کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 11

ترجمہ: تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ 

7: ایک سفر میں ایک لاغر اعرابی کو آپﷺ نے اسی کلمہ کی تلقین کی: بگو اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد رسول الله۔

(حیات القلوب: صفحہ، 565) 

8: ایک یہودی لڑکے نے حضورﷺ سے گفتگو کی اور پھر شہادتین کا کلمہ پڑھنے لگا۔ (ایضاً)

 9: قال رسول اللهﷺ اربع من كن فيه كان فی نور اللہ عزوجل من كان عصمة امره شهادة ان لا الله الا الله وانی رسول اللہ۔ 

(من لا يحضره الفقيه: جلد، 1 صفحہ، 56) 

ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا ہے جس میں چار باتیں ہوں گی وہ اللہ عزوجل کے نور میں ہو گا جس کے عقیدہ کی ڈھال خدا کی توحید اور حضورﷺ کی رسالت کی گواہی ہو۔ 

10: سید الشہدا حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ نے اسی کلمہ کی ترغیب دی تو وہ بول اٹھے: 

اشهد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 657) 

سنتِ نبوی کی دس شہادتوں کے بعد صحابہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی شہادتیں ملاحظہ ہوں:

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہل بیت رضی اللہ عنہم نے بھی یہی سنی کلمہ پڑھا پڑھایا:

 وفات کے وقت حضرت سلمان فارسیؓ نے یہ کلمہ پڑھا:

11: اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمد اعبده ورسوله۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 655)

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک لہٗ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

12: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خندق کے موقعہ پر عمرو بن ود کو اسی کلمہ کی دعوت دی تھی۔ 

(کشف الغمہ: صفحہ، 272) 

نیز اپنے اور اہلِ شام کے درمیان اسی کلمہ کی وحدت کا ذکر فرمایا تھا: والظاهر ان ربنا واحد و نبينا واحد و دعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزيدهم فی الايمان بالله والتصديق برسوله و لا يستزيدوننا الأمر واحد۔ (نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 125)

ترجمہ: حالانکہ ظاہر ہے ہمارا رب ایک ہے اور ہمارا نبی ایک ہے ہماری اسلام میں دعوت ایک ہے ہم ان سے خدا و رسولﷺ پر ایمان لانے میں زیادتی کا مطالبہ نہیں کرتے نہ وہ ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں بجز دمِ عثمانؓ کے اختلاف کے ہر بات میں ہم متفق ہیں۔

آپ نے یہاں امامت کا ذکر نہیں کیا معلوم ہوا یہ خود ساختہ عقیدہ ہے۔

13: جب سیدنا ابوسفیانؓ شفاعت کرانے کے لیے اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں پہنچا تو سیدنا حسنؓ 14 ماہ کے بچے نے کہا: بگو لا اله الا الله محمد رسول الله تامن شفاعت کنم نزد جد خود۔

(حیات القلوب: صفحہ، 245)

ترجمہ: تو یہ کلمہ پڑھ لے تاکہ میں تیری اپنے نانا کے ہاں سفارش کروں۔ 

14: ایک شخص نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا اسلام کیا ہے تاکہ میں مسلمان ہو جاؤں۔ حضرت فرمود بگو اشهد ان لا اله الا اللہ وان محمدا عبده ورسولہ۔ 

(ایضاً: صفحہ، 248)

 تو حضرت حسنؓ نے فرمایا تو کہہ دے کہ میں اللہ کی توحید اور حضرت محمدﷺ کی عبدیت و رسالت کی گواہی دیتا ہوں۔

سیدنا باقر رحمہ اللہ و سیدنا جعفر رحمۃ اللہ نے بھی یہی کام سکھلایا:

 15: لان اصل الایمان انما هو شهادتان فجعل شهادتين كما جعله فی سائر الحقوق شاهدان فاذا اقر العبد لله عزوجل بالواحدانية واقر لرسولﷺ‎ بالرسالة فقد اقر بجملة الإيمان۔  

