Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات اس حد تک گہرے تھے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہی مرض الموت میں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کرتی تھیں، دم نکلنے تک ان کے ساتھ رہیں، سیدہ فاطمہؓ کے غسل اور آخری آرام گاہ تک بھیجنے میں برابر شریک رہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بذات خود ان کی دیکھ بھال کرتے تھے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اس سلسلے میں ان سے تعاون کرتی تھیں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو اپنے تکفین و تدفین اور جنازے سے متعلق چند وصیتیں کی تھیں، چنانچہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان پر عمل کیا۔ 

(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 77)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے نزدیک یہ چیز معیوب ہے کہ عورت کے جنازے پر کپڑا اس طرح ڈال دیا جائے کہ اس کے نیچے اس کے جسم کا پتہ چلے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر میں نے جو کچھ سرزمین حبشہ میں دیکھا ہے آپ کو بتلاتی ہوں، پھر چند تازہ ٹہنیاں منگائیں، انھیں جھکایا، اور ان پر کپڑا ڈال دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ بہت اچھی چیز ہے، اس سے عورتوں اور مردوں کے مابین تمیز ہوجائے گی۔ 

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 378)

ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اسلام میں وہ پہلی شخصیت ہیں جن کی نعش کو ڈھانپا گیا، پھر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہیں، ایک طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شیعوں کے زعم کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے برابر ملتے رہتے تھے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے حالات معلوم کرتے رہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پانچوں نمازیں مسجد نبوی میں ادا کرتے تھے، جب نماز سے فارغ ہوتے تو سیدنا ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما ان سے فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر کا کیا حال ہے؟

دوسری طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ان کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، اس لیے کہ وہی حقیقتاً ان کی تیمارداری اور دیکھ بھال کرنے والی تھیں، جس دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، مدینے کے تمام مرد اور عورتیں رو پڑیں، اور لوگ حواس باختہ ہوگئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہوا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دلاسہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے ابوالحسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے جنازے کی نماز میں ہمارا انتظار کرنا۔ 

(الشیعۃ و أہل البیت: صفحہ 77۔ کتاب سلیم بن قیس: صفحہ 255)

ان کی وفات تین رمضان 11ھ کو منگل کی رات میں ہوئی، سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مغرب و عشاء کے مابین ہوا، سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، زبیر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم آئے، جب ان کے جنازے کو نماز کے لیے رکھا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر صدیق آگے بڑھیے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ اے ابوالحسن؟ کہا: ہاں اللہ کی قسم، آپ کے علاوہ کوئی دوسرا ان کے جنازے کی نماز نہیں پڑھائے گا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے جنازے کی نماز پڑھائی، انھیں رات میں دفن کیا گیا، ایک دوسری روایت میں وارد ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جنازے کی نماز پڑھائی اور چار مرتبہ اللہ اکبر کہا۔ 

(المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 168 اس کی سند میں ضعف ہے۔)

صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق جنازے کی نماز سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور یہی راجح روایت ہے۔ 

(صحیح مسلم: رقم: 1759)

بعض شیعی کتابوں میں پائی جانے والی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی یہ وصیت کہ ایسے لوگ جنھوں نے ان کے اور ان کے والد کے دشمن ہونے کے باعث ان پر ظلم کیا اور ان کا حق نہیں دیا وہ ان کی قبر پر نہ جائیں، سراسر باطل ہے، یہ روایتیں صحیح نہیں بلکہ موضوع و من گھڑت ہیں جیسا کہ ’’حیاۃ الامام الحسن بن علی رضی اللہ عنہما ‘‘ کے مؤلف نے ذکر کیا ہے۔

(حیاۃ الامام الحسن بن علی: لباقر القرشی: جلد 1 صفحہ 164)