کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 11

(سورۃ آلِ عمران: آیت 179) کے ساتھ ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد کے اسمائے گرامی بھی ملتے چلیے ایک ہی آیت میں علی ولی اللہ کی صراحت ہی مل جاتی اگر امامت اصولِ دین سے ہوتی تو ہر پیغمبر اس کے ساتھ مبعوث ہوتا ان کے کلموں کے ساتھ امام کا کلمہ بھی ہوتا مگر تاریخ کا ایک ایک ورق اس کے خلاف کہتا ہے مثلاً پہلے انبیاء علیہم السلام کے کلمے صرف اسی قدر تھے۔

 لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ، لا الہ الا الله نوح نجی اللہ، لا الہ الا اللہ ابراہیم خلیل الله، لا له الا الله اسماعیل ذبیح الله، لا اله لا الله موسیٰ کلیم اللہ، لا الہ الا اله عیسیٰ روح الله۔

گویا لا الہ الا اللہ سب انبیاء کرام علیہم السلام کا متفقہ کلمہ تھا جزوِ ثانی میں رسالت کے بجائے دوسرے اوصاف کا ذکر فرمایا اور آخری پیغمبر کا کلمہ لا له الا اللہ محمد رسول اللہ فرما کر قصرِ رسالت کی تکمیل اور متوازی عقیدہ امامت کی بینح کنی کر دی اگر امامت اصولِ دین میں سے ہوتی یا جزوِ کلمہ بننے کی صلاحیت رکھتی تو کبھی اس کے اخفاء اور تقیہ و کتمان کا حکم نہ ملتا حضرت جبریل علیہ السلام کے سوا سب فرشتے حضورﷺ کے سوا سب انبیاء کرام علیہم السلام سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سوا سب اہلِ بیتؓ اس رازِ سربستہ سے بیخبر نہ رکھے جاتے اور ظاہر کرنے والوں کو اصحابِ غدر و مکر بے وقوف بلکہ بے دین ذلیل اور نورِ آخرت سے محروم نہ کہا جاتا جیسے کہ اصولِ کافی باب الکتمان: صفحہ، 221 سے ان سب امور کی صراحت سابقاً ذکر ہو چکی ہے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی طرح بچہ بچہ کی زبان سے اس کا اعلان کرایا جاتا۔

 شیعی شبہات کا ازالہ:

 شیعہ معترض کا یہ جملہ کہ علی ولی اللہ کو آیتِ ولایت اور آیتِ اُولِى الۡاَمۡرِ میں قدرت نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے صریح جھوٹ ہے آیتِ ولایت مع شیعی ترجمہ یہ ہے:

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 55)

وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ۞(سورۃ المائدہ: آیت 56)

ترجمہ: مسلمانو تمہارے یار و مددگار تو اللہ اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ دل سے اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے اور اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔

 اگرچہ مولوی مقبول مترجم نے ترجمہ میں دو غلطیاں کی ہیں ایک یہ کہ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ کا ترجمہ اور حالتِ رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں کیا حالانکہ رکوع و زکوٰۃ دو مختلف حکم ہیں ایک میں انہماک دوسرے کی طرف توجہ سے مانع ہے نماز و رکوع میں توجہ صرف الی اللہ چاہیئے سائل کے سوال کی طرف توجہ خشوع کے منافی اور ادائیگی عملِ کثیر کی بنا پر مفسدِ نماز ہے۔ یہاں وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ کا جملہ مندرجہ ذیل آیات کی طرح ہے:

1: يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ارۡكَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمۡ الخ۔

(سورة الحج: آیت 77)

ترجمہ: اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو۔

2: يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِىۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِىۡ وَارۡكَعِىۡ مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ ۞

(سورة آلِ عمران: آیت 34)

ترجمہ: اے مریم! تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو۔ 

3: وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ ۞

(سورة البقرہ: آیت 43)

ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

دوم یہ کہ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا کا ترجمہ ہی ہضم کر گئے جس سے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مراد لیتے ہیں تاہم الفاظِ قرآنی اور ترجمہ میں شیعہ کا کلمہ علی ولی اللہ الخ کا اشارہ بھی نہیں ہے۔

شیعہ بڑی چالاکی سے اس آیت کا شانِ نزول حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں مانتے ہیں اور حالتِ رکوع میں انگوٹھی زکوٰۃ میں دینے کا قصہ بیان کرتے ہیں مگر یہ بوجوہ باطل ہے۔

اولاً: یہ قصہ ضعیف قسم کی تفسیروں میں ثعلبی کی روایت سے بتایا جاتا ہے ثعلبی اور اس کا شاگرد واقدی اور اسی طرح فقیہ ابوالمغازلی حاطبِ لیل اور کمزور ہیں ان کی مؤلفات موضوعات و اکاذیب کا پلندہ ہیں (المنتقیٰ: صفحہ 612) ان کے علاوہ کسی سندِ صحیح سے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں شانِ نزول مذکور نہیں بلکہ سیاق و سباق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں شاہد ہے یا عام مؤمنین مراد ہیں جن میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی داخل ہیں جیسے عبد الملک نے سیدنا باقرؒ سے اس کی تفسیر میں پوچھا تو فرمایا اس سے سب مؤمن مراد ہیں اس نے کہا بعض لوگ حضرت علی المرتضیٰؓ مراد لیتے ہیں یہ سن کر سیدنا باقرؒ نے فرمایا اہلِ ایمان میں سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی شامل ہیں ضحاک سے بھی یہی مروی ہے علی بن طلحہٰ حضرت ابنِ عباسؓ سے ناقل ہیں کہ سب مؤمن و مسلم اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں۔

(المنتقیٰ: صفحہ 612) 

ثانياً: وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا وغیرہ جمع کے صیغوں سے حضرت علیؓ کو مراد لینا بداہتہً غلط ہے ورنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وغیرہ مؤمنین کاملین اس سے خارج ہوں گے اور ان سے دوستی شرعاً روا و مفید نہ ہوگی کیونکہ انما کا کلمہ حصر تخصیص چاہتا ہے۔ 

ثالثاً: عہدِ نبوی میں باتفاق مؤرخین سیدنا علی المرتضیٰؓ صاحبِ نصاب نہ تھے نہ آپ پر زکوٰۃ فرض تھی پھر وہ علی الخصوص يؤتون الزکوٰۃ کا مصداق کیسے بنے؟

 رابعاً: اگر صرف سیدنا علیؓ مراد ہوں اور ولایت و محبت صرف ان سے واجب ہو تو فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ۞

صفحہ 3 از 11