کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 11

ترجمہ: اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تو ایک خبردار کرنے والا ہوں اور اس اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو ایک ہے جو سب پر غالب ہے۔ 

7: لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ۞

(سورة فاطر: آیت 35)

ترجمہ: اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو۔

8: اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِىۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ الخ

(سورة یونس: آیت 90)

ترجمہ: جس خدا پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں

9: لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ‌ الخ۔

(سورة الأعراف: آیت 158)

ترجمہ: اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ 

10: هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ الخ۔

(سورة حشر: آیت 23)

ترجمہ: وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 

11: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَكَ ‌الخ۔

(سورة الانبیاء: آیت 87)

ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے۔

12: اِنَّنِىۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِىۡ الخ۔

(سورة طٰہٰ: آیت 14)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لیے میری عبادت کرو۔ 

13: اِنَّهُمۡ كَانُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ ۞

(سورة الصافات: آیت 35)

ترجمہ: ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ اکڑ دکھاتے تھے۔

14: اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 255)

ترجمہ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سدا زندہ ہے جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے۔ 

15: فَاعۡلَمۡ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔

(سورة محمد: آیت 19)

ترجمہ: لہٰذا اے پیغمبر یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

رسالتِ محمدیہ پر نمونہ ملاحظہ ہو:

1: وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

(سورة البقرہ: آیت 252)

ترجمہ: آپ بیشک ان پیغمبروں میں سے ہیں جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ 

2: وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۞ (سورة یٰسین آیت 2)

اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞(سورة یٰسین آیت 3)

ترجمہ: حکمت بھرے قرآن کی قسم تم یقیناً پیغمبروں میں سے ہو۔ 

3: يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَا الخ۔

(سورة الأعراف: آیت 158)

ترجمہ: اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔

4: وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ ۞

(سورة المنافقون: آیت 1)

ترجمہ: آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ واقعی اس کے رسول ہیں۔

5: ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ الخ۔

(سورة آلِ عمران: آیت 81)

ترجمہ: پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس کتاب کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ 

کہا جاتا ہے کہ اسمِ محمد کی صراحت کے ساتھ یکجا تذکرہ دکھانا چاہیئے تو وضاحت یہ ہے کہ پارہ 26 میں محمدﷺ‎ نام کی مستقل سورت موجود ہے اس کی دوسری آیت میں رسالتِ محمدیہ کو یوں ذکر فرمایا ہے:

وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّهُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌۞

(سورۃ محمد: آیت 2)

ترجمہ: اور ہر اس بات کو دل سے مانا ہے جو محمدﷺ پر نازل کی گئی ہے اور وہی حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ 

اور دوسرے رکوع میں توحید کا اعلان یوں کیا ہے:

فَاعۡلَمۡ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔

(سورۃ محمد: آیت 19)

ترجمہ: لہٰذا اے پیغمبر یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

اور اس سے متصل سورۃ الفتح میں کلمہ رسالت یوں سکھلایا گیا ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ الخ

(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: محمدﷺ‎ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ 

 اپنے اپنے موضوع میں یکجا ذکر اظہر من الشمس ہے

بلکہ کئی آیات میں یکجا ذکر فرمایا ہے مثلاً:

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ۞

(سورۃ الانبیآء: آیت 25)

 ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے ایک رسول بھی ایسا نہ بھیجا کہ اس کی طرف ہم یہ وحی نہ کرتے رہے ہوں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پس تم میری ہی عبادت کیا کرو۔

قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَاْ الَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الخ۔

(سورۃ الاعراف: سورۃ 158)

ترجمہ: اے رسول ان سے کہو کہ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ 

العرض سینکڑوں آیات صرف کلمہ توحید و کلمہ رسالت کی ہی تعلیم دیتی ہیں ایک آیت بھی قرآنِ پاک میں ایسی نہیں بتلائی جاسکتی جس میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد کی امامت کا ذکر ہو یا لفظِ علی کو مبتداء بنا کر ولی اللہ اس کی خبر بنائی گئی ہو یا وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلافصل کے خود ساختہ الفاظ کا اشارہ بھی ملتا ہو جو شیعہ کا مخصوص کلمہ ہے اور اسی کے اقرار پر ایمان و کفر کی ان کے دارالافتاء سے سند ملتی ہے۔

اگر شیعہ عقیدہ امامت اصولِ دین میں سے ہوتا تو توحید و رسالت کے برابر سینکڑوں آیاتِ کریمہ میں اس کا ذکر ملتا فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ الخ

صفحہ 2 از 11