کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 11

سوال: عام ملاں شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ علی ولی اللہ قرآن سے ثابت کریں۔ ارشاد فرمائیں کہ الصلاة خير من النوم، تراويح، التحیات، سبحانك اللھم، درودِ لکھی، درودِ تاج، نماز میں ہاتھ باندھنا، الٹا وضو، قوالی، قبروں پر حال کھیلنا، طبلے کی سرتال پر سر مارنا، گیارہویں شریف، عرس شریف، بہشتی دروازوں سے گزرنا وغیرہ کس پارے اور رکوع سے ثابت ہے۔ علی ولی اللہ کو آیتِ ولایت اور آیت اولی الامر میں قدرت نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔ اور حدیثِ مصطفیٰ اس کی تصدیق کرتی ہے۔

عن جابر قال قال رسول اللهﷺ مكتوب على باب الجنة لا اله الا الله محمد رسول اللهﷺ علی ولی الله اخر رسول اللهﷺ قبل ان يخلق الله السموات والأرض بالفی عام۔ 

(مودة القربیٰ رياض النضرة ينابيع المودة: صفحہ، 25 تذكرة الخواص: صفحہ، 28) 

اگر اس پر بھی نہ سمجھو تو پھر تم سے خدا سمجھے۔ 

جواب: اسلام میں کلمہ طبیہ کی جو اہمیت ہے وہ کسی عقلمند سے مخفی نہیں ہے کلمہ شہادت ہی وہ دروازہ ہے جس سے گزر کر ایک کافر مسلمان ہوتا ہے مستحقِ دوزخ مستحقِ بہشت بنتا ہے دشمنِ خدا ولی خدا بن جاتا ہے بےگانہ اپنا ہو جاتا ہے مباح الدم محفوظ الدم ہو جاتا ہے بلکہ پوری زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے فکر کا رخ اور احکام کی لائن ہی بدل جاتی ہے کلمہ پڑھنے سے وہ کفار کی برادری سے نکل کر مسلمان برادری کا فرد بن جاتا ہے سابقہ بیوی اس سے جدا بشرطِ انکار از کلمہ ہو جائے گی اور عزت مآب مسلمان خاتون کا اس سے نکاح درست ہو جائے گا اس کی نابالغ اولاد بھی مسلمان سمجھی جائے گی اس کی جان مال عزت وغیرہ ہر چیز کا محافظ کلمہ ہوگا مرنے پر اس کا جنازہ پڑھا جائے گا اور تاقیامت اس پر مؤمنین اور ملائکہ رحمت کی دعائیں بھیجتے رہیں گے

چونکہ کلمہ انتہائی انقلابی پیغام ہے اس لیے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصدِ وحید اور مشنِ اصلی اسی کی تبلیغ تھی باقی سارا دین اسی کے ضمن میں آ جاتا تھا کفار نے سب سے زیادہ ایذائیں انبیاء کرام علیہم السلام و مؤمنینِ صادقین کو اسی کلمہ کی بناء پر پہنچائیں اور تمام مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا اس کلمہ کی بدولت مسلمانوں نے کفار سے جہاد کر کے انہیں تہ تیغ کیا خود عہدِ نبوی کے ابتدائی مکی دور میں صرف کلمہ طیبہ ہی کی تبلیغ و تلقین جاری رہی بجز اس کے کہ کلمہ کے ماننے اور انکار کرنے والوں کو "عقیدہِ آخرت" سنا کر انجام سے باخبر کیا جاتا تھا دس سال کے بعد لیلۃ معراج میں صرف نمازِ پنجگانہ کی فرضیت ہوئی پھر جہاد، زکوٰة، روزہ، حج، قربانی وغیرہ اسلام کے شعار تو مدینہ طیبہ ہی میں اترے۔