(من لا يحضره الفقيہ: صفحہ، 130 بحوالہ منہاج التبلیغ)

ترجمہ: کیونکہ ایمان کی جڑ خدا اور رسولﷺ‎ کے وجود کی شہادت ہے جیسے سب حقوق میں دو گواہ معتبر ہیں اس طرح ایمان میں یہ دو گواہیاں معتبر ہیں جب بندہ خدا کی توحید اور رسول اللهﷺ‎ کی رسالت کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ تمام ایمان کا اقرار کر لیتا ہے۔

16: قال الصادق عليه السلام لقنوا موتاكم شهادة ان لا اله الا اللہ وان محمد الرسول الله۔

(من لا يحضره الفقيہ: جلد، 1 صفحہ، 40)

ترجمہ: سیدنا صادقؒ فرماتے ہیں اپنے مردوں کو یہ کلمہ یاد دلایا کرو لا الہ الا الله محمد رسول الله۔

 17: عن ابی عبد الله قال كان ذلك الكنز لوحا من ذهب فيه مكتوب بسم الله لا اله الا الله محمد رسول الله۔ (تفسیر قمی: جلد، 2) 

سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں ان یتیموں کے خزانے میں ایک سونے کی تختی تھی جس میں بسم اللہ کے ساتھ یہ کلمہ لکھا تھا۔ 

ائمہ ولادت و وفات کے وقت اہل سنت کا کلمہ پڑھتے تھے:

18: حضرت ابوطالب کا بیان ہے کہ سیدنا علیؓ نے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور یہ کہا: اشہد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله۔

(تحفتہ الابرار: صفحہ، 28)

 19: حضرت علیؓ نے وفات کے وقت یہی کلمہ پڑھا لا الہ الا الله محمد رسول اللہ اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ 

(کاروانِ اسلام: صفحہ، 199 از رئیس احمد جعفری)

 20: بروایتِ جلاء العیون: صفحہ، 515 سیدنا صادقؒ نے ولادت کے وقت کلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا آپ ناف بریدہ اور ختنہ شدہ پیدا ہوئے تھے۔

(چودہ ستارے: صفحہ، 253)

 21: سیدنا موسیٰ کاظمؒ نے بھی ولادت کے وقت یہی کلمہ پڑھا جسے حضورﷺ‎ نے پڑھا تھا۔

(جلاء العیون: صفحہ، 270) 

 22: سیدنا نقی نے بھی یہی کلمہ تیسرے دن آنکھیں کھول کر پڑھا۔ 

(جلاء العیون: صفحہ، 374) 

23: امام العصر سیدنا مہدی نے بھی ولادت کے وقت یہی کلمہ پڑھا۔

حضرت صاحب العصر ہمچوں دیگر ائمہ شهادتین فرمود۔

(جلاء العیون: صفحہ، 587)

 سیدنا امام مہدی نے دیگر ائمہ کی طرح خدا و رسول کی گواہی والا کلمہ پڑھا۔

 24: سیدنا مہدی کی ماں پہلے مشرکہ تھی پھر اہلِ سنت کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئی چنانچہ جلاء العیون کی روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں ملیں اور شکایت کی کہ امام حسن عسکری مجھ پر ظلم کرتا ہے اور مجھے دیکھنا نہیں چاہتا پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ تجھے کیسے دیکھے حالانکہ بخدا شرک بیاوری و بر مذهب ترسائی پس بگو اشهد ان لا اله الا اللہ وان ابی رسول اللہ۔ حالانکہ تو خدا کے ساتھ شرک کرتی ہے اور عیسائی مذہب پر ہے تو گواہی دے کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور میرے باپ محمدﷺ‎ اللہ کے رسول ہیں۔ 

 یہی خاتون حضرت حسن عسکری کی بیوی اور صاحب الامر امام زمان کی ماں ہیں۔ 

(جلاء العیون: صفحہ، 582)

صفحہ 5 از 11