Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

وَاللّٰہِ مَا تَشَاوَرَ قَوْمٌ قَطُّ إِلَّا ہَدَاہُمُ اللّٰہُ لِأَفْضَلَ مَا یَحْضُرُہُمْ

(تہذیب الریاسۃ و ترتیب السیاسۃ للقلعی: صفحہ 183)

’’اللہ کی قسم جب بھی کوئی قوم باہم مشورہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی موجودہ رائے سے بہتر رائے کی جانب ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ لوگوں کو اپنے تمام معاملات میں باہمی مشورے کی وصیت کر رہے ہیں اور اس پر آمادہ کر رہے ہیں، قرونِ اولیٰ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے شورائیت کا طریقہ سیکھا اور اس کو برتا، خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت سے متعلق اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ، چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور اپنے دوسرے قائدین سے مشورہ کیا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

شورائیت شریعت و احکام کے بنیادی اصول و ضوابط میں سے ہے، جو حاکم بھی باعمل علماء سے مشورہ نہیں کرتا اس کو اس کے منصب سے ہٹا دینا بالاتفاق واجب ہے۔

(المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز: جلد 3 صفحہ 379)

جصاص حنفی اپنی تفسیر ’’احکام القرآن‘‘ میں(أَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ)پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اقامتِ صلاۃ اور ایمان کے ساتھ شورائیت کا ذکر کیا جانا اس کے عظیم المرتبت ہونے کا پتہ دیتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم اس کے مامور ہیں۔‘‘

(أحکام القرآن للجصاص: جلد 3 صفحہ 386)

علامہ طاہر بن عاشورؒ کہتے ہیں:

’’جصاص کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شورائیت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ کے نزدیک واجب ہے۔‘‘

(التحریر و التنویر: جلد 4 صفحہ 149)

امام نووی رحمۃاللہ کا قول ہے:

’’ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے کہ ہماری طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں شورائیت واجب ہے یا سنت، ان کے نزدیک راجح واجب ہونا ہے اور یہی مختار قول ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا امر صادر کر رہا ہے: 

 وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌۞ (سورۃ آل عمران آیت 159)

ترجمہ: اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔

اور جمہور فقہاء و محقق اصولیین کے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔‘‘

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 76)

ابن تیمیہ رحمۃاللہ کا قول ہے

’’حاکمِ وقت مشاورت سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 159)

ترجمہ: لہٰذا ان کو معاف کردو، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

بلاشبہ شورائیت اسلامی نظام کے ان بنیادی امور میں سے ہے جو اسلامی معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بہت سارے عظیم مقاصد اور اعلیٰ مصلحتوں کے پیش نظر شورائی نظام مشروع قرار دیا گیا، اس میں معاشرے، امت اور حکومت کی بھلائی اور برکت پر مبنی بہت سارے عظیم فوائد اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  •  شوریٰ ایک طرح کھلم کھلا بحث و مناقشہ ہے، یہ رائے عامہ کو ہموار اور واضح کرنے، حاکم و محکوم، رئیس و مرؤوس کے مابین محبت و اعتماد کے اسباب کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، ڈکٹیٹر شپ میں پروان چڑھنے والے شکوک کو ختم کرنے، اندیشوں کو دور کرنے، شبہات کے ازالے اور افواہوں کو روکنے میں حکومت کے لیے ایک بہترین طریقہ ہے۔
  • اسلامی مبادیات کا تقاضا ہے کہ ہر فرد یہ محسوس کرے کہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی میں اس کا ایک کردار ہے، شورائیت ہر فرد کو موقع دیتی ہے کہ وہ معاشرے کی بھلائی کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش، فکر، رائے اور صلاحیت کو بروئے کار لائے، نیز عام معاملات میں ہر شخص کو اظہارِ رائے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
  • شورائیت افرادِ امت کو فکری جمود اور گرم جذبات سے روکتی ہے، وہ ہر فرد کو اپنی ذاتی، فکری اور انسانی اہمیت کا احساس دلاتی ہے، افرادِ امت کو محنت، ایجاد اور رضامندی پر آمادہ کرتی ہے، امت کو مختلف طاقت و قوت عطا کرتی اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
  •  شورائیت سخت قسم کے دباؤ اور پوشیدہ کینوں کا کامیاب علاج ہے، مخفی غم و غصہ کو ختم کرتی ہے، رعایا کو فائدہ پہنچانے کا عادی، نیز نظام حکومت کو مضبوط کرنے اور حاکمِ وقت کی سچی وفاداری کا حریص بناتی ہے۔
  •  شورائی نظام امت کو باور کراتا ہے کہ وہی صاحبِ حکومت ہے، اور حاکمِ وقت کو باور کراتا ہے کہ وہ حکومت و سربراہی میں امت کی نیابت کر رہا ہے۔
  •  شورائیت میں اللہ کے حکم کی بجاآوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہے، مذکورہ خصوصیتوں کے بالمقابل یہ خصوصیت زیادہ اہم ہے، یہی شورائی نظام کی کامیابی کا سب سے اہم سبب ہے۔

(الشوریٰ بین الأصالۃ و المعاصرۃ لعز الدین التمیمی: صفحہ 33، 34)

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شورائی نظام کا اہتمام کرنے، اس کو برتنے اور بروئے کار لانے پر لوگوں کو ابھار رہے ہیں، اسی لیے وہ کہتے ہیں:

’’جب بھی کوئی قوم باہم مشورہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی موجودہ رائے سے بہتر رائے کی جانب ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

(تہذیب الریاسۃ و ترتیب السیاسۃ: صفحہ 183)

 سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

یَا ابْنَ آدَمَ عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا، وَ ارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا، وَ أَحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَ صَاحِبِ النَّاسَ بِمِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا، إِنَّہُ کَانَ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ قَوْمٌ یَجْمَعُوْنَ کَثِیْرًا وَ یَبْنُوْنَ مَشِیْدًا وَ یَأْمُلُوْنَ بَعِیْدًا، اَصْبَحَ جَمْعُہُمْ بُوْرًا وَ عَمَلُہُمْ غَرُوْرًا وَ مَسَاکِنُہُمْ قُبُوْرًا، یَاابْنِ آدَمَ إِنَّکَ لَمْ تَزَلْ فِیْ ہَدْمِ عُمُرِکَ مَنْذُ سَقَطْتَّ مِنْ بَطْنِ أُمِّکَ، فَجُدَّ بِمَا فِیْ یَدِکَ لِمَا بَیْنَ یَدَیْکَ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یَتَزَوَّدُ وَ الْکَافِرُ یَتَمَتَّعُ وَ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: 

