کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 11

43: ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام بصورتِ اعرابی خدمتِ رسولﷺ‎ میں آئے حضرتﷺ‎ نے ان کو پہچانا انہوں نے پوچھا اے محمدﷺ‎! ایمان کیا ہے فرمایا الله یوم الآخرت ملائکہ کتب انبیاء بعث بعد الموت پر ایمان لانا کا سچ کہتے ہو اور اسلام کیا ہے؟ فرمایا کی شہادت لا الہ الا له اور محمد عبدہ و رسولہ زبان پر جاری کرنا نماز قائم کرنا زکوٰۃ ادا کرنا ماہِ رمضان کے روزے رکھنا بیتُ اللہ کا حج کرنا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں۔

(تحفتہ الابرار ترجمہ جامع الاخبار از ابنِ بابویه قمی: صفحہ، 58)

اس حدیثِ جبرئیل علیہ السلام میں جو باتیں مذکور ہیں وہی اہلِ سنت کا مذہب ہیں شیعہ کی مخصوص باتیں اس میں ہرگز نہیں معلوم ہوا مذہبِ اہلِ سنت اور ان کا کلمہ خدا کی تعلیم پر قائم ہے۔ 

44: حضرت جبریل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اس وقت آئے جب وہ آگ میں پھینکنے کے لیے منجیق میں رکھے ہوئے تھے تو کہا کیا آپ کو مجھ سے کوئی حاجت ہے فرمایا خاص تم سے کوئی حاجت نہیں پروردگار عالم سے ضرور حاجت ہے اس وقت جبرئیل امین نے ایک انگشتری ان کے حوالے کی جس میں یہ لکھا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول الله الجأت ظهری الى الله وفوضت اموی الی اللہ میں نے اپنی پشت اللہ کی پناہ میں دی اور معاملہ اسی کے سپرد کر دیا پس خدا نے آگ کو حکم دیا: يٰنَارُ كُوۡنِىۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا الخ۔ 

(سورۃ الانبیآء: آیت 69)

(حاشیہ ترجمہ مقبول: صفحہ، 392)

معلوم ہوا اسی کلمہ اہلِ سنت کی برکت سے اللہ نے مہربانی فرمائی غیر اللہ سے مدد مانگنا اور یا علی مدد کے نعرے لگانا ملتِ ابراہیمی میں شرک ہوا۔

45: تفسیر عیاشی اور الخصال میں جناب رسولِ خداﷺ‎ سے یہ حدیث مروی ہے کہ جس شخص میں یہ چار خصلتیں ہوں گی اس کو خدا کے سب سے بڑے نور میں جگہ ملے گی اس کے ایمان کی سپر یہ کلمہ ہو لا اله الا الله محمد رسول الله۔ 

(ترجمہ مقبول: صفحہ، 45) 

46: سیدنا علیؓ قیامت میں یہی کلمہ پڑھیں گے یقول لا الہ الا الله محمد رسول الله۔ (وكشف الغمہ: صفحہ، 119)

 47: قیامت کے دن حضورﷺ‎ کے ہاتھ میں جولواء الحمد ہوگا اس کی تین سطروں میں بسم اللہ الحمد للہ رب العلمین اور لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوگا۔

(کشف الغمہ: صفحہ، 404)

شیعہ علماء کا اعترافِ حقیقت:

48: قاضی نور اللہ شوستری ایک نکتہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اول آنکه اسلام مبنی است بر اصل شہادتین شہادت واحدانیت و شہادت رسالت و یا اینکه ہریک از کلمات لا له الا الله محمد رسول الله دوازده حرف است۔ (مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 20)

ترجمہ: پہلا یہ کہ اسلام مبنی ہے دو گواہوں کی جڑ پر توحید کی گواہی اور رسالت کی گواہی اور یا یہ کہ لا الہ الا الہ محمد رسول اللہ میں سے ہر ایک کے بارہ بارہ حروف ہیں۔ 

49: خواجہ نصیرالدین محقق طوسی نے اپنے رسالہ عقائد کے آغاز میں لکھا ہے:

اعلم ايها الاخ الصالح العزيزان أقل ما يجب اعتقاده على المكلف هو ما ترجمة لا اله الا الله محمد رسول الله۔ 

(مجالس المؤمنین: جلد، 2 صفحہ، 208)

ترجمہ: اے نیک بھائی جان لے کہ کم از کم جس چیز کا اعتقاد رکھنا مکلف پر فرض ہے وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا معنیٰ ہے۔ 

50: مشہور شیعہ لیڈر حسن بن صباح نے کہا تھا لوگ کہتے ہیں کہ میں نے دین و مذہب نیا نکالا ہے نعوذ باللہ اس سے کہ میں نیا مذہب نکالوں اور جو دین میں رکھتا ہوں رسول اللہﷺ کے زمانے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہی دین و مذہب تھا اور تاقیامت سچا مذہب یہی ہے اور رہے گا۔

و اکنون دین من دین مسلمانی است اشہد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد رسول اللہ۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 2 صفحہ، 312)

ترجمہ: اور اب میرا دین مسلمانوں والا دین ہے میں خدا کی توحید اور حضرت محمدﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہوں۔ 

گو اسے مبنی بر تقیہ ہی مانا جائے دینِ مسلمانی کی بنیاد صرف شہادتین کو تسلیم کیا۔

51: شیعہ کے موجودہ شریعتمدار محمد کاظم ایرانی لکھتے ہیں:

واگر کافرشہادتین بگوید یعنی بگوید اشہد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبدہ و رسولہ مسلمان میشود۔

(توضیح المسائل)

ترجمہ: اگر کافر کلمہ شہادتین پڑھے یعنی کہہ دے کہ میں اللہ کی توحید کی اور حضرت محمدﷺ کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دیتا ہوں تو مسلمان ہوجاتا ہے۔

قصہ لذیذ بود حکایت دراز ترگفتم کے تحت کلمہ طیبہ کا کتبِ معتبرہ شیعہ سے ہم نے اثبات کیا ہے شیعہ کے ائمہ ہو یا علماء و مجتہدین سب کلمہ اہلِ سنت ہی کے قائل ہیں اس میں اختلاف صرف متاخرین دور حاضر کے ذاکروں نیم ملاؤں اور مفاد پرست لیڈروں کو ہی سوجا ہے ان تمام دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ آج کے شیعہ ان کے آگے سرتسلیم خم کر لیں اور خدا اور رسولﷺ کی خلاف ورزی کر کے نئی راہ کفر و ضلالت نہ نکالیں اسی میں ان کی بھلائی ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب عام مسلمان اور حکومت مجبور ہوکر کلمہ طیبہ کی حفاظت و دفاع میں ان سے وہی سلوک کرے جو ختمِ نبوت کے دفاع میں قادیانیوں سے کیا گیا کیونکہ جیسے مشرک خدا کے انکار سے نہیں بلکہ ایک اور الہٰ و حاجت روا کے اضافے سے خارج از اسلام ہے قادیانی حضرت محمد رسول اللہﷺ کے انکار سے نہیں بلکہ ایک نئے پیغمبر کے اضافے سے خارج از اسلام اور کافر ہے اسی طرح امامی لاله الا اللہ محمد رسول اللہ کے انکار سے نہیں بلکہ اس پر ایک نئے کلمے کے اضافے سے خارج از اسلام قرار پائے گا۔ 

شیعی شبہات کا ازالہ:

صفحہ 7 از 11