کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 11

بلاشہ اللہ کی جماعت غالب ہونے والی ہے کی پیشینگوئی باطل ہو گی کیونکہ تاہنوز ولایتِ حضرت علیؓ کے مدعی شیعہ حضرات غالب نہیں ہوئے بلکہ ان کے اعتراف کے مطابق قرونِ ماضیہ میں ان پر وہ عذاباتِ خداوندی ٹوٹے جن کا اثر آج تک محو نہیں ہوا۔

تو معلوم ہوا کہ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا سے مراد تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں جن کی کامیابی غلبہ اور نجات کی اس آیت میں پیشینگوئی دی ہے اور انہیں حزب اللہ فرمایا ہے:

اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞

(سورۃ المجادلہ: آیت 22)

ترجمہ: یہی لوگ اللہ کا لشکر میں سنو اللہ کا لشکر ہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے والا ہے۔

جو بالاتفاق عہدِ مرتضوی تک تمام دنیا پر غالب و حکمران بنے اور ان کے پیروکار آج تک غالب ہیں اور شیعہ کا دعویٰ ہے کہ شہادتِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تک سب امت نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حضرت عثمانِ غنیؓ کی شہادت کے بعد تو امت کا شیرازہ بکھر گیا ایک گروہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا معاون تھا دوسرا مخالف تیسرا غیر جانبدار تھا شیعہ کا یہ بھی اتفاق ہے کہ حضرت علیؓ المرتضیٰؓ کا معاون گروه شیعہ مغلوب و مقہور رہا اور مخالف و غیر جانبدار گروہ غالب رہے اگر آیتِ ہٰذا سے شیعہ کا استدلال اور تفسیر درست ہوتی تو ایسا ہرگز نہ ہوتا العرض اس آیتِ کریمہ کو کلمہ طیبہ سے کوئی تعلق نہیں اگر کوئی سینہ زوری سے کشید کرے تو یوں بنے گا لاولی لکم الا للہ ورسولہ و المومنون ظاہر ہے کہ یہ نہ شیعہ کا کلمہ ہے نہ اس سے کلمہ کی غرض و غایت شہادتین کا اعتراف حاصل ہوتا ہے۔

اسی طرح مندرجہ ذیل آیت اُولِى الۡاَمۡرِ سے بھی کلمہ ثابت نہیں ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 59)

 ترجمہ: اے ایمان والو فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو اس کے رسول کی اور اپنے میں سے صاحبانِ اختیار کی اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔

اس آیتِ کریمہ کی تشریح و تفسیر پہلے گزر چکی ہے آخر اس میں علی ولی اللہ وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلا فصل کا کون سا جملہ ہے یا کون سا لفظ اس پر دال ہے کیا یہ صراحتاً افتراء علی اللہ نہیں ہے جو صرف کفار کا شیوہ تھا جیسے ارشاد ہے: فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 144)

ترجمہ: اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر بھی جھوٹ بولے۔ اگر اپنی موضوع روایات کے پیشِ نظر اُولِى الۡاَمۡرِ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو شامل مانا جائے تو قطعِ نظر اس سے کہ وہ روایات اور ایسا استدلال ہرگز اہلِ سنت کے لائقِ توجہ نہیں یہاں سے کلمہ یہ بنے گا لا طاعة الالله ولرسولہ ولاولی الامر منکم ظاہر ہے کہ اسے کلمہ طیبہ اور اس کے مفہوم سے ذرا تعلق نہیں نیز اولی اُولِى الۡاَمۡرِ کی اطاعت مشروط ہے ان سے اختلاف ممکن ہے تنازع کی صورت میں ان سے اعراض کر کے خدا و رسول کی طرف ٹوٹنا اور فریقین کی بات کو قرآن و سنت پر پرکھنا واجب ہے حالانکہ صاحبِ کلمہ وہ ہستی ہوتی ہے جس کی بات مطلقاً حجت ہو اور اس سے اعراض و انکار کی ذرا گنجائش نہ ہو اور یہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا خاصہ ہے لہٰذا انہی کے نام پر یہ کلمہ چلے گا۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول الله۔

کلمہ طیبہ پر کتب شیعہ سے 51 شہادتیں:

 کلمہ اہل سنت ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلایا:

قرآن کے بعد اب سنتِ نبویﷺ کو دیکھو رسول اللہﷺ نے شہادتین پرمشتمل یہی کلمہ سب دنیا کو پڑھایا سکھایا تھا۔

1: حضرت ابوذر غفاریؓ کو اسلام لاتے وقت حضورﷺ و حضرت علیؓ نے یہ پڑھایا: تشهد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله فقلت اشهد ان لا اله الا الله وان محمدارسول الله۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 298)

تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

 2: اللہ نے پھر وحی کی کہ اے محمدﷺ لوگوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کا اقرار کریں۔ 

(حیات القلوب: جلد، 1 صفحہ، 3) 

3: جب اللہ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی اجازت دی تو حضورﷺ سے یوں اعلان کروایا: بنى الإسلام على خمس شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا عبده و رسوله واقام الصلوٰة وايتاء الزكوٰة و حج البيت و صيام شهر رمضان۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 46)

ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے:

1: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

2: نماز قائم کرنا

3: زکوٰۃ دینا

4: حج بیت اللہ کرنا

5: رمضان کے روزے رکھنا۔

یہاں نہ شیعی امامت کا ذکر ہے نہ خمس وغیرہ شیعہ سے مخصوص احکام کا جس سے معلوم ہوا کر اصلی اسلام وہی ہے جو اہلِسنت کا ہے اور حدیثِ جبرئیل کے عنوان سے اسی طرح ارکانِ اسلام کا ذکر بخاری و مسلم وغیرہ کتبِ اہلِ سنت میں متواتر ہے۔ 

4: جب آپﷺ خلعتِ نبوت سے سرفراز ہو کر غارِ حرا سے گھر پہنچے تو حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بگو لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ۔

ترجمہ: تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لے اور قریش کو بھی شہادتین کی دعوت دی۔ 

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 263) 

5: اسعد نامی مدینہ کے ایک شخص سے حضورﷺ نے فرمایا۔ 

شمارا میخوانم بسوئے شہادت بوحدانیت خدا و پیغمبری من۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 315) 

ترجمہ: میں تم کو خدا کے ایک ہونے کی گواہی اور پیغمبری کی گواہی کی دعوت دیتا ہوں۔  

6: فتحِ مکہ کے موقعہ پر آپ نے سیدنا ابوسفیانؓ والد سیدنا امیرِ معاویہؓ کو شہادتین کی تلقین کی تو وہ یہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے: فقال اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا رسول الله۔ 

(حیات القلوب: جلد، 5 صفحہ، 456)

صفحہ 4 از 11