کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 11

شیعہ کا غیر معتبر اور رطب و یابس لٹریچر سامنے رکھنے سے دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا کہ عقیدہ امامت کا رسالت کے ساتھ تذکرہ نہیں ملتا تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ امامت و ولایت کو جزوِ کلمہ بنانے کی تعلیم ائمہ نے نہیں دی اور نہ ہی اسلام کی صحت و صداقت کو اقرارِ امامت سے مشروط قرار دیا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقیہ امامتِ ایمان کا جزو ہے اسے مانے بغیر کوئی شخص عند الشیعہ کامل الایمان نہیں ہو سکتا جیسے اصول کافی "باب ان الاسلام تحقین به الدم" میں یہ حدیث ہے کہ ایک شخص نے حضرت جعفرؒ سے اسلام و ایمان میں فرق کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا اسلام وہ ظاہر مذہب ہے جس پر سب لوگ ہیں کہ لا الہ الا اللہ کی گواہی اور حضرت محمدﷺ‎ کی عبدیت اور رسالت کی گواہی نماز پڑھنا زکوٰۃ دینا حج بیت اللہ کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ہیں یہی اسلام ہے اور ایمان اس کے ساتھ امرِ امامت کی معرفت کا نام ہے اور اگر اسلام کا اقرار کرے اور امامت کو نہ پہچانے وہ مسلمان گمراہ ہوگا۔ 

(اصوٹل کافی: جلد، 2 صفحہ، 25)

ہم اہلِ سنت پر بہمہ وجوہ یہ روایت حجت نہیں شیعہ پر بایں معنیٰ حجت ہے کہ وہ صرف معرفتِ امام کے مکلف میں جو فعلِ قلبی ہے اسے اسلام کے برابر اقرار میں لانا یا کلمہ کا جزو بنانا ہرگز روا نہیں ہے لہٰذا اس ارشادِ امام کی رو سے ہر ایسی روایت مردود ہوگی جس سے امامت کا رسالت کے ساتھ اقرار میں تلازم مترشح ہوتا ہو خواہ مناقب کی ہو یا عقائد کی۔ 

2: جب قرآن و سنت صرف شہادتین کے اقرار پر ہی متفق ہیں تو ایسی روایت مردود ہوگی جو اس کے خلاف تیسری شہادت کا ضمیمہ لگائے کیونکہ امام صادق کا فرمان ہے:

1: لا تقبلوا علينا خلاف القران فانا ان تحدثنا حدثنا بموافقة القران و السنة۔ (كتاب الحدائق)

ترجمہ: قرآن کے برخلاف حدیتیں ہمارے ذمے نہ لگاؤ کیونکہ اگر ہم حدیث بیان کریں تو قرآن و سنت کے موافق بیان کرتے ہیں۔ 

2: کل شی و مردود الی الکتاب و كل حديث لا يوافق كتاب الله فهو زحرف۔

ترجمہ: ہر چیز کتاب اور سنت نبویﷺ کی طرف لوٹائی جائے گی اور جو حدیث کتاب اللہ کے موافق نہ ہو وہ بناوٹی ہے۔ 

3: مالم يوافق من الحديث القران فهو زخرف۔ 

(اصول کافی: صفحہ، 29)

