عطیہ اور فضیل شیعہ راوی، بدعت کی قسمیں - سنی شیعہ مناظرے |…

عطیہ اور فضیل شیعہ راوی، بدعت کی قسمیں

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

عطیہ اور فضیل شیعہ راوی، بدعت کی قسمیں

شیعہ مناظر: معاویہ صاحب یہ میزان الاعتدال کا اردو میں سکین دے رہا ہوں جس میں بدعت کے بارے میں وضاحت کی ہے۔


شیعہ مناظر کو یہ تک معلوم نہیں کہ اصول کسی ایک عالم یا محقق کی رائے سے نہیں بنتا بلکہ کئی علمائے کرام اور محققین کی تحقیق کے نچوڑ سے ہی کوئی اصول بنتا ہے۔ 

اوپر سنی مناظر یہ اصول ثابت کرچکے ہیں کہ شیعہ راوی اگر اپنے مذہب کی تائید میں کوئی روایت بیان کرے گا تو اسے مسترد کیا جائے گا، اس کے باوجود شیعہ مناظر بضد ہیں کہ کسی محقق سے ثابت کیا جائے۔ 

علمائے کرام  نے دو راویوں عطیہ اور فضیل کا شیعہ راوی ہونا بیان کردیا ہے، کیا یہ ان کی طرف سے مارک کرنا نہیں ہے؟ محققین نے ایک اصول بنادیا ہے کیا یہ مارک کرنا نہیں ہے؟

اس کے علاوہ شیعہ مناظر کو اس روایت میں بیان کی گئی بات (عطائے فدک) بدعت نہیں لگ رہی۔۔ جبکہ یہ بات دین میں ایک ایسا اضافہ ہے جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، اس کے علاوہ سنی مناظر دوسری ایک صحیح السند روایت پیش کرتے ہوئے یہ بھی ثابت کر رہے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فدک مانگنے کے باوجود سیدہ فاطمہؓ کو نہیں دیا۔ 

اب شیعہ مناظر کی ذمہ داری ہے کہ فدک اگر واقعی عطا کیا گیا تھا تو یہ روایت کس طرح صحیح ہوسکتی ہے؟ 

اگر عطیہ اور فضیل کی روایت سچ ہے تو دوسری روایت اہل سنت اصول کے تحت صحیح کیسے ہوسکتی ہے؟ شیعہ مناظر مدعی ہیں اور ان پر لازم ہے کہ اہل سنت اصولوں کے تحت پہلی دلیل پر حجت تمام کریں۔



 


      یہ اسکین پیش کرنے کے باوجود شیعہ مناظر کو اس عبارت کی ککھ سمجھ نہیں آئی۔ واضح طور پر بدعت کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں۔

 

-1 تشیع میں    ⬅️  غلو/ تحریف کی موجودگی  

 -2 تشیع میں   ⬅️  غلو/ تحریف کی غیر موجودگی

اب کچھ تابعین و تبع تابعین میں دوسری قسم کی بدعت موجود تھی، اس کے باوجود وہ ثقہ تھے۔ اس لئے ان کی روایات قبول کی جاتی ہیں لیکن ایک اصول بنادیا گیا کہ ایسے دوسری قسم کے بدعت کرنے والے اگر کوئی روایت تشیع کی تائید میں بیان کریں تو مسترد کی جائے گی۔ 

یہ اصول پہلی قسم کے لئے تھوڑی بنایا گیا ہے، کیونکہ تشیع میں غلو کرنے والے ثقہ تسلیم نہیں کئے جاتے، اور نہ ہی ان کی روایات صحیحین میں موجود ہیں۔ عبارت میں واضح لکھا ہوا ہے کہ تابعین و تبع تابعین میں دوسری قسم کی بدعت پائی جاتی تھی۔  


شیعہ مناظر: مقالات زی  جو راوی ثقہ ہو اس پر شیعہ یا غیر شیعہ کی جرح کر کے روایت کو ناقابل قبول سمجھنا غلط بات ہے۔


((من روی عني حدیثًا وھو یری أنہ کذب فھوأحد الکاذبین))

جس نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی اور وہ جانتا ہے کہ یہ روایت جھوٹی (میری طرف منسوب) ہے تو یہ شخص جھوٹوں میں سے ایک یعنی کذاب ہے۔

(مسند علی بن الجعد: 140 وسندہ صحیح، صحیح مسلم: 1)