(نور الأبصار للشبلنجی: صفحہ 121، الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’اے ابن آدم! اللہ کی حرام کردہ چیزو ں سے بچ جا، عابد ہو جائے گا، اللہ نے تیرے لیے جو کچھ مقدر کر دیا ہے اس پر راضی ہو جا غنی ہو جائے گا، پڑوسیوں کے لیے اچھا پڑوسی بن جا مسلمان ہو جائے گا، لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں تو عادل بن جاؤ گے، تم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو زیادہ سے زیادہ مال جمع کرتے تھے، مضبوط و پختہ عمارات بناتے تھے، ان کی آرزوئیں دراز ہوتی تھیں، ان کا جمع کردہ مال تباہ ہوگیا، ان کے اعمال برباد ہوگئے، ان کی عمارات قبروں میں تبدیل ہوگئیں، اے ابن آدم! تیرے پیدا ہونے کے بعد ہی سے تیری عمر گھٹ رہی ہے، اس لیے جو کچھ تیرے پاس ہے آخرت کے لیے خرچ کر، بلاشبہ مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى)(توشۂ آخرت جمع کرو سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے)‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خطبے کی مختصر شرح

ا: یَا ابْنَ آدَمَ عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا۔

(نور الابصار: صفحہ 121)

’’اے ابن آدم! اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ، عابد ہوجائے گا۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے اس قول میں لوگوں کو حرام چیزوں سے بچنے کی تلقین کر رہے ہیں، اور حرام چیزوں سے بچنے والے کو وہ عابد سمجھتے ہیں، محرمات کا ارتکاب انسان کو غافل اور اللہ کے غیظ و غضب اور سزا کا مستحق بنا دیتا ہے، اسی طرح محرمات کا ارتکاب اور اطاعت الہٰی سے غفلت دونوں دنیا و آخرت کے بہت سارے نقصانات و مفاسد کے دو سبب ہیں۔ ابن القیم رحمۃاللہ کا قول ہے:

’’قلت توفیق، فسادِ رائے، حق کا عدم ظہور، دل کا فساد، گمنامی، وقت اور چہرے کی ترو تازگی کا ضیاع، رب اور بندے کے مابین وحشت، دعاؤں کی عدم قبولیت، دل کی سختی، رزق و عمر کی بے برکتی، علم سے محرومی، ذلت، منجانب عدو رسوائی، سینے کی تنگی، دل اور وقت کو خراب کرنے والے برے ساتھیوں سے پالا پڑنا، طویل ہموم و غموم، زندگی کی تنگی اور پراگندہ حالی یہ تمام چیزیں ذکر الہٰی سے غفلت اور معصیت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں، جس طرح کھیتی کا وجود پانی سے اور جلنے کا وجود آگ سے ہے، نیز ان مذکورہ چیزوں کی متضاد چیزیں اطاعت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔‘‘

(الفوائد: صفحہ 32)

معلوم ہوا کہ محرمات سے دوری اطاعتوں کی راہ ہے اور اسی سے مسلمان عابد ہوجاتا ہے، اسی بنا پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا ’’عِفَّ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَکُنْ عَابِدًا‘‘ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچ جا، عابد ہو جائے گا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: صفحہ 121)

ب: و َارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’اللہ نے تیرے لیے جو کچھ مقرر کر دیا ہے اس پر راضی ہوجا، غنی ہو جائے گا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ منجانب اللہ بندے کے لیے مقدر چیزوں پر راضی ہونے اور اس کے استغناء کا باعث ہونے سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں، اللہ سے رضا مندی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کے قضا و قدر کو ناپسند نہ کرے۔

(المفردات للراغب: صفحہ 197)

اس کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ الہٰی قضا و قدر کے خیر و شر پر دل خوش اور نفس مطمئن رہے، قضا و قدر پر ایمان، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اس قسم کی رضا مندی ایمانیات کا اعلیٰ درجہ ہے، اس لیے کہ اس نے دینی مدارج کی اصل کو تھام لیا ہے، یہی ان کی روح و حیات ہے، یہی رضا مندی توکل اور اس کی حقیقت، یقین، محبت اور شکر کی روح، نیز سچی محبت اور شکر کی دلیل ہے،

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 218)

اسی سے اللہ اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق کا دروازہ کھلتا ہے، بلاشبہ حسنِ خلق اللہ کے قضا و قدر پر رضامندی اور سوء خلق عدم رضا مندی کا نتیجہ ہیں، بلکہ بعض علماء نے رضا کی تعریف اللہ کے ساتھ حسنِ خلق سے کی ہے، نیز تعریف کی علت بیان کرتے ہوئے کہا ہے:

’’ایسا اس لیے کہ وہ رضا مندی بندے پر لازم قرار دیتی ہے کہ اللہ کی بادشاہت میں اعتراض نہ کرے، نیز ایسی فضول گفتگو سے بچے جو حسنِ خلق کے منافی ہو، چنانچہ وہ اللہ کے قضا و قدر کو کوئی مذموم نام نہیں دیتا، اس لیے کہ وہ رضا کے منافی ہے۔‘‘

(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 220)

بنا بریں قرآن نے اس رضا پر کافی توجہ دیتے ہوئے اس کے بارے میں کئی آیتوں میں گفتگو کی ہے۔ چنانچہ اللہ کا فرمان ہے:

 رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ۞ (سورۃ التوبة آیت 100)

ترجمہ: ’’اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔‘‘

قرآن کی مذکورہ توجہ اس بات کی دلیل ہے کہ رضا ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات و کائنات اور تشریعات میں اللہ کے قضا و قدر سے متعلق بندہ اللہ کے ساتھ حسنِ خلق سے پیش آئے اور اسے پوری خوشی، اطمینان اور شرح صدر کے ساتھ قبول کرلے، اس میں کسی طرح کی کوئی تنگ دلی نہ محسوس کرے، تدبیرِ کائنات میں اللہ کی حکمت کو جاننے کے باعث کائنات کی تدبیر، عدم و وجود سے متعلق اس کے قضا و قدر پر اعتراض نہ کرے، اور نہ ہی کتاب و سنت میں بندوں کے لیے منجانب اللہ مقرر کردہ تشریعات پر اعتراض کرے، اس لیے کہ یہی سراسر حق اور ہدایت ہے۔

مذکورہ حسنِ خلق سے متصف شخص مذکورہ باتوں کو چاہت کے ساتھ قبول کر لیتا ہے اور ان سے متعلق اللہ کے قضا و قدر پر خوش رہتا ہے، اس لیے کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال، تدبیر اور قضا و قدر میں حکیم ہے،

اپنے بندوں پر مہربان ہے، جو کچھ ان کے لیے کرتا ہے، وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے، چاہے بظاہر انھیں شر معلوم ہو۔

(أخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن والسنۃ: جلد 1 صفحہ 96)

اس سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ مثال اور بہترین نمونے تھے، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے بیان کر دیا ہے کہ نفس، مال، اولاد اور اقارب سے متعلق زندگی میں منجانب اللہ جو پریشانیاں آئیں ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح راضی رہے، اسی طرح مکہ، مدینہ اور طائف میں دعوت الی اللہ کے نتیجے میں اپنی ذات کو لاحق ہونے والی اذیتوں پر مکمل طور سے راضی رہے، اذیتیں اس حد تک پہنچ گئی تھیں کہ آپ کا کام تمام کردینے کی متعدد کوششیں ہوئیں، لیکن کامیاب نہ ہوئیں، آپﷺ نے ان سے صرف ان کے برے ارادے کا اعتراف کرا لیا، پھر انھیں معاف کردیا۔

