کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 11

یہ شخص اپنی تالیفات میں قسم قسم کی محتاجی اور قحط سالی کا ذکر کرتا ہے اپنی اغراض کے لیے کمزور بلکہ موضوع احادیث سے استدلال کرتا ہے لوگوں کے حسبِ منشا و مرضی کتابیں لکھتا تھا تاکہ ان کی مرضی درست ہو اور وہ اس کو اس کا دنیوی فائدہ دیں اور یہ امام ابوحنیفہؒ کے مذہب پر بھی کتابیں لکھتا تھا تاکہ بادشاہوں سے اپنے مقاصد حاصل کر سکے اس کی عادت صرف وعظ گوئی تھی اس سے پوچھ گیا تمہارا مذہب کیا ہے؟ اس نے کہا کون سے شہر میں؟ یہی وجہ ہے کہ اس کی بعض کتابوں میں خلفائے راشدینؓ وغیرہم کبارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدگوئی پائی جاتی ہے اور بطورِ تقیہ ان کے مذہب میں تلبیس کرتا ہے اور بعض میں خلفائے راشدینؓ کی تعظیم بھی پائی جاتی ہے یہ ہے شیعہ حوالہ جات کی حقیقت جن کی وجہ سے قرآن وحدیث کے متفقہ کلمہ طیبہ کو بدلا گیا اور اہلِ سنت کو الزام دیا گیا۔

التحیات و ثنا بھی ثابت ہے:

شیعہ کا یہ کہنا که الصلوة خير من النوم تراويح التحیات سبحانک اللھم درود لکھی تاج نماز میں ہاتھ باندھنا الٹا وضو کس پائے اور رکوع سے ثابت ہے ایک لغو بات ہے کیونکہ یہ امور کلمہ طیبہ کی طرح اہم اور مدار کفر و اسلام نہیں ہیں کہ لفظاً قرآن ہی میں مذکور ہوں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رسول کی اطاعت کرو جو وہ تمہیں دیں لے لو اور جس سے وہ روکیں رک جاؤ تو جوحکم ارشادِ نبوی سے ہو گا وہ بھی قرآن سمجھا جائے گا الصلوٰة خیر من النوم کا ثبوت از پیغمبرﷺ ہم ذکر کر چکے ہیں تراویح پر بھی مفصل روشنی ڈالی جا چکی ہے کتبِ شیعہ سے مزید سنت نبوی ملاحظہ ہو: 

1: عن ابی عبد الله قال كان رسول اللهﷺ اذا دخل شهر رمضان زاد فی الصلوٰة فانا ازید فازید وا۔ (استبصار: جلد، 1 صفحہ، 464)

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں جب ماہِ رمضان شروع ہوتا تو رسول اللہﷺ‎ نماز میں اضافہ فرماتے میں بھی زیادہ پڑھتا ہوں تم بھی زیادہ پڑھا کرو۔ 

2: سیدنا جعفر صادقؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضورﷺ‎ رمضان میں ہر رات کو نفل اس سے زیادہ پڑھتے جو پہلے پڑھا کرتے تھے اول رات سے بیسویں رات تک 20 20 رکعات روزانہ پڑھتے تھے۔ 

(استبصار: صفحہ، 422)

3: عن ابى جعفرؒ صلى فی اول شهر رمضان فی عشرين ليلة عشرون ركعة۔

(استبصار صفحہ 462)۔

امام باقرؒ کہتےہیں کہ حضورﷺ یکم رمضان سے بیسویں تک 20، 20 رکعات تراویح پڑھتے تھے۔ 

20 رکعت کی اس نماز کو نفل سے تعبیر کرنا صرف لفظی اختلاف ہے۔

اب تشہد و الحیات کے متعلق بھی سنیے:

زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر صادقؒ سے تشہد کے متعلق سوال کیا تو آپؒ نے فرمایا: التحيات لله والصلوات والطبيبات الخ دوسرے تیسرے دن بھی پہلے دن والا جواب دیا کہ التحیات لله والصلوات الخ زرار کہتا ہے جب میں نکلنے لگا تو امام کی داڑھی پر ہاتھ مارا اور کہا کہ یہ امام کبھی کامیاب نہ ہوگا۔ 