ترجمہ: جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ ملمع سازی ہے۔

اس سے ہر قسم کی رطب ویابس روایات کا جواب ہوچکا جن سے دھوکہ کھا کر شیعہ کلمہ بدل دیتے ہیں اب مشتہر کی حدیثِ مصطفیٰﷺ بروایت از سیدنا جابرؓ کی حقیقت داخلہ ہو اس پر ایک حوالہ ریاض النضرہ کا ہے جو اہلِ سنت کے محب طبری کی تالیف ہے مناقبِ عشرہ مبشرہ میں عمدہ کتاب ہے مگر عام کتبِ مناقب کی طرح ضعیف روایات سے خالی نہیں ہے کلمہ طیبہ کے لیے نصوصِ قرآنیہ اور احادیثِ معتبرہ متواتره درکار ہوتی ہیں کتبِ مناقب سے استدلال تو استہزاء کے مترادف ہوتا ہے ہم بھی اس کتاب سے چاروں خلفاء کے نام سے کلمے دکھا سکتے ہیں مثلاً الریاض النضرہ: جلد، 1 صفحہ، 46 پر ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول الله الصديق عمر الفاروق عثمان الشهید علی رضا الہٰی پر یہ کلمہ لکھا ہے چونکہ عرشِ الہٰی جنت سے افضل ہے تو یہ کلمہ بہ نسبت شیعی کلمہ کے بہت افضل اور واجب الایمان ہوگا شیعہ جب اسے نہ مانیں تو ان کا کلمہ ہم کیسے مان لیں۔

علاوہ ازیں ریاض النضره من کا یہ حوالہ صریح خیانت ہے کیونکہ وہاں انور سول اللہ کے لفظ ہیں۔

علی ولی اللہ کے نہیں سیدنا علیؓ کے چچا زاد برادرِ نبوی ہونے کا کوئی بھی منکر نہیں۔ 

رہی ینابیع المودة تذكرة الخواص اور مؤدة القربیٰ کے حوالے تو یہ کتابیں نہایت مجروح و غیر متبر ہیں نایاب ہونے کی وجہ سے ہم انہیں دیکھ نہ سکے تاکہ معلوم ہو جاتا کہ ریاض النضرہ کی طرح ان کا حوالہ بھی غلط اور محض مرعوب کرنے کے لیے مشتہر نے تو نہیں دیا۔ 

سبط ابن جوزی کی کتابیں وہی ہیں:

واضح رہے کہ تزکرة الخواص جسے اعلام للخواص بھی کہتے ہیں اور ینابیع المودة مودة القربیٰ سيرت حلبیہ وغیرہ جن سے شیعہ اہلِ سنت کے خلاف استدلال کرتے ہیں اور ایسا مواد ان کو اپنی کتب میں ملتا ہے یہ سبط ابنِ جوزی کی تالیفات ہیں جو مشہور علامہ ابو الفرج ابنِ جوزئی کا نواسہ تھا مگر برائے نام سنی تھا باطن شیعہ تھا اور اپنی تالیفات سے شیعہ ہی کو فائدہ پہنچایا اس کا نام یوسف بن قزغلی المتوفىٰ 654ھ ہے سے میزان الاعتدال: جلد، 4 صفحہ، 471 میں ہے یوسف بن قز على المتوفیٰ 654ھ واعظ مؤرخ تھے کتاب مرأۃ الزمان لکھی اس میں منکر کہانیاں لکھتا ہے میں اسے نقل کردہ مواد میں ثقہ نہیں جانتا بلکہ جانبداری اور زٹلیات سے کام چلاتا ہے پھر وہ رافضی ہوگیا اس پر ایک کتاب بھی شیخ محی الدین سوسی نے کہا میرے دادا کو جب سبط ابنِ جوزی کی وفات کا علم ہوا تو فرمایا اللہ اس پر رحم نہ کرے وہ رافضی تھا۔ 

اس کی کتاب تذکره خواص الامتہ: صفحہ، 38 طبع نجفِ اشرف باہتمام شیعہ میں اس نے یہ عقیدہ لکھا ہے: قلت فی شرط الامام ان يكون معصوما الئلا يقع فی الخطاء۔

 ترجمہ: میں کہتا ہوں امام کا معصوم ہونا شرط ہے تاکہ وہ غلطی میں نہ پڑے۔

 اسی طرح لسان المیزان: جلد، 6 صفحہ، 328 اور جواہر المضيئه فی طبقات الخلفينہ: صفحہ، 231 پر اس پر جرح موجود ہے علامہ ابنِ تیمیہؒ منہاج السنتہ: جلد، 2 صفحہ، 133 پر اس طرح جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

صفحہ 8 از 11