قلتِ مال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کی پوری انسانیت میں کوئی نظیر نہیں ملتی، چنانچہ آپﷺ دعا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔

(صحیح البخاری: الرقائق: حدیث نمبر 1055)

’’اے اللہ! محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم و جان کا رشتہ برقرار رہ سکے۔‘‘

اسی طرح نرینہ اولاد کے انتقال کے بعد، بڑھاپے میں آپ کے صاحبزادے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ماموں ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، لیکن اٹھارویں مہینے ہی میں انتقال کر جانے پر قضا و قدر سے متعلق آپﷺ کی رضامندی متزلزل نہ ہوئی، بلکہ اس پر اپنی رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:

إِنْ الْعَیْنَ تَدْمَعُ و َالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَ لَا نَقُوْلُ إِلَّا بِمَا یَرْضٰي رَبُّنَا، وَ إِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا إِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2315)

’’بے شک آنکھیں اشک بار ہیں اور دل غمگین ہے، لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کردے اور اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر یقیناً غمزدہ ہیں۔‘‘

آپﷺ کے اعزہ و اقارب آپ کے اور آپ کی دعوت کے دفاع کی راہ میں آپ کے سامنے پچھاڑے گئے، لیکن آپﷺ اس سے تنگ نہ آئے، بلکہ تاریخ میں آتا ہے کہ آپﷺ کے چچا، اللہ و رسول کے شیر، حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید کردیے گئے،

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 3)

ان کا مثلہ کردیا گیا، آپﷺ نے اپنے لیے سب سے زیادہ دردناک منظر دیکھا، دیکھا کہ چچا کا مثلہ کردیا گیا ہے، لیکن آپ نے صرف اتنا کہا:

رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ، إِنْ کُنْتَ مَا عَلِمْتُکَ إِلاَّ وُصُوْلًا لِلرَّحِمِ فَعُوْلًا لِلْخَیْرَاتِ، وَاللّٰہِ لَوْلَا حُزْنٌ مِنْ بَعْدِکَ عَلَیْکَ لَسَرَّنِیْ أَنْ أَتْرُکُکَ حَتَّی یَحْشُرَکَ اللّٰہُ فِیْ بُطُوْنِ السِّبَاعِ۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 592، ابنِ کثیر نے اس کی نسبت بزار کی طرف کی ہے، اور اپنی سند سے اس کو ذکر کرنے کے بعد اس کے بارے میں کہا: اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابن ہشامؒ نے ابن اسحاقؒ سے مرسلاً اپنی سیرت جلد 3 صفحہ 171 میں ذکر کیا ہے۔)

’’اللہ آپ پر رحم فرمائے، بلاشبہ آپ صلہ رحمی کرنے والے، بھلے کاموں کو انجام دینے والے تھے، اللہ کی قسم اگر آپ کے بعد والے آپ پر غم نہ کرتے تو مجھے یہ بات بھی پسند تھی کہ میں آپ کو اس طرح چھوڑ دوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو درندوں کے پیٹ سے اٹھائے۔‘‘

جس طرح آپ ہر حال میں اللہ سے مکمل طور پر راضی برضا تھے، اسی طرح آپ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید رضا مندی اور اس پر ثبات کی توفیق دے۔

(اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 1 صفحہ 100)

چنانچہ آپﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

وَأَسْاَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَائِ، وَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَ لَذَّۃَ النَّظْرِ إِلَی وَجْہِکَ، وَ الشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ ضَرَّائِ مَضَرَّۃٍ، وَ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ، وَاجْعَلْنَا ہُدَاۃً مُہْتَدِیْنَ

(سنن النسائی: باب السہو: جلد 3 صفحہ 55، اس کی سند حسن ہے۔)

’’(اے اللہ) میں تجھ سے قضا و قدر کے بعد رضا، موت کے بعد زندگی کی راحت، تیرے چہرے کے دیدار کی لذت، تجھ سے ملنے کی چاہت کا طلبگار ہوں، میں گمراہ کن فتنے اور نقصان دہ پریشانی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کردے اور ہمیں راہ یافتہ اور رہنما بنا۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اقوال کے ذریعہ سے صرف اپنے اس خلق عظیم کو بیان ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ آپﷺ اس کی اہمیت کو بیان کرتے، اس پر عنداللہ اجر عظیم اور ثواب جزیل کو واضح کرتے تاکہ اپنی امت کو اس پر آمادہ کریں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَالَ حِیْنَ یَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَ أَنَا أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وسلم نَبِیًّا وَّ رَسُوْلًا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا غَفَرَلَہُ ذَنْبَہُ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 386)

’’جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ سے بحیثیت رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت نبی و رسول اور اسلام سے بحیثیت دین راضی ہوگیا، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘

یہ بات قابلِ غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اس دعا کو دن میں پانچ مرتبہ پیش آنے والے معاملات سے جوڑ دیا ہے تاکہ یہ دعا اور اس کا مفہوم مسلمان مردوں اور عورتوں کے ذہنوں میں رچ بس جائے۔ نیز فرمان نبویﷺ ہے:

ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وسلم رسولا۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2758)

’’جو اللہ سے بحیثیت رب، اسلام سے بحیثیت دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت رسول راضی ہوگیا، اسے ایمان کی چاشنی مل گئی۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حدیثوں میں اللہ سے رضامندی کے اس خلقِ عظیم کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ خلقِ عظیم گناہوں کی مغفرت کا سبب، اور ایمان کی مٹھاس پانے کا باعث ہے، ایسا اس لیے کہ اس خلقِ عظیم سے متصف شخص کو یقین ہوتا ہے کہ اسے جو کچھ ملنا ہے مل کر رہے گا، اور جو کچھ نہیں ملنا ہے نہیں ملے گا، اس کے لیے اللہ کی تدبیر، اس کی تدبیر سے بہتر ہے، آرام ہو یا تکلیف بہرصورت وہ اس دنیا میں چین کی زندگی بسر کرتا ہے، آسانی و پریشانی ہر ایک کو منجانب اللہ سمجھتے ہوئے ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا ہے، انسان کے لیے دنیا میں ایسی زندگی سے زیادہ راحت بخش اور کون سی چیز ہوسکتی ہے؟ 

(أخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 1 صفحہ 101)

اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس خلق عظیم پر زبان حال و مقال سے ابھارتے ہوئے فرمایا:

وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: 121)

’’اللہ کی مقدر کردہ چیزوں پر راضی ہوجا، مالدار ہو جائے گا۔‘‘

ج: ان کا قول:

وَ أَحْسِن جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’پڑوسیوں کے ساتھ اچھا پڑوسی بن جا، مسلمان ہوجائے گا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو اچھا پڑوسی بننے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک پڑوسی کا دوسرے پڑوسی پر بہت بڑا حق ہے، فرمان الہٰی ہے:

وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ ۞(سورۃ النساء آیت 36)

ترجمہ: اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، 

نیز فرمان نبوی ہے:

مَازَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّہُ سَیُوْرَثُہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6015)

’’مجھے جبریل ( علیہ السلام ) پڑوسی کے ساتھ برابر حسن سلوک کی تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت میں(بھی) شریک ٹھہرا دیں گے۔‘‘