جیسے عقیدہ توحید میں کمی بیشی مسلم و کافر کی تفریق پیدا کرتی ہے عقیدہ رسالت میں حک و اضافہ کفر و اسلام کی جنگ برپا کر دیتا ہے ٹھیک اسی طرح کلمہ طیبہ میں ترمیم و اضافہ اور نقض کمال سے جو دو فرقے پیدا ہوں گے ان میں سے ایک مسلمان ہو گا ایک کافر ہوگا کیونکہ جب توحید و رسالت کی طرح کسی کا وحدتِ کلمہ پر ایمان و اتفاق نہیں وہ مسلم برادری کا فرد کیسے بنے کلمہ طیبہ میں اختلاف کو ماننا یا ایسے جملہ کا اضافہ کرنا جو قرآن و سنت اور سبیلِ مؤمنین سے ہرگز ثابت نہ ہو اپنے کفر کا کھلا اعتراف کرنا ہے یا پھر 95٪ سب دنیا کے 90 کروڑ مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا ہے اس قدر اہم کفر و اسلام کے مابہ الامتیاز اور تعلیماتِ نبویہ کی روح کلمہ طبیہ کو ان مذکورہ فی السوال باتوں سے مشابہت کیسے دی جا سکتی ہے یا موازنہ درست ہے جو فی نفسها سنت یا مستحب ہیں اور ان کے ترک یا اظہار پر کفر و اسلام کے احکام متفرع نہیں ہوتے۔ 

؏ فرقِ مراتب گر نکنی زندیقی۔

کفر و اسلام میں فارق کلمہ طیبہ ہو اور قرآن اس کا ذکر نہ کرے یا سنتِ نبوی‎ اسے نہ بتائے یا اس میں اختلاف کی گنجائش ہو؟ یہ ناممکنات میں سے ہے مدارِ کفر و اسلام کلمہ طیبہ وہی ہے جس کا قرآنِ پاک نے بار بار اعلان کیا خاتم النبین‎ نے عمر بھر اس کی تبلیغ کی اور ہزارہوں کفار کو براہِ راست پڑھا کر حلقہ اسلام میں داخل کیا اور سب مسلمان تاہنوز اس پر اسی طرح متفق اور ایمان رکھتے ہیں جیسے توحید رسالت قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اب آئیئے اور معلوم کیجیئے کہ خدا و رسولﷺ‎ اور تمام مسلمانوں کا مصدقہ کلمہ کون سا ہے جس سے فرقہ شیعہ کو اختلاف ہے اور اسے ناقص مانتے ہیں۔ 

کلمہ اہل سنت ہی قرآن نے سکھایا:

متفقہ کلمہ اسلام "لا اله الا الله محمد رسول الله" ہی قرآن نے سکھایا ہے اس کے دو جز ہیں توحید کا اقرار جسے لا الہ الا اللہ سے تعبیر کرتے ہیں اور رسالتِ محمدیہﷺ‎ کا اقرار جسے محمد رسول اللہ سے تعبیر کرتے ہیں متعدد الفاظ و تعبیرات میں قرآن پاک نے سینکڑوں آیات میں اس کلمہ کو بیان فرمایا ہے مثلاً توحید کے سلسلہ کی آیات کا نمونہ مع ترجمہ مقبول یہ ہے:

1: وَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ ۞

(سورة البقرہ: آیت 163)

ترجمہ: اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں جو سب پر مہربان بہت مہربان ہے۔

اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ الخ۔

(سورة النساء: آیت 171)

ترجمہ: اللہ تو ایک ہی معبود ہے

3: لَا تَـتَّخِذُوۡۤا اِلٰهَيۡنِ اثۡنَيۡنِ‌ اِنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ۞

(سورة النحل: آیت 51)

ترجمہ: دو دو معبود نہ بنا بیٹھنا وہ تو بس ایک ہی معبود ہے۔

4: وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ‌ الخ۔

(سورة آلِ عمران: 62)

ترجمہ: اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ 

5: تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَـعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡــئًا۞

(سورة آلِ عمران: 63)

ترجمہ: ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔

6: قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ‌ ۞

(سورة ص آیت 65)

صفحہ 1 از 11