شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

شیعہ اعتراض: قریش مکہ کے بائیکاٹ کے دوران نبی کریم کے ساتھ تمام بنی ہاشم نے تین برس کا عرصہ شعب ابی طالب میں کٹھن تکالیف سے گذارا، اس وقت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق کہاں تھے؟

 شعب ابی طالب میں شیخین کریمین (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق) کی عدم شرکت کا دعویٰ باطل و مردود ہے۔

 جب نبی کریم کو تکلیف دینے کے لئے قریش مکہ جمع ہوئے تو انہوں نے ایک عہدنامہ لکھا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مشکل ترین وقت میں بھی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ شعب ابی طالب کے واقعہ کا سبب ہی حضرت عمر فاروق اور دیگر صحابہ کرامؓ کا قبول اسلام تھا۔

  تاریخ کی کئی معتبر کتب سے ان حقائق کی تصدیق ہوتی ہے 

شعب ابی طالب 7 نبوی 

اعلان نبوت کے ساتویں سال 7 نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جیسے بہادرانِ قریش بھی دامن اسلام میں آ گئے تو غیظ و غضب میں یہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور تمام سرداران قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں۔ چنانچہ اس خوفناک تجویز کے مطابق تمام قبائل قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالہ نہ کر دیں

1: کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے۔

2: کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کے سامان کی خریدوفروخت نہ کرے۔

3: کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے۔

4: کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔

منصور بن عکرمہ نے اس معاہدہ کو لکھا اور تمام سرداران قریش نے اس پر دستخط کر کے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔ ابو طالب مجبوراً حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے تمام خاندان والوں کو لے کر پہاڑ کی اس گھاٹی میں جس کا نام ”شعب ابی طالب” تھا پناہ گزین ہوئے۔ ابولہب کے سوا خاندان بنو ہاشم کے کافروں نے بھی خاندانی حمیت و پاسداری کی بنا پر اس معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ و تاریک درہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اور یہ تین برس کا زمانہ اتنا سخت اور کٹھن گزرا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے۔اور ان کے بچے بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات رویا کرتے تھے۔ سنگدل اور ظالم کافروں نے ہر طرف پہرہ بٹھا دیا تھا کہ کہیں سے بھی گھاٹی کے اندر دانہ پانی نہ جانے پائے۔ (زرقانی علی المواهب جلد 1 صفحہ 278)

مسلسل تین سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم ان ہوش ربا مصائب کو جھیلتے رہے یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دلوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پر رحم آ گیا اور ان لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی۔ چنانچہ ہشام بن عمرو عامری، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری، زمعہ بن الاسود وغیرہ یہ سب مل کر ایک ساتھ حرم کعبہ میں گئے اور زہیر نے جو عبدالمطلب کے نواسے تھے کفار قریش کو مخاطب کرکے اپنی پر جوش تقریر میں یہ کہا کہ اے لوگو! یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم کے بچے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر بلبلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم! جب تک اس وحشیانہ معاہدہ کی دستاویز پھاڑ کر پاؤں سے نہ روند دی جائے گی میں ہرگز ہرگز چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ تقریر سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ خبردار! ہرگز ہرگز تم اس معاہدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ زمعہ نے ابوجہل کو للکارا اور اس زور سے ڈانٹا کہ ابوجہل کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی خم ٹھونک کر ابوجہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابوجہل! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب ہم اس کے پابند ہیں۔

اسی مجمع میں ایک طرف ابو طالب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے لوگو! میرے بھتیجے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کہتے ہیں کہ اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھا ڈالا ہے اور صرف جہاں جہاں خدا کا نام لکھا ہوا تھا اس کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے جب تو اس کو چاک کرکے پھینک دو۔ اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی بجز اللہ تعالیٰ کے نام کے پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ مطعم بن عدی نے سب کے سامنے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اور پھر قریش کے چند بہادر باوجودیکہ یہ سب کے سب اس وقت کفر کی حالت میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندان بنو ہاشم کے ایک ایک آدمی کو وہاں سے نکال لائے اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔ یہ واقعہ 10 نبوی کا ہے۔ منصور بن عکرمہ جس نے اس دستاویز کو لکھا تھا اس پر یہ قہر الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کا ہاتھ شل ہو کر سوکھ گیا۔

(مدارج النبوة جلد 2 صفحہ 42)

 عام الحزن (غم کا سال) 10 نبوی

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم “شعب ابی طالب” سے نکل کر اپنے گھر میں تشریف لائے اور چند ہی روز کفار قریش کے ظلم و ستم سے کچھ امان ملی تھی کہ ابو طالب بیمار ہو گئے اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ مہینے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

صفحہ 1 از 2