کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 11

یہاں تک 24 دلائل قاہرہ سے ثابت ہو چکا کہ مکلفین کا یہ مقدس ترین گروہ جو عند الشیعہ حجتہ اللہ ہیں سب اہلِ سنت کا مذہب رکھتے تھے یہی کلمہ شہادتین پڑھتے اور پڑھاتے تھے اسی پر جیتے اور مرتے تھے یہی ان کی زندگی کا مشن تھا اگر یہ کلمہ ناقص یا ادھورا ہوتا تو کبھی یہ کلمہ نہ پڑھتے پڑھاتے بلکہ شیعہ کا مکمل کلمہ پڑھتے پڑھاتے کلمہ اہلِ سنت پر اعتراض اور اس سے اعراض دراصل خدا و رسولﷺ‎ سے انکار اور مذہبِ اہلِ بیتؓ سے دشمنی ہے اللہ تعالیٰ شیعہ کو کفر کے اندھیرے سے نکال کر ہدایت کی روشنی نصیب کرے۔ 

سب کائنات یہی کلمہ پڑھتی ہے:

اب کائنات کی دیگر اشیاء کی شہادات بھی ملاحظہ ہوں:

25: ایک فرشتہ غیب نے آواز دی کہ اے گرجوں اور صوامع والو یہود و نصاریٰ۔ایمان آورید خدا و رسول او محمد که نزدیک شد بیرون آمدن او۔

(حیات القلوب: صفحہ، 58)

ترجمہ: ایمان لاؤ خدا پر اور اس کے رسولِ محمدﷺ پر جس کے دنیا میں آنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ 

26: حضورﷺ کی بشارت دینے والے دس ہزار فرشتوں کی قندیلوں پر لکھا ہوا تھا لا الہ الا الله محمد رسول الله۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 58)

 27: حضرت جبرئیل علیہ السلام چار جھنڈے زمین پر لائے سبز عٙلم زمین پر گاڑا اس پر سفیدی سے دو سطروں میں لکھا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول الله۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 59 بحوالہ منہاج التبليغ) 

28: زمانہ طفولیت میں پہاڑوں اور جنگلوں نے آپ پر یوں سلام کیا: السلام عليك يا صاحب القول العدل لا اله الا الله محمد رسول الله۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 72) 

29: تخلیقِ آدم کے وقت حضرت اسرافیل علیہ السلام نے ایک مہر نکالی جس کی دو سطروں میں یہی کلمہ لکھا تھا اور وہ مہر حضور حضرت آدمؑ کے کندھوں پر نقش فرمادی۔ 

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 74) 

30: بعثتِ محمدیﷺ سے قبل تمام پرندوں، فرشتوں اور درختوں نے کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول الله۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 100)

31: حضورﷺ کی چاندی کی انگوٹھی پر یہی کلمہ لکھا تھا اور ایک دوسری پر صدق اللہ لکھا تھا۔ 

(ایضاً: صفحہ، 109)

32: عرشِ الہٰی پر یہی کلمہ لکھا ہوا تھا جو حضرت آدم علیہ السلام نے دیکھا۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 141)

 33: شبِ معراج میں اسی کلمہ شہادتین کی آپ نے ملاءِ اعلیٰ میں گواہی دی۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 281) 

34: مہرِ نبوت پر یہی کلمہ تھا جو آپ کے کندھوں کے مابین تھی ایک سطر میں لا الہ الا اللہ دوسری میں محمد رسول اللہ لکھا تھا۔ (حیات القلوب)

 35: بہشت سے کچھ لالٹینیں لائی گئیں اور ہر قندیل پر نوشتہ تھا لا الہ الا الله محمد رسول الله۔ 

(ایضاً: جلد، 2 صفحہ، 59)

36: گرگوں نے آپ کو گزرتے دیکھا تو یہی کلمہ شہادتین پڑھا۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 215)

37: تقدیر کی قلم نے بھی بحکمِ وحی یہی کلمہ رقم فرمایا: و بسوئے قلم می نمود کہ بنویس توحید مرا پس قلم ہزار سال مدہوش گردید از شیذن کلامِ الہٰی وچوں بہوش باز آمد و گفت پروردگارا چہ چیز بنویسم فرود کہ بنویس لا اله الا اللہ محمد رسول الله۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 7)