(رجال کشی ما از افادات تونسوی)

ایسے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کو روزِ اول اس تشہدِ نبوی سے جو خدا کی ثناء صلواۃ و سلام برپیغمبر و اصحاب و شہادتین پر مشتمل ہے ضد ہے نواسہ رسولﷺ‎ سے اس کے خلاف کہلوانا چاہتے ہیں وہ جب سنتِ نبوی چھوڑ کر ان کی بات نہیں مانتے تو یہ شیعہ ناراض ہوکر امام کی داڑھی نوچتے گستاخی کرتے اور بد دعا دے کر مجلس سے نکلتے ہیں واقعی ان محبانِ اہلِ بیتؓ کی دشمنی اور ایذاء رسانی کا جواب نہیں

 میرے سامنے دینیات کی دوسری کتاب برائے جماعت سوم ایک رسالہ ہے جسے سر رشتہ تعلیم نے 1953ء سے تمام پنجاب کے لیے منظور فرمایا تھا اس میں شیعہ کی نماز میں قعدے اور سلام کا طریقہ کے عنوان سے تشہد کا یوں ذکر ہے:

 اشهد ان لا اله الا الله وحدہ وأشهد ان محمدا عبده ورسوله۔

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں جو اکیلا اور لاشریک ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ‎ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

پھر درود کے بعد یہ بھی ہے السلام عليك أيها النبی ورحمة الله وبرکاتہ السلام علینا وعلى عباد الله الصالحین۔ 

 ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو ہم پر اوراللہ کے تمام نیک بندوں پر۔

ترتیب کے اختلاف کے ساتھ بھی اہلِ سنت کا تشہد و التحیات ہے ایک جلد میں بھی کمی بیشی نہیں اور تشہد کا ہر کلمہ بطورِ مفہومِ قرآن ہی سے ثابت ہے۔ التحیات کی ثناء سورۃ فاتحہ سے ثابت ہے شہادتین پر دلائل کا انبار مذکور ہو چکا ہے حضورﷺ‎ پر درود و سلام صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏۞ سے ثابت ہے 

عبادالله الصالحین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر درود وسلام کے متعلق یہ آیت کریمہ ملاحظه ہو: 

هُوَ الَّذِىۡ يُصَلِّىۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓئِكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 43)

ترجمہ: اے نبیﷺ کے صحابہ کرام وہ خدا تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں تاکہ تم کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے اور اللہ مؤمنوں پر خوب مہربان ہے۔ 

کیا تشہد سے اس قدر شیعہ کو ضد ہے کہ اب بھی اسے ثابت عن القرآن نہ مانیں گے نماز کے اول میں ثناء کے متعلق ثبوت یہ ہے ابوداؤد ترمذی ابنِ ماجہ نے یہ روایت کی ہے کہ آنحضرتﷺ جب نماز شروع کرتے تو سبحنك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالىٰ جدك ولا الله غيرك پڑھتے تھے۔ 

(عینی حاشیہ بخاری: صفحہ، 103)  

نیز مجمع الزواید: جل،د 2 صفحہ، 107 مستدرک حاکم: جلد، 1 صفحہ، 235 زاد المعاد: جلد، 1 صفحہ، 52 پر بھی یہ ثناء ثابت ہے:

اب بالترتیب ان جملوں کا ثبوت قرآنِ پاک سے ملاحظہ ہو:

وَّ سَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 42)

ترجمہ: صبح اور شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔

وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ الخ۔

(سورۃ بنی اسرائیل: آیت 44) 

 ترجمہ: ہر چیز سبحانک اللهم و بحمدک پڑھتی ہے مگر تم نہیں سمجھتے۔ 

تَبٰـرَكَ اسۡمُ رَبِّكَ الخ(سورۃ الرحمٰن: آیت 78)

ترجمہ: تیرے رب کا نام بڑی برکت والا ہے۔ 

تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا الخ۔ (سورۃ الجن: آیت 3) 

ترجمہ: بلا شبہ ہمارے رب کی شان بلند ہے۔

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ الخ۔

(سورۃ الانبیآء: آیت 87)

ترجمہ: تیرے بغیر اور کوئی معبود نہیں۔ 

صفحہ 9 از 11