شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

ابو طالب کی وفات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھا کیونکہ بچپن سے جس طرح پیار و محبت کے ساتھ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر جس جاں نثاری کے ساتھ آپ کی نصرت و دستگیری کی اور آپ کے دشمنوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جس طرح آلام و مصائب کا مقابلہ کیا اس کو بھلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بھول سکتے تھے۔

سیدنا خدیجہ الکبریٰؓ کی وفات:

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر ابھی ابو طالب کے انتقال کا زخم تازہ ہی تھا کہ ابو طالب کی وفات کے تین دن یا پانچ دن کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی دنیا سے رخصت فرما گئیں۔ مکہ میں ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ جس ہستی نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ذات گرامی تھی۔ جس وقت دنیا میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخلص مشیر اور غمخوار نہیں تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی تھیں کہ ہر پریشانی کے موقع پر پوری جاں نثاری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غمخواری اور دلداری کرتی رہتی تھیں اس لئے ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں کی وفات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار اور غمگسار دونوں ہی دنیا سے اٹھ گئے جس سے آپﷺ کے قلب نازک پر اتنا عظیم صدمہ گزرا کہ آپﷺ نے اس سال کا نام “عام الحزن” (غم کا سال) رکھ دیا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رمضان 10 نبوی میں وفات پائی۔ بوقت وفات پینسٹھ برس کی عمر تھی۔ مقام حجون (قبرستان جنت المعلیٰ) میں مدفون ہوئیں۔ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اترے اور اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کی لاش مبارک کو زمین کے سپرد فرمایا۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 296)

تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے رسول اللہﷺ سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لیا تھا اس بائیکاٹ کا عرصہ تین سال ہے حضرت ابوطالب تمام بنی ہاشم کو شعب ابی طالب میں لے گئے تھے یہ تین برس کا عرصہ بنی ہاشم نے نہایت عسرت اور کٹھن تکالیف سے گزارا ان تین سال کے دوران حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کہاں تھے اگر یہ بزرگ مکہ میں ہی تھے تو انہوں نے حضرت کا ساتھ کیوں نہ دیا اور اگر شعب ابی طالب میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ جا سکے تو کیا کسی وقت ان بزرگوں نے  آب ودانہ ہی کی کوئی رسول اللہﷺ کی مدد کی جبکہ کفار مکہ میں سے زہیر ابن امیہ بن مغیرہ نے پانی اور کھانے پہنچانے اور عہدنامے کو توڑنے پر دوستوں کو آمادہ کیا

الجواب:

شعب ابی طالب کے واقعہ میں شیخین (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدم شرکت کا دعویٰ ہی باطل و مردود ہے اس لیے کہ اس نے اپنے گمان فاسدہ سے یہ تحریر کیا ہے اس نے اپنے دعوے کی دلیل میں کوئی صریح بسند صحیح روایت نقل نہیں کی ہے اس لیے کہ ائمہ نے شعب ابی طالب کے حالات بیان فرماتے ہوئے صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جب رسول ﷺ کی ایذا رسائی پر قریش مجتمع ہوگئے اور انہوں نے ایک صحیفہ لکھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مشکل ترین وقت میں رسول ﷺ کے ساتھ تھے اس وجہ سے جناب ابو طالب نے اس واقعے کو بصورت شعر ذکر کیا ہے جس میں سرکار دو عالم کے ساتھ سرکار سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہونا صراحت کے ساتھ مذکور ہے

وھم رجعواسھل بن بیضاراضیا

فسر ابوبکر بھا ومحمد

جناب ابوطالب نے کہا قبیلہ قریش نے سہل بن بیضاء کو راضی کرکے واپس کیا ایک جماعت قریش کی صحیفے کے نقص اور توڑنے کے لیے کھڑی ہو گئیں ان میں سہل ابن بیضاء بھی تھا

جنہوں نے ابھی قبول اسلام نہ کیا تھا بعد میں مسلمان ہوئے پس اس بات پر رسول اللہﷺ بھی راضی ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسرور ہوئے۔

ازالۃ الخفاء جلد 2 صفحہ 110 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ

دیگر محدثین نے بھی اس واقعہ کو نقل کیا ہے مذکورہ شعر کے ساتھ

حوالہ جات

البدایہ والنہایہ جلد 3 صفحہ 98

سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 379

الاستیعاب جلد 2 صفحہ 92

معلوم ہوا کہ شیعہ کا یہ ہے مذکورہ اعتراض بر بنائے جہالت و خباثت ہے اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اختصار مانع ہونے کی وجہ سے ہم نے صرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہی ذکر کیا ہے یہ بات قابل غور ہے کہ شعب ابی طالب کا واقعہ کا سبب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرامؓ کا قبول اسلام تھا۔
دیکھئے طبری جلد 2 صفحہ 335 البدایہ صفت جلد 3 صفحہ 79

روضة الصفاء اللشعیی میں بھی یہی مذکور ہے  جلد 2 صفحہ 49

پھر دوسری بات یہ ہے کہ عدم ذکر عدم شے کو مستلزم نہیں ہوا کرتا شیعہ کا یہ کہنا بغیر دلیل کے باطل ومردود ہے۔


صاف اسکینز

1

2

3

4


صفحہ 2 از 2