کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 11

اعتقاداً شیعہ پاؤں دھونے کے قائل ہی نہیں مسح واجب کہتے ہیں حالانکہ قرأتِ ستہ میں تو اَرۡجُلَكُمۡ بفتح لام پڑھا جاتا ہے کیونکہ فَاغۡسِلُوۡا پر معطوف ہے اور ایک قرأت میں کسرہ جر جوار کے طور پر ہے عقلاً بھی پاؤں کا دھونا واجب ہے کیونکہ سب سے زیادہ یہی عضو گرد و غبار سے بلکہ گندگی سے ملوث ہوتا رہتا ہے جس کا ازالہ دھوئے بغیر نہیں ہو سکتا برخلاف سر کے کہ بالاتفاق اس پر مسح وَامۡسَحُوۡا کے تحت فرض ہے کیونکہ سب سے کم تر وہ گرد و غبار سے متاثر ہوتا ہے بالوں کی وجہ سے عادةً پانچ دفعہ دھونا اور خشک کرنا دشوار تھا شریعت نے آسانی کی بناء پر دھونے کے قائم مقام مسح رکھ دیا

اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞

(سورۃ الانعام: آیت 83) 

سنی بدعات کی وجہ:

رہیں نام نہاد سنیوں کی بدعات قوالی قبروں پر حال کھیلنا طبلے کی سرتال پر سر مارنا گیارہویں شریف عرس شریف بہشتی دروازوں سے گزرنا وغیرہ توان کا حکم علمائے اہلِ سنت کے نزدیک وہی ہے جو شیعہ کی بدعات عزاداری ماتم سینہ کوبی زنجیر زنی دوہڑے خوانی سوز خوانی ضریح تعزیہ تکیہ پرستی ماتمی جلوس ماتمی مجالس سیاہ پوشی وغیرہ کا ہے۔ 

کوئی سنی مستند عالم خواه بریلوی ہو یا دیوبندی ہو یا اہلِ حدیث ان بدعات کو سنت یا کارِ ثواب نہیں جتلا سکتا یہ صرف عوام یا نیم ملاں خطرۀ ایمان کے افعال ہیں جو مذہبِ اہلِ سنت سے ہرگز نہیں دراصل یہ اس بات کا ردِ عمل ہے کہ سنیوں کا یہ جہلاء طبقہ شیعہ کے ماتمی جلوسوں اور رسومات میں شرکت کرتا ہے تو بدعت کے اثرات اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔

 صحبتِ صالح ترا صالح کند صحبتِ طالح تر اطالح کند۔

ورنہ تجربہ شاہد ہے کہ عوام اہلِ سنت اہلِ تشیع کے ماحول اور پروپیگینڈے سے دور رہتے ہیں وہ بہت کم ان بدعات کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو ان بدعات سے پاکدامن ہیں وہ شیعہ کی رسوم و بدعات سے بھی دامن کشاں رہتے ہیں میرے سادہ سنی بھائی اگر اس نکتہ پر غور کر لیں اپنے مذہب و اعمال پر پختہ ہو جائیں شیعہ کو غیر سمجھ کر ان کی کسی محفل و رسم میں شرکت نہ کریں تو وہ نہ صرف شیعہ کا تر لقمہ بننے سے بچ جائیں گے بلکہ رفض و تشیع کا زور ٹوٹ جائے گا اور ان کا وہ عددی گھمنڈ خاکستر ہو جائے گا جس کی وجہ سے وہ نصابِ تعلیم الگ کر کے تمام احکام و شعائرِ اسلامیہ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔ 

وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلواة والسلام على رسوله محمد واله واصحابه و ازواجه اجمعين۔

 10 مئی 1974ء بروز پیر۔

كاتب: محمد یونس حنیف بمقام و ڈاکخانہ خاص کالی صوبہ خاں ضلع گوجرانوالہ

حق چار یار رضی اللہ تعالیٰ اجمعین۔


صفحہ 11 از 11