اسلام میں پڑوسی کے بہت سارے حقوق و آداب ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

 کسی بھی قول و عمل سے پڑوسی کو تکلیف نہ دینا، چنانچہ فرمان نبویﷺ ہے:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہُ۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6018)

’’جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘

اس لیے انسان پر واجب ہے کہ وہ قول یا فعل یا اشارے سے پڑوسی کو تکلیف دینے سے بچے، اس کو تکلیف دینا ہر حال میں حرام ہے۔

ہمیشہ اور ہر ممکنہ صورت میں اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی جَارِہِ وَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَ مَنْ کَانَ یَؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَسْکُتْ

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 48)

’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ کلمۂ خیر کہے یا پھر خاموش رہے۔‘‘

اسلام میں پڑوسی کی عظیم اہمیت کے پیشِ نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اور یوم آخرت پر سچے ایمان کو پڑوسی کے حسن سلوک کے ساتھ جوڑا ہے، اگر ہم اپنے معاشرے میں پڑوسیوں کے ساتھ اس تعلیم نبویﷺ پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارے معاشرے باہمی تعاون کی جیتی جاگتی مثال بن جائیں اور لوگ اچھی زندگی بسر کرنے لگیں۔

 پڑوسی کی تکلیف کو برداشت کرنا اور اس پر صبر کرنا، اس لیے کہ حسن جوار صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو تکلیف دینے سے باز رہا جائے بلکہ اس کی تکلیف کو بھی برداشت کیا جائے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی ایذا رسانی کو برداشت کرتے ہوئے اس پر صبر کرے، اس کا بدلہ احسان سے دے، اس طریقے سے وہ شیطان کا دروازہ بند کردے گا۔

 اسے کھانا کھلا کر بالخصوص جب وہ فقیر ہو اس کی غم خواری کرنا، فرمان نبویﷺ ہے:

لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَ جَارُہُ جَائِعٌ جَنْبَہُ۔

(المستدرک: جلد 4 صفحہ 167، السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 148)

’’ایسا شخص مومن نہیں جو پیٹ بھر کھائے اور اس کے بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔‘‘

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا طَبَخَ أَحَدُکُمْ قِدْرًا فَلْیُکْثِرَ مَرَقَہَا، ثُمَّ لْیُنَاوِلْ جَارَہُ مِنْہَا۔

(مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 165، صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 676)

’’جب کوئی سالن تیار کرے تو اس کا شوربہ بڑھا دے، پھر اس میں سے اپنے پڑوسی کو بھی دے۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَ لَوْ فِرْسَنَ شَاۃٍ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1030)

’’اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کوئی ہدیہ کم تر نہ سمجھے اگرچہ وہ (ہدیہ) بکری کا کھر ہی ہو۔‘‘

ہر مسلمان کو چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اعلیٰ تعلیم کا خیال رکھے، اس میں کوتاہی نہ کرے، اس کا پڑوسی پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے مسلم معاشرے کے افراد باہم ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

(موسوعۃ الآداب الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 299)

حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حتیٰ الامکان پڑوسی کے لباس، دوا وغیرہ جیسی ضروریات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اس کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، جب پڑوسی کے یہاں کوئی ایسا خوشی کا موقع ہو جس میں معصیت نہ ہو، تو اس کے یہاں جاکر اس کی خوشی میں شریک ہونا چاہیے، نیز اس کے یہاں اگر کوئی غمی کا موقع ہو تو اس کے یہاں جاکر اس کی غمی میں شریک ہونا چاہیے، اچھی باتوں سے اس کی غمخواری کرنی چاہیے، اسے ڈھارس بندھانی چاہیے، یہ سب ایک مسلمان کے حقوق ہیں جو اس کے مسلمان بھائی پر عائد ہوتے ہیں، اور پڑوسی ان حقوق کا زیادہ حقدار ہے۔

 جب گھر بیچ کر دوسری جگہ جانا چاہے تو پہلے پڑوسی سے گھر بیچنے کی بات کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ اسے خریدنا چاہے، یہی معاملہ زمین یا کسی بھی غیر منقولہ جائداد کا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَیْعَہَا فَلْیَعْرِضْہَا عَلَی جَارِہِ۔

(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 2493، صحیح سنن ماجہ: حدیث نمبر 2022)

’’جو اپنی کوئی زمین بیچنا چاہے تو چاہیے کہ وہ اس کے بیچنے کی بات (پہلے) اپنے پڑوسی سے کرے۔‘‘

یہ اس کی دل جوئی کی ایک اچھی شکل ہے، اس سلسلے میں اگر لوگ کوتاہی کریں گے تو باہمی عداوت، نزاع اور جھگڑوں کا دروازہ کھولیں گے۔

 اپنی دیوار میں پڑوسی کو کھونٹی گاڑنے سے منع نہ کرے، پڑوسی کو جب اس کی ضرورت ہو تو اس کو اس کی اجازت دے دے، فرمان نبویﷺ ہے:

لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَّغْرِسَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہٖ۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 2463)

’’کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے۔‘‘

پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَا لِیْ أَرَاکُمْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ وَاللّٰہِ لَأُرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔

’’کیا وجہ ہے کہ (اس فرمان نبویﷺ کے باوجود) میں تمھیں اس حکم سے منہ پھیرتے ہوئے دیکھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اس کو تمھارے کندھوں کے درمیان پھینک کے رہوں گا۔‘‘

یعنی میں اسے تمھارے درمیان ضرور بیان کروں گا چاہے وہ بات تمھیں کتنی ہی بری کیوں نہ لگے اور تمھارے لیے باعث تکلیف ہو۔

( موسوعۃ الآداب الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 301)

حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ پڑوسی کو جس طرح کا بھی تعاون درکار ہو دوسرے پڑوسی کو وہ تعاون کرنا چاہیے بشرطیکہ اس میں اس کا نقصان نہ ہو۔

 پڑوسی کی عزت و آبرو کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا، اس کا راز فاش کر کے، اس کی عزت کو برباد کرکے، اس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرکے اس کی خیانت نہ کرنا، اس لیے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ، قِیْلَ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِی حَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 86)

’’تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردو کہ وہ تمھارے ساتھ کھائے گی، پوچھا گیا پھر کون سا؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو۔‘‘

بلکہ چاہیے کہ ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کی ذات، مال و دولت، عزت و آبرو کی حفاطت کرے، تاکہ اس سے اس کا پڑوسی بے خوف رہے، فرمان نبویﷺ ہے:

وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، قِیْلَ: وَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَلَّذِیْ لَا یَأْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6016)

’’اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول کون؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘

یعنی اس کی غداری اور خیانت سے، 

(موسوعۃ الآداب الإسلامیہ: جلد 1 صفحہ 301)

اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے وعظ اور تقریروں میں لوگوں کو پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور حسن جوار کی تلقین کیا کرتے تھے، آپ نے فرمایا:

وَأَحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: صفحہ 121)

’’اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا پڑوسی بن جا، مسلمان ہو جائے گا۔‘‘

