کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 11

رہے درود لکھی اور تاج تو واضح رہے کہ یہ ماثورہ از پیغمبر و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہیں ہیں بلکہ بعد کے بزرگوں نے عشقِ نبویﷺ سے سرشار ہو کر عربی میں جو آپﷺ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور رحمت کی دعا کی ہے ان کا نام درود پڑگیا محققینِ اہلِ سنت کے نزدیک درودِ تاج کے بعض الفاظ موھم شرک ہیں ان سے احتراز بہتر ہے ان کی اسناد اور فضائل بھی کچھ معتبر نہیں ہیں تاہم عشقِ بنویﷺ سے ان کو پڑھا جائے اور کوئی لفظ خلافِ شرع نہ ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسے حضورﷺ کی مدح و توصیف میں نعت پڑھی جائے جو ہر زبان میں جائز ہوتی ہے اگر حضرت علیؓ و حضرت حسینؓ کی مدح میں قصائد جائز ہیں تو آپﷺ کی مدح میں آپﷺ کے لیے دعاءِ ترحم کے اضافہ کے ساتھ ایسے کلمات بدرجہ اولیٰ جائزہ ہیں اگر شیعہ میں محبتِ نبویﷺ کا جذبہ ہوتا تو ایسا اعتراض نہ کرتے۔

نماز میں ہاتھ باندھنا قرآن سے ثابت ہے:

سورۃ الکوثر میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ ۞

(سورة الکوثر: آیت 2) 

ترجمہ: پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور نحر کریں۔ نحر کے معنیٰ جس طرح قربانی کرنے کے لغت میں آئے ہیں اور مفسرین اس سے تفسیر کرتے ہیں اسی طرح لغت میں "دستِ راست رابر چپ گزار دان" (قاموس) بھی آیا ہے نماز کے ساتھ ذکر اس پر قرینہ ہے۔ 

نیز وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ ۞ 

(سورۃ البقرہ: آیت 238) اللہ کے آگے عاجز ہو کر کھڑے ہو۔

هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ ۞

(سورۃ المؤمنون آیت 2)

ترجمہ: وہ مؤمن کامیاب ہیں جو نماز میں عاجزی کرتے ہیں سے قنوت اور خشوع پیدا کرنے کا حکم واضح ہے قنوت و خشوع ظاہر و باطن میں لازمی ہے ظاہری خشوع نماز میں آداب سے ہاتھ اندھنے سے ہوگا کوئی عقلمند اس کا انکار نہیں کرتا عرفِ عام میں اب اور عاجزی کو دستِ بستہ سے تعبیر کرتے ہیں مثلاً محاورہ ہے "میرے والدین کی خدمت میں دستِ بستہ سلام و آداب عرض کریں" علاوہ ازیں قنوت سکون کے ساتھ لازم ہے وضع یدین کی حالت عین سکون یا اس سے قریب تر ہے اور ارسال یدین سکون سے بعید ہے فطری بات ہے کہ بندش سے سے سکون ہوگا اور ارسال و کھلے رکھنے سے حرکت ہوگی بالفعل حرکت بھی کی جائے مگر کیفیت قریب الحرکت ہے جو منافی سکون ہے فتدبر۔

 شیعہ مذہب میں عوتوں کو تو ہاتھ باندھنے کاحکم ہے حالانکہ مردوں کی نسبت وہ زیادہ ساکن و خاشع ہوتی ہیں تو مردوں کو بدرجہ اولیٰ ہاتھ باندھنے چاہئیں تا کہ اس کیفیت سے وہ سکون کا کامل درجہ حاصل کریں جو مادہ ان کی متحرک اور فعال زندگی کی ضد ہو اور وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ ۞ کا آئینہ دار ہو۔ 

تحفتہ العوام: صفحہ، 30 میں ہے کہ اگر زن باشد دست برسینہ بگزارد اگر عورت نماز پڑھے تو ہاتھ سینے پر رکھے فروع کافی: جلد، 1 صفحہ، 198 پر بھی عورتوں کو سینہ پر ہاتھ باندھنے کا حکم ہے۔

من لا يحضره الفقیہ: صفحہ، 77 باب آداب المرأة فی الصلوٰۃ میں ہے:

فاذا قامت المرأة فی صلاتھا جمعت بين قدميها ولم تفرج بينها و وضعت يدها على صدرها مکان ثدییھا۔

ترجمہ: جب عورت نماز پڑھنے لگے تو پاؤں اکٹھے رکھے کشادہ نہ کرے اور ہاتھ سینے پر پستانوں کی جگہ رکھے۔   

اگر عورت کے لیے سینہ پر ہاتھ باندھنا ادب ہے تو مرد کے لیے ناف پر باندھنا کیوں ادب نہیں۔ (الفرق بينهما)

اہلِ سنت و الجماعت کی وضع یدین پر اپنی دلیل یہ ہے۔ 

1: عن قبيصة بن وهب عن ابيه قال كان رسول اللهﷺ يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه۔

(رواه الترمذی و ابنِ ماجه مشكوة صفحہ76)

ترجمہ: قبیصہ بن وہب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں امامت کراتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں سے پکڑتے۔

2: مؤطا امام مالکؒ پر باب وضع الیدین علی الاخریٰ فی الصلوٰۃ موجود ہے جس کی ایک روایت یہ ہے: من السنة وضع اليدين احدهما على الأخرى فى الصلوٰة وتعجيل الفطر والاستيناء بالسحور۔

ترجمہ: نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھنا سنت ہے افطار میں جلدی اور سحری کھانے میں تاخیر بھی سنت ہے۔ 

ان روایات کے راوی خود امام مالکؒ ہیں معلوم ہوا کہ آپ کا عمل بھی یہی تھا آپ کی طرف جو متاخرین فقہاء مالکیہ نے ارسالِ یدین کی نسبت کی ہے وہ مرجوع ہے۔ 

ترتیب وضو بھی قرآن سے ثابت ہے:

افسوس کہ یہ حضرات اہلِ سنت سے بعض کی وجہ سے قرآن پاک میں مذکور ترتیب کو بھی الٹا وضو سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ وہ خود قرآنی مخالفت کرتے ہیں 

 برعکس زنگی نام نہند کافور آیت وضو مندرجہ ذیل ہے۔ 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ الخ

(سورۃ المائدہ آیت 6)

ترجمہ: اے مومنو! جب نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو پھر ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور سر کامسح کرو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھوؤ۔

اس ترتیبِ قرآنی میں منہ دھونا بازو دھونا سر کا مسح کرنا اور پاؤں دھونا ہے اہلِ سنت اسی مذہب پر ہیں اور یہ ترتیب سنت بھی ہے امام احمدؒ کے نزدیک فرض ہے مگر شیعہ نے تو مخالفتِ قرآن کی حد کر دی کہ پہلے پاؤں دھوتے ہیں اور پھر اس پر مسح بھی کر جاتے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ دھونے میں کیا نقص رہ گیا تھا کہ پھر مسح سے اس کی تکمیل کی بازو بھی الٹے دھوتے ہیں کہ کہنیوں سے شروع کرتے اور انگلیوں سے پانی بہاتے ہیں حالانکہ اگر قرآن کا منشاء یہ ہوتا تو ایدیکم من المرافق کہا جاتا کہ کہنیوں سے ہاتھوں تک دھوؤ مگر قرآن پاک نے اَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ کہا کہ ہاتھوں سے شروع کر کے کہنیوں تک دہوؤ۔

صفحہ 10 از 11