ترجمہ: اللہ نے قلم کو وحی کی کہ میری توحید لکھ پس قلم یہ کلامِ الہٰی سننے سے ہزار سال بیہوش رہا جب ہوش میں آیا تو پوچھا اے پروردگار کیا چیز لکھوں اللہ نےفرمایا لکھ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

 38: براق کی پیشانی پر یہی کلمہ لکھا تھا:

مكتوب بين عينيه لا اله الا الله وحده لا شريك له محمد رسول الله۔

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 28)

 39: جب آپ کسی سنگریزے کو ہاتھ لگاتے تو وہ گواہی دیتا:

لا اله الا الله محمد رسول الله- 

(تاريخ الآئمہ: صفحہ، 14 بحوالہ منہاج التبليغ: صفحہ، 260) 

40: سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں بخدا میں نے جنگلوں میں ہرن دیکھے کہ تسبیح و ذکر لا اله الا الله محمد رسول اللہ مے گفتند۔ 

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 226)

اذان و اقامت وغیرہ میں کلمہ طیبہ:

رسالت محمدیہ کا ذکر ہر اس چیز میں ہے جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے حیات القلوب میں کیا خوب لکھا ہے: اور اللہ کا ارشاد ہے وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ ۞ (سورة الانشراح: آیت، 4) 

ترجمہ: اور ہم نے تیرا ذکر تیرے لیے بلند کر دیا پس کوئی آدمی اخلاص کے ساتھ کلمہ شہادت لا الہ الا اللہ کی آواز بلند نہیں کرتا مگر وہ محمد رسول اللہ کی شہادت کی بھی اذان میں اقامت میں نماز میں عیدوں میں جمعہ میں اوقاتِ حج میں اور خطبہ نکاح میں ضرور آواز بلند کرتا ہے۔ 

(حیات القلوب: جلد، 1 صفحہ، 135)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ ۞ کے تحت اذان اقامت خطبہ کلمہ تشہد وغیرہ میں صرف توحید و رسالت کی شہادت ہوگی امامت وغیرہ کا ذکر خالص بدعت اور حرام ہوگا چنانچہ تیسری چوتھی صدی میں جن غالی دین دشمنوں نے اذان میں شہادت رسالت کے بعد اشہدان علیاؓ امیر المؤمنین الخ سے اضافہ کیا تو معتبر شیعہ علماء نے ان پر لعنت و پھٹکار برسائی چنانچہ شیعہ کی معتبر اور اصح كتاب من لا یحضره الفقيه باب الآذان میں اہلِ سنت کی طرح اذان ذکر کر کے یہ لکھا ہے: والمفوضة لعنهم الله زاد وافی الاذان اشهدان علیاؓ امیر المؤمنین و خلیفتہ بلا فصل الخ مفوضہ پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے یہ الفاظ اذان میں بڑھا دیے اور فروعِ کافی باب بدء الاذان والاقامتہ میں ہے کہ جو شخص مؤذن کو اشهدان لا الہ الا اللہ و اشہدان محمد رسول اللہ کہتے سنا اور پھر یہی کلمہ دہرائے اور ان پر ہی اکتفاء کرے یعنی تیسری شہادت امامت کا ذکر نہ کرے تو اس کو بڑ اثواب ملے گا اس باب میں شیعہ کی امامت کا ذکر نہیں ہے بلکہ ضمناً نفی کی گئی ہے۔

 شہادتین کا کلمہ ہی کامل ایمان ہے:

 42: جمیل بن دراج نے ایمان کے متعلق سیدنا صادقؒ سے فقال شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله قال اليس هذا عمل قال بلى قلت فالعمل من الایمان قال لا يثبت له الايمان الا بالعمل العمل الامنہ۔ 

(کافی: جلد، 1 صفحہ، 55)

ترجمہ: تو آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ اور محمد رسول الله کی گواہی راوی نے پوچھا کیا یہ عمل نہیں ہے؟ فریایا کیوں نہیں میں نے کہا کیا عمل بھی بیان سے ہے تو فرمایا ایمان ثابت نہیں ہوتا بغیر عمل کے اور عمل ثابت نہیں ہوتا بغیر ایمان کے۔

صفحہ 6 از 11