د: ان کا قول

وَ صَاحِبِ النَّاسِ بِمِثْلِ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا۔

’’لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں، تو عادل بن جاؤ گے۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو عدل و انصاف اپنانے اور ظلم سے بچنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ عدل وانصاف ایک اچھی عادت و خصلت ہے، جو نفس مطمئنہ، وسیع نظر اور دور رس نگاہ کا پتہ دیتی ہے، اس سے اصحابِ حقوق کے حقوق پورے پورے مل جاتے ہیں، عدل پسند حضرات اور اچھی سیاست والے ان حقوق کو دلواتے ہیں۔

(الاخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 228)

لوگوں کے عدل و انصاف کے بارے میں ابن القیم رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’تم لوگوں کے حقوق ادا کرو، ان سے ایسی چیزوں کا مطالبہ نہ کرو جن کے تم مستحق نہیں ہو، انھیں ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہ کرو، ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمھارے ساتھ کریں، اور جیسا بدلہ تم پسند کرتے ہو ویسا ہی بدلہ انھیں دو، اور اپنے مفاد میں یا اپنے خلاف جیسا فیصلہ کرتے ہو ویسا ہی فیصلہ ان کے ساتھ کرو۔‘‘

(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 407، معمولی تصرف کے ساتھ)

عدل و انصاف دو لازم و ملزوم چیزیں ہیں، جس کا فائدہ یہ ہے کہ انسان فضائل کے حصول اور رذائل سے اجتناب کے ذریعہ سے عالی ہمت اور بری الذمہ ہوجائے۔

(التوفیق علی مہمات التعریف للمناوی: صفحہ 64)

اللہ تعالیٰ نے ہمیں انصاف کا حکم دیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ کفار کا بغض و عناد ہمیں ان کے خلاف عدم انصاف پر آمادہ کردے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا‌  اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ المائدة آیت 8)

ترجمہ: اے ایمان والو! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’جب اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کردیا کہ کفار کا بغض و عناد مومنوں کو خلاف عدل پر آمادہ کرے تو اہل ایمان میں سے کسی فاسق، بدعتی اور تاویل کرنے والے کے بغض کا معاملہ ہی دوسرا ہوگا، وہ بدرجۂ اولیٰ کسی مومن کو خلاف عدل پر آمادہ نہیں کرے گا۔‘‘

(الإستقامۃ: جلد 1 صفحہ 38)

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں:

’’یعنی کسی قوم سے بغض تمھیں ترک عدل پر آمادہ نہ کرے، ہرحال میں ہر شخص کے لیے ہر شخص پر عدل کرنا واجب ہے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 7)

فرمان الہٰی ہے:

وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا‌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 2)

ترجمہ:  اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (ان پر) زیادتی کرنے لگو 

ابوعبیدہ اور فراء کا قول ہے کہ کسی قوم کا بغض تمھیں حق چھوڑ کر باطل اختیار کرنے اور عدل چھوڑ کر ظلم کرنے پر آمادہ نہ کرے۔

(تفسیر القرطبی: جلد 6 صفحہ 45)

انسان عدل و انصاف سے متصف ہو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ یہ ان اللہ والوں کی صفت ہے جو صرف حق چاہتے ہیں۔

(الأخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 229)

ابن القیم رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

و تعر من ثوبین من یلبسہما یلق الردی بمذمۃ وہو ان

’’ایسے دو کپڑوں کو مت پہن، جنھیں جو بھی پہنتا ہے ذلیل اور رسوا ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے۔‘‘

ثوب من الجہل المرکب فوقہ ثوب التعصب بئست الثوبان

’’جہل مرکب کا کپڑا، اس پر تعصب کا کپڑا، یہ دونوں ہی کپڑے نہایت برے ہیں۔‘‘

و تحل بالإنصاف أفخر حلۃ زینت بہا الأعطاف و الکتفان

’’انصاف کا مایۂ ناز جوڑا پہن، جس سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے۔‘‘

متنبی کا قول ہے:

و لم تزل قلۃ الإنصاف قاطعۃ بین الرجال و لوکانوا ذوی رحم

’’قلت انصاف لوگوں کے تعلقات کو خراب کر دیتی ہے چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

بندوں کا انصاف یہ ہے کہ وہ اموال، معاملات، دلائل اور مقالات میں انصاف سے کام لیں، جو لوگوں کو چیزیں کم تول کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور انھیں ہلاکت و نقصان کی دھمکی دی ہے، چنانچہ فرمایا ہے:

وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ ۞ الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَ۞ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوْ وَّزَنُوۡهُمۡ يُخۡسِرُوۡنَ۞(سورۃ المطففين آیت 1 تا 3)

ترجمہ: بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں۔ اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں۔

یہ آیت بتا رہی ہے کہ انسان اموال و معاملات میں جس طرح دوسرے لوگوں سے اپنے حقوق کو مکمل طور پر لیتا ہے اسی طرح اس پر ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی ان کے پورے حقوق دے، بلکہ اس آیت کے عموم میں دلائل و مقالات بھی داخل ہیں، جیسے دو مناقشہ و مناظرہ کرنے والے ہوں تو عادتاً ان میں سے ہر ایک جس طرح اپنے دلائل کا حریص ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے فریق مخالف کے دلائل کو بیان کرے جنھیں وہ نہیں جانتا، نیز فریق مخالف کے دلائل پر بھی غور و فکر کرے، جیسے وہ پنے دلائل پر کرتا ہے، ایسے ہی موقع پر انسان کے انصاف اور تعصب، تواضع اور کبر، عقلمندی و بیوقوفی کا پتہ چلتا ہے۔

(تفسیر سعدی: صفحہ 915)

تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قول کیا ہی عمدہ ہے:

وَصَاحِبِ النَّاسَ بِمِثْلِ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہوکہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں تو عادل بن جاؤ گے۔

ھ: حسن رضی اللہ عنہ کا قول:

إِنَّہُ کَانَ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ قَوْمٌ یَجْمَعُوْنَ کَثِیْرًا وَ یَبْنُوْنَ مَشِیْدًا وَ یَأْمُلُوْنَ بَعِیْدًا، اَصْبَحَ جَمْعُہُمْ بُوْرًا، وَ عَمَلُہُمْ غَرُوْرًا وَ مَسَاکِنُہُمْ قُبُوْرًا، یَاابْنِ آدَمَ إِنَّکَ لَمْ تَزَلْ فِیْ ہَدْمِ عُمُرِکَ مَنْذُ سَقَطْتَّ مِنْ بَطْنِ أُمِّکَ، فَجُدَّ بِمَا فِیْ یَدِکَ لِمَا بَیْنَ یَدَیْکَ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یَتَزَوَّدُ وَ الْکَافِرُ یَتَمَتَّعُ وَ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

((إنہ کان بین أیدیکم قوم یجمعون کثیرا و یبنون مشیدا و یأملون بعیدا، أصبح جمعہم بورا، و عملہم غرورا و مساکنہم قبورا، یا ابن آدم إنک لم تزل فی ہدم عمرک منذ سقطت من بطن أمک، فجد بما فی یدک لما بین یدیک فإن المومن یتزود، والکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

’’تم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو زیادہ سے زیادہ مال جمع کرتے تھے، مضبوط اور پختہ عمارات بناتے تھے، ان کی آرزوئیں دراز ہوتی تھیں، ان کا جمع کردہ مال تباہ ہوگیا، ان کے اعمال برباد ہوگئے، ان کی عمارات قبروں میں تبدیل ہوگئیں، اے ابن آدم! تیرے پیدا ہونے کے بعد ہی سے تیری عمر گھٹ رہی ہے، اس لیے جو کچھ تیرے پاس ہے آخرت کے لیے خرچ کر، بلاشبہ مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے)‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کا حال بیان کر رہے ہیں، جو دنیا اور اس کی زینت میں ڈوبے ہوئے تھے، مال جمع کرنے اور عمارات بنانے میں مشغول تھے، طولِ امل کی بیماری میں مبتلا تھے، یہی اکثر لوگوں کا حال ہے، موت اچانک آ جاتی ہے، وہ اپنے جمع کردہ مال سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے، ان کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، ان کی عمارات خالی ہو جاتی ہیں۔

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ لوگوں کو دنیا کے اس دھوکے سے آگاہ کر رہے ہیں، دنیا سے بے رغبتی پر آمادہ کر رہے ہیں، دنیا و آخرت کے مابین تفاوت پر یقین کرکے ہی زہد حاصل ہوتا ہے، فرمان الہٰی ہے:

قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ (سورۃ النساء آیت 77)

ترجمہ: کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ایک دھاگے گے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔

قرآن مومن کو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے اور آخرت سے تعلق قائم کرنے پر ابھارتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بتایا ہے کہ کفار دنیا کی زینت اور اس کی چمک دمک سے فریب خوردہ ہیں۔ فرمایا: 

زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞ (سورۃ البقرة آیت 212)

ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے، اور وہ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

’’جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے، ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام پر ہوں گے، رہا دنیا کا رزق، تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب دے۔‘‘

قرآن مجید نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا حقیر شے ہے، انسان کو اس میں مشغول ہو کر آخرت سے غافل نہیں ہونا چاہیے، چنانچہ فرمان الہٰی ہے:

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُ۞ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ۞ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ۞ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ۞ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ۞ لَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَ۞ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ۞ ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ ۞ (سورۃ التكاثر آیت 1 تا 8)

ترجمہ: ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔ہرگز نہیں! اگر تم یقینی علم کے ساتھ یہ بات جانتے ہوتے (تو ایسا نہ کرتے) یقین جانو تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ پھر یقین جانو کہ تم اسے بالکل یقین کے ساتھ دیکھ لو گے۔ پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا) 

یعنی دنیا، اس کی نعمتیں اور اس کی چمک دمک نے تمھیں طلبِ آخرت سے غافل کردیا ہے، تمھاری یہی حالت باقی رہی تاآنکہ تمھاری موت آ پہنچی اور تم قبر تک جاپہنچے اور اس میں دفن کردیے گئے۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین لأبی سعید البعری: صفحہ 9)

امام احمدؒ نے عبداللہ بن شخیر کی حدیث کو روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں:

اِنْتَہَیْتُ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم وَ ہُوَ یَقُوْلُ: (ألٰہکم التکاثر) قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ: مَا لِیْ مَالِیْ، قَالَ وَہَلْ لَکَ یَا ابْنَ اٰدَمَ مِنْ مَالِکَ، إِلَّا مَا أَکَلْتَ فَأَفْنَیْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَیْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَیْتَ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2958)

’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ الٰہکم التکاثر(تمھیں زیادتی کی چاہت نے غافل کردیا) کی تلاوت کر رہے تھے، پھر آپﷺ نے فرمایا: انسان کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔

حالاں کہ اے انسان تیرا مال (ایک تو وہ ہے) جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا (دوسرا) پہن کر بوسیدہ کردیا یا (تیسرا) صدقہ کرکے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ مَالِیْ، وَ إِنَّ مَالَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنَی، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَی، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَی، فَمَا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ فَذَاہِبٌ وَ تَارِکْہُ لِلنَّاسِ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2959)

’’بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، جب کہ اس کا مال صرف تین ہے، جو کھا کر ختم کردیا، پہن کر بوسیدہ کردیا، صدقہ کرکے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ سب مال ختم ہونے والا اور (صاحب مال) اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔‘‘

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَتَّبِعُ الْمَیْتَ ثَلَاثَۃٌ فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَ یَبْقَی مَعَہُ وَاحِدٌ، یَتَّبِعُہُ أَہْلُہُ وَمَالُہُ وَ عَمَلُہُ فَیَرْجِعُ أَہْلُہُ وَ مَالُہُ وَیَبْقَی عَمَلُہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6514)

’’تین چیزیں میت کے پیچھے جاتی ہیں، دو واپس آجاتی ہیں ایک اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہے، اس کے گھر والے، ا س کا مال (غلام، نوکر چاکر) اور اس کا عمل، پھر اس کے گھر والے اور اس کا مال (نوکرچاکر) واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ ہی باقی رہ جاتا ہے۔‘‘

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَہْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَ تَبْقٰی مَعَہُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1047)

’’انسان بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے تب بھی اس کے ساتھ دو چیزیں رہ جاتی ہیں، حرص اور آرزو۔‘‘

احنف بن قیس رحمۃاللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا: یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا: میرا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ تمھارا ہوگا جب تم اسے ثواب کے لیے یا شکر ادا کرنے کے لیے خرچ کر دو گے، پھر شاعر کا یہ شعر پڑھ کر سنایا:

أنت للمال إذا أمسکتہ فإذا أنفقتہ فالمال لک

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 10)

’’تم مال کے ہوتے ہو جب تک تم اسے بچاتے رہتے ہو، جب اسے خرچ کردیتے ہو تو وہ مال تمھارا ہو جاتا ہے۔‘‘

فرمان الہٰی ہے

ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ ۞  (سورۃ التکاثر آیت 8)

ترجمہ: پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا) 

یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں تندرستی، امن اور رزق وغیرہ کی جو نعمتیں دی ہیں ان کے شکریہ کے بارے میں تم سے اس دن ضرور سوال ہوگا۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 10)

فرمان الہٰی ہے

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۞ وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞ (سورۃ طه آیت 131، 132)

ترجمہ: اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔ اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقویٰ ہی کا ہے۔

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں

’’ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ تک، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں، یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انھیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں، حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے، ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔‘‘

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے، جو ہاتھ لگتا اسے فی سبیل اللہ تقسیم کر دیتے، اور اپنے لیے کچھ بھی محفوظ نہ رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یَفْتَحُ اللّٰہُ لَکُمْ مِنْ زَہْرَۃِ الدُّنْیَا قَالُوْا: وَ مَا زَہْرَۃُ الدُّنْیَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: بَرَکَاتُ الْاَرْضِ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6427)

’’مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے جب اللہ تعالیٰ تمھارے قدموں میں دنیا کی آرائش کے سامان ڈال دے گا، لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! دنیا کی آرائش کے سامان کیا ہیں؟آپﷺ نے فرمایا: زمین کی برکتیں۔‘‘

قتادہ و سدی کا قول ہے کہ زہرۃ الحیاۃ سے مراد دنیاوی زندگی کی زینت ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ’’لنفتنہم فیہ‘‘سے مراد ہے: ’’تاکہ ہم انھیں آزمائیں۔‘‘ فرمان الٰہی: (وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا)کا مطلب ہے اپنے گھروالوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الہٰی سے بچ جائیں اور خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

قُوْٓا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا(سورۃ التحریم آیت 6)

ترجمہ: اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچا لو۔

فرمان الہی: (لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ)کا مطلب یہ ہے: نماز کی پابندی کرلو، اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب وخیال میں بھی نہ ہو گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا ۞وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌۞ (سورۃ الطلاق آیت 2، 3)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ)

امام ثوریؒ کا قول ہے: ’’لَا نَسْأَلُکَ رِزْقًا‘‘ کا مطلب ہے ہم تمھیں طلبِ رزق کی تکلیف نہیں دیتے ہیں۔ ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

وکانت الأنبیاء إذا نزل بہم أمر فزعوا إلی الصلاۃ۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 11)

’’انبیاء کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو وہ نماز کا رخ کرتے۔‘‘

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:

مَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ہَمَّہُ فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ أَمْرَہُ وَ جَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَ لَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا مَا کَتَبَ لَہُ، وَ مَنْ کَانَتِ الْآخِرَۃُ نِیَّتَہُ جَمَعَ لَہُ أَمْرَہُ وَ جَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہِ وَ أَتَتْہُ الدُّنْیَا وَ ہِیَ رَاغِمَۃٌ۔

(سنن ابن ماجۃ: حدیث نمبر 4105، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

’’دنیا کے غموں میں ہی، اس کی فکروں میں ہی گتھ جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنالے گا اور اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہر کام میں اطمینان نصیب فرما دے گا، اس کے دل کو مالدار کر دے گا، اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔‘‘

فرمان الہٰی ’’وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی‘‘ کا مطلب ہے دنیا و آخرت کا بہترین انجام جنت متقیوں کے لیے ہے۔

(ففروا إلی اللہ لأبی ذر القلمونی: صفحہ 62 نقلا عن تفسیر ابن کثیر)

وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: اِضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم عَلَی حَصِیْرٍ، فَأَثَّرَہُ فِیْ جَنْبِہِ فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ عَنْہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَ لَا آذَنْتَنَا فَبَسَطْنَا شَیْئًا یَقِیْکَ مِنْہُ فَتَنَامُ عَلْیِہ فَقَالَ: مَالِیْ وَ لِلدُّنْیَا، مَا أَنَا وَ الدُّنْیَا إِلَّا کَرَاکِبٍ سَارَ فِیْ یَوْمٍ صَائِفٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ تَرَکَہَا۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2377، علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، صحیح الجامع: حدیث نمبر 5668)

’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) ایک چٹائی پر سوئے جس سے آپﷺ کے پہلو میں(چٹائی کے) نشان پڑ گئے، جب آپﷺ بیدار ہوئے تو میں اس پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں نہیں خبر دی ہم کوئی چیز بچھا دیتے، جو نشان نہ پڑنے دیتی اور آپﷺ سوتے، آپﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کچھ مطلب نہیں، میری اور دنیا کی مثال ایک مسافر کی ہے جو کسی گرم دن میں سفر کرتے ہوئے کسی درخت کے نیچے قیلولہ کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے تھے، چنانچہ وہ سب بھی دنیا سے حد درجہ بے رغبت، اور آخرت کا حد درجہ خیال رکھنے والے تھے، ان کی نگاہوں میں دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی چیز تھی، دنیا سے اتنا ہی لیا جتنا ایک مسافر زاد سفر لیتا ہے، ان کے دل و نگاہ میں صرف آخرت کا تصور رہتا تھا، انھیں معلوم تھا کہ اس چند روزہ دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے اس کے لیے انھوں نے بہت کم مشقت اٹھائی، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہوا، اللہ کی محبوب چیزیں انھیں پسند اور اس کی مبغوض چیزیں ناپسند تھیں۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تابعین سے کہا: تمھارے اعمال صحابہ کرامؓ سے زیادہ ہیں، لیکن وہ تم سے بہتر تھے، وہ دنیا سے حد درجہ بے رغبت اور آخرت سے سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے تھے، چنانچہ بعض تابعین صحابہ سے زیادہ تہجد گزار، روزے دار اور عبادت گزار تھے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان پر سبقت حاصل ہے، اس لیے کہ ان میں زہد، یقین اور اللہ پر توکل زیادہ تھا، بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہد کو سیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مہینوں کی مدت میں تین چاند گزر جاتے تھے، اور آپ کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6567، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2972)

و: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

فإن المومن یتزود و الکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ) (سورۃ البقرۃ آیت 197)

’’مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے۔)‘‘

اس آیت میں تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے اور ثواب کی امید کی جائے، اسی کے بتانے کے مطابق اس کی معصیت سے بچا جائے اور اس کے عذاب سے ڈرا جائے، بندے سے مطلوب یہ ہے کہ اس کا صرف اللہ تعالیٰ سے قلبی لگاؤ ہو، اسی سے محبت کرے، اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرے، منجانب اللہ متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں کی چاہت رکھے، اس کی ناراضی، سزا اور عذاب سے ڈرتا رہے، تقویٰ کے بہت سارے اچھے نتائج ہیں، جن کی ہر مسلمان کو ضرورت ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ ہر پریشانی سے چھٹکارا اور بے سان و گمان جگہ سے روزی، فرمان الہٰی ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا ۞وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌۞ (سورۃ الطلاق آیت 2، 3)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔

2۔ علم نافع عطا کرنا، فرمان الہٰی ہے:

(وَاتَّقُوا اللّٰـهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ) (البقرۃ:۲۸۲)

’’اور اللہ سے ڈرو، اللہ تعالیٰ تمھیں تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

3۔ نورِ بصیرت عطا کرنا، فرمان الہٰی ہے:

 اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا ۞ (سورۃ الأنفال آیت 29)

ترجمہ: اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا۔

4۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کی محبت اور روئے زمین میں قبولیت، فرمان الہٰی ہے:

بَلٰى مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞(سورۃ آل عمران آیت 76)

ترجمہ: بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِیْلَ، قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّہُ، فَیُحِّبُّہُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، ثُمَّ یُنَادِیْ فِیْ أَہْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللّٰہَ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوْہُ فَیَحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَائِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقُبُوْلُ فِی الْاَرْضِ۔

(صحیح مسلم: کتاب البر و الصلۃ: حدیث نمبر 6937)

’’جب اللہ تعالیٰ بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام کو بتلاتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں(فرشتوں) میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر اس شخص کے لیے زمین میں بھی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (یعنی اہل زمین میں بھی وہ مقبول اور محبوب ہو جاتا ہے)‘‘

5۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید، یہی اس معیت کا مفہوم ہے جو اس آیت میں مذکور ہے:

وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 194)

ترجمہ: اور اچھی طرح سمجھ لو اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔ 

چنانچہ یہ معیت نصرت و تائید کی معیت ہے یہی انبیاء، اولیاء اور متقیوں کے ساتھ اللہ کی معیت ہے، اور وہ نصرت و تائید، مدد اور حفاظت کو مستلزم ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون علیہم السلام سے فرمایا:

قَالَ لَا تَخَافَآ‌ اِنَّنِىۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ۞ (سورۃ طه آیت 46)

ترجمہ: اللہ نے فرمایا: ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں، اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

معیت عامہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کیا ہے:

وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ‌ ۞ (سورۃ الحديد آیت 4)

ترجمہ: اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمھارے ساتھ ہے۔

يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ۞  (سورۃ النساء آیت 108)

ترجمہ: یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں، اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ 

معیت عامہ بندے سے ڈر، خوف اور اللہ کے مراقبے کا مطالبہ کرتی ہے۔

6۔ آسمان و زمین کی برکتیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 96)

ترجمہ: اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ 

7۔ دنیاوی زندگی میں نیک خوابوں، لوگوں کی تعریف اور محبت کی بشارت، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞(سورۃ يونس آیت 62 تا 64)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقویٰ اختیار کیے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر متقیوں کو بشارت دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:

اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ مِنَ اللّٰہِ

(صحیح البخاری: کتاب الرؤیا: حدیث نمبر 6989)

’’نیک خواب منجانب اللہ ہوتا ہے۔‘‘

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:

لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الْمُبَشَّرَاتُ قَالُوْا: وَ مَا الْمُبَشَّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6990

’’نبوت کے حصوں میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں، صحابہ کرامؓ نے پوچھا: مبشرات (خوشخبری دینے والے) سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نیک خواب۔‘‘

وَعَنْ أَبِیْ ذَرٍّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم اَلرَّجُلُ یَعْمَلُ الْعَمَلَ لِلّٰہِ وَ یُحِبُّہُ النَّاسُ فَقَالَ: تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرٰی الْمُوْمِنِ

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 2034)

’’ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آدمی اللہ کے لیے نیک عمل کرتا ہے، اور لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا یہ مومن کے لیے پیشگی خوش خبری ہے۔‘‘

ہم نے بہت سارے اللہ والوں کو دیکھا ہے کہ لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔

8۔ دشمنوں کے مکر و فریب سے حفاظت، فرمان الہٰی ہے:

وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 120)

ترجمہ: اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ اللہ پر توکل، تقویٰ اور صبر اختیار کرکے فاجروں کے مکر و فریب اور دشمنوں کی برائی سے بچو۔ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی ہر ہر حرکت سے واقف ہے، کسی شر سے بچنے اور کسی نیکی کو کرنے کی توفیق صرف اللہ کی ذات سے مل سکتی ہے، جو چاہا وہ ہوا، جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔

(تفسیر القرآن العظیم: جلد 1 صفحہ 329)

9۔ اللہ کی عنایت سے کمزور اہل و عیال کی حفاظت، فرمان الہٰی ہے:

وَلۡيَخۡشَ الَّذِيۡنَ لَوۡ تَرَكُوۡا مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَيۡهِمۡ فَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡيَقُوۡلُوا قَوۡلًا سَدِيۡدًا‏ ۞ (سورۃ النساء آیت 9)

ترجمہ: اور وہ لوگ (یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے) ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ کر جائیں تو ان کی طرف سے فکر مند رہیں گے۔ لہٰذا وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔

آیت میں ان لوگوں کو جنہیں ناتواں بچوں کو چھوڑنے کا خوف ہوتا ہے تمام معاملات میں تقویٰ اختیار کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ ان کے بچے محفوظ ہو جائیں، اللہ کی حفاظت اور دیکھ ریکھ میں داخل ہو جائیں، اور اس بات کی دھمکی ہے کہ اگر وہ تقویٰ ترک کر دیں گے تو ان کے بچے ضائع ہو جائیں گے، نیز اس جانب اشارہ ہے کہ اصول کا تقویٰ فروع کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، نیز یہ کہ نیک لوگوں کے بچوں کی حفاظت کی جاتی ہے، جیسا کہ اس آیت سے پتہ چلتا ہے:

وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا۞( سورۃ الكهف آیت 82)

ترجمہ: رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ 

چنانچہ دونوں بچوں کی جان اور مال اپنے باپ کی برکت سے محفوظ رہا۔

(محاسن التأویل للقاسمی: جلد 5 صفحہ 47)

10۔ تقویٰ ان اعمال کی قبولیت کا سبب ہے جن میں دنیا و آخرت کی نیک بختی ہے، فرمان الہٰی ہے:

 اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ المائدہ آیت 27)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔

11۔ تقویٰ دنیا کے عذاب سے نجات کا باعث ہے۔ فرمان الہٰی ہے:

وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰى عَلَى الۡهُدٰى فَاَخَذَتۡهُمۡ صٰعِقَةُ الۡعَذَابِ الۡهُوۡنِ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‌۞وَ نَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ۞ (سورۃ فصلت آیت 17، 18)

ترجمہ: رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور تقویٰ اختیار کیے ہوئے تھے ان کو ہم نے نجات دے دی۔

12۔ گناہوں کو مٹا دینا جو عذاب جہنم سے نجات کا باعث ہے، نیز زیادہ ثواب دینا جو جنت میں اعلیٰ مقام ملنے کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا‏۞ (سورۃ الطلاق آیت 5)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

13۔ جنت کی وراثت، چنانچہ متقی حضرات ہی جنت کے اہل اور اس کے زیادہ حقدار ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھی کے لیے جنت کو تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

تِلۡكَ الۡجَـنَّةُ الَّتِىۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا‏ ۞(سورۃ مريم آیت 63)

ترجمہ: یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

وہی اللہ کی جنت کے قانونی وارث ہیں، وہ جنت تک پیدل چل کر نہیں جائیں گے، بلکہ انھیں سوار کرکے لے جایا جائے گا، ساتھ ہی ساتھ ان کی مشقت کو ختم کرنے اور ان کا استقبال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کو ان سے قریب کردے گا۔ فرمان الہٰی ہے:

وَاُزۡلِفَتِ الۡجَـنَّةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ۞ (سورۃ ق آیت 31)

ترجمہ: اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا‌ ۞ (سورۃ مريم آیت 85)

ترجمہ: (اس دن کو نہ بھولو) جس دن ہم سارے متقی لوگوں کو مہمان بنا کر خدائے رحمٰن کے پاس جمع کریں گے۔

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں، اس لیے کہ وہ اس بات کے حریص تھے کہ مسلمانوں کو دنیا و آخرت میں تقویٰ کے یہ مذکورہ فوائد حاصل ہوں، اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا:

(فإن المومن یتزود و الکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور البصار: صفحہ 121)

’’مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پھر سیدنا حسنؓ نے اس آیت کی تلاوت کی (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے۔)‘‘