا گرد و نواح کے بادشاہ ان پر جھپٹتے رہے تھے تا آنکہ انہوں نے اپنے پیغمر شمویل سے بادشاہ مقررکرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت طالوت بنے پھر حضرت داؤد بادشاہ ہوئے اس وقت ان کی بادشاہی مضبوط ہو گئی اور یہ دشمنوں پر غالب ہو گئے۔

(تاریخ ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 168)

کیا یہ 300 سال کا نظام مبنی بر شوریٰ سب باطل سمجھا جائے گا؟ حالانکہ کبھی پیغمبر وقت بھی اس منصب پر آتے رہے اس تحقیق کے بعد اب ہم بھی شیعہ صاحبان سے پوچھتے ہیں۔ 

1: کیا سابق کسی پیغمبر کی مثال مل سکتی ہے کہ اس کی وفات کے ساتھ ہی اس کی سب محنت ضائع اور امت مرتد ہو گئی ہو۔

2: کیا کسی امت نے اپنے پیغمبر کے جانشین کا بھی انکار کیا اور اس پر غضب و ظلم کا الزام لگایا۔

3: کیا کسی سابق امت نے بھی اپنے پیغمبر کے سب اصحاب و تلامذہ کو بے دین اور برا بھلا کہا۔

4: کیا کسی سابق پیغمبر کا جانشین بھی اپنے مقاصد میں ناکام رہا اور مظلوم و مقہور رہا ہے اور اس کی دعوت وصائت تقیہ کے پر دوں میں گم ہوکر رہ گئی۔

5: کیا کسی پیغمبر کے رشتہ داروں اور اس میں بھی خلافت کے مسئلہ پر سر پھٹول ہوا یا تفرقہ بازی وجود میں آئی اگر ان سب امور کا جواب نفی میں ہے تو کس قدر حیرانی اور تعجب کی بات ہے کہ اممِ سابق تو اپنے نبی کی تعلیم کی لاج رکھیں سابقینِ امت کو مرتد و منافق کہ کر اسے ضائع کریں جانشین پیغمبر کا انکار نہ کریں اس پر غضب و ظلم کا الزام نہ لگائیں بلکہ ان کی بیعت و تصدیق کر کے ان کے ماتحت ہو کر جہاد کریں ممالک فتح کریں اپنے پیغمبر کی دعوت و تعلیم کو تقیہ کے غلاف میں چھپانے کے بجائے علی الاعلان تبلیغ کریں اپنے پیغمبروں کو کامیاب و مطاع کہیں ان کے کارناموں پر فخر کریں مگر یہ اپنے پیغمبر کی تعلیم کو ناکام بتائیں پیغمبر کے تمام اصحاب و تلامذہ کو منافق و مرتد کہیں واقعی خلفائے پیغمبر کی بیعت و تصدیق کے بجائے افتراق و بغاوت کی طرح ڈالیں یا بقول خود سچے جانشین کو اپنے مقاصد میں نا کام اور دعوت کو مستور و مکتوم کہیں انصاف سے آپ ہی بتلائیں کہ ان مسائل میں یہود و نصارٰی کی فکر بہتر تھی یا شیعہ حضرات کی؟

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔


صفحہ 2 از 2