اس کے علاوہ اس جھوٹ سے واضح طور پر شیعہ کی تائید اور صحابہ کرام کا دین و ایمان زد میں آتا ہے!! بظاہر بدعت مکفرہ نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے اثرات بدعت مکفرہ تک پہنچتے ہیں۔


شیعہ مناظر: معاویہ صاحب فضیل بھی ثقہ راوی ہے آپ کو بدعت ثابت کرنا ہوگی روایت میں 
فضیل کا جواب یہ ہے 


شیعہ مناظر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اہل سنت کے ہاں شیعہ راوی کی روایت مطلقآ قبول کی جاتی ہے!! 

جبکہ اس اسکین میں بھی ایسا کچھ بیان نہیں ہوا!! بلکہ واضح لکھا ہوا ہے کہ بدعت مکفرہ اگر شیعہ راوی بیان کرے گا تو قبول نہیں کی جائے گی۔

فدک کا عطا کرنا براہ راست نبی کریمﷺ اور سیدہ فاطمہؓ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((من یقل عليّ ما لم أقل فلیتبوأ مقعدہ من النار))

جس شخص نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا (جہنم کی) آگ میں بنا لے۔

(صحیح بخاری: 109)



شیعہ مناظر: فضیل کو صدوق حسن الحدیث کہا گیا ہے۔
معاویہ صاحب آپ کو یہ بات پھر واضح کرتا چلوں کہ آپ کی تاویل قابل قبول نہیں ہوگی آپ نے اعتراض اٹھایا کہ عطیہ بدعت کرتا تھا اس روایت میں کہاں بدعت ہے۔
معاویہ صاحب آپ کے محققین و محدثین کسی راوی کو شیعہ کس بناء پر قرار دیتے تھے اور روایت میں بدعت ثابت کر۔

سنی مناظر: سب سے پہلی بات تو یہ کہ کسی راوی کو شیعہ کہنا کوئی جرح نہیں جو آپ توثیقات بھیجا شروع ھو گئے۔ اس لیے فضیل وغيره کی توثیق بھیج کر وقت ضائع مت کریں.

دوسرا یہ کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ فدک کا ہبہ کیا جانا اھل السنت کا نہیں شیعہ کا مسلک ھے یہی تو بدعت ہے اس کی.

ایک تو محدثین نے واضح شیعہ لکھا ہے فضیل اور عطیہ کو اور دوسرا انہی سے فدک ہبہ ہونے والی بات ہے. تو ان کی بات اصول کے مطابق مردود ہوئی.
اور یہ اصول تو شیعہ مذھب کا بھی ہے کہ ثقہ غیر اثنا عشری کی روایت قبول ہے لیکن جب روایت اس کے مذھب کی تائید میں ہو تو قبول نہیں.
میں حوالہ بھیج رہا ہوں شیعوں کے شھید ثانی زین الدین العاملی کی الرعایۃ سے۔


 


   اس وقت نکتہ گفتگو یہ تھا کہ ایک راوی اگر ثقہ بھی اور شیعہ بھی ہو تو اہل سنت کے ہاں مطلقآ اس کی روایات قبول کی جاتی ہیں یا نہیں؟ 

سنی مناظر نے اپنے دلائل سے دو باتیں ثابت کردیں۔

 -1راوی اگر شیعہ ہو تو مطلقآ اس کی تمام روایات قابل قبول نہیں ہوتیں کیونکہ اصول موجود ہے کہ شیعیت کی تائید میں شیعہ راوی کی روایات مسترد کی جائیں گی اگرچہ وہ ثقہ ہی کیوں نہ ہو۔ 

شیعہ مناظر کو ثابت کرنا تھا کہ یہ اصول اہل سنت کے ہاں نہیں ہے اور اگر فدک واقعی عطا کیا گیا تھا اس کی تائید میں مزید دلائل پیش کئے جاتے۔

شیعہ مناظر نے اصل نکتہ پر گفتگو کے بجائے یہ سوال پوچھا کہ محدثین کسی راوی کو شیعہ کس طرح قرار دیتے تھے؟

یہ سوال دوران مناظرہ پوچھنا اصل موضوع سے فرار ہونے کے مترادف ہے کیونکہ مناظرہ پہلے سے دونوں مسالک کے طئہ شدہ اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔

صفحہ 1 از 3