Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ماموں

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تمام ماموں بچپن ہی میں وفات پاگئے، کوئی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا، ان کے نام قاسم اور ابراہیم ہیں، زبیر بن بکار نے عبداللہ کا اضافہ کیا ہے، ان کا نام طیب اور طاہر بھی تھا اس لیے کہ وہ نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 31)

یہی رائے اکثر علمائے انساب کی ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ طیب اور طاہر الگ سے دو لڑکے ہیں، لیکن تمام علماء کا اتفاق ہے کہ عبداللہ، طیب اور طاہر مکہ میں وفات پاچکے تھے۔

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 281)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سیدنا خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھیں، سوائے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے، وہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے، جنھیں مصر کے حاکم مقوقس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ اس وقت دیا تھا جب آپ نے اسے 6ھ میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی، ایک قول کے مطابق ’’قاسم‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے بڑے تھے، اور سب سے پہلے وفات بھی پائی، ان کی ولادت نبوت سے پہلے مکہ میں ہوئی، اور بچپن ہی میں وفات پاگئے، دوسرے قول کے مطابق سن تمیز تک زندہ رہے، بنا بریں کہا گیا ہے کہ اپنے پاؤں پر چلنے کی عمر تک زندہ رہے،

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 31 الذریۃ الطاہر للدوالیبی: صفحہ 42)

اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ سواری پر سوار ہونے اور اونٹنی پر سفر کرنے کی عمر تک زندہ رہے۔

 (